حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، «احکام منتظر» محسن احمدی کی تحریر ہے۔ یہ مضمون اس سے قبل ماہنامہ افق خانواده میں شائع ہو چکا ہے۔ اس تحریر میں فقہی اور اعتقادی نقطۂ نظر سے ائمہ اطہار علیہم السلام بالخصوص امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے متعلق بعض شرعی احکام بیان کیے گئے ہیں اور دینی طرزِ زندگی میں تولیٰ اور تبریٰ کے مقام کی یاد دہانی کرائی گئی ہے۔
شیعہ فقہ میں تولیٰ اور تبریٰ صرف اخلاقی سفارش نہیں بلکہ نماز اور روزے کی طرح ایک شرعی فریضہ ہے۔ اہل بیت علیہم السلام سے محبت محض ایک قلبی احساس یا جذباتی وابستگی نہیں، بلکہ قرآن و سنت کی روشنی میں ایک دینی ذمہ داری ہے۔
قرآن کریم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کا اجر اہل بیت علیہم السلام کی مودت کو قرار دیا ہے جبکہ متعدد روایات میں اہل بیت علیہم السلام کی ولایت اور محبت کو اعمال کی قبولیت اور ایمان کے کمال کا معیار بیان کیا گیا ہے۔
اہل بیت علیہم السلام سے حقیقی محبت صرف زبانی دعوے یا جذباتی وابستگی کا نام نہیں، بلکہ ان کی تعلیمات، سیرت اور احکام کی عملی پیروی کا تقاضا کرتی ہے۔ جو محبت اطاعت، تقویٰ اور عملی التزام سے خالی ہو، وہ اپنے حقیقی مقصد کو پورا نہیں کرتی۔
تولیٰ یعنی اولیائے الٰہی سے محبت اور تبریٰ یعنی دشمنانِ خدا سے براءت، شیعہ فقہ کے بنیادی ارکان میں شمار ہوتے ہیں اور ان کے ذریعے مومن اپنی دینی شناخت، اعتقادی وابستگی اور عملی راستے کا تعین کرتا ہے۔
اہل بیت علیہم السلام کی محبت انسان کو ایمان، تقویٰ، اخلاص اور صالح اعمال کی طرف رہنمائی کرتی ہے جبکہ ان کی سیرت پر عمل ہی اس محبت کی سچائی کا حقیقی معیار ہے۔









آپ کا تبصرہ