جمعہ 24 جولائی 2026 - 13:58
قرآن و اہلِ بیت اکیڈمی کمنگو؛ علم کی شمع اور معاشرتی ترقی کی جانب ایک مؤثر قدم

حوزہ / آج کے ڈیجیٹل دور میں، جب سوشل میڈیا کی رنگا رنگ دنیا نے نوجوان نسل کو کتابوں سے دور کر دیا ہے، ایسے ماحول میں ضلع کھرمنگ کے خوبصورت گاؤں کمنگو سے علم و آگہی کی ایک روشن کرن طلوع ہوئی ہے جس نے اہلِ علم و فکر کے دلوں میں امید کی نئی شمع روشن کر دی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجتبیٰ حسین، متعلم جامعۃ النجف سکردو نے حوزہ نیوز کے نمائندہ کو "قرآن و اہلِ بیت اکیڈمی کمنگو، بلتستان" کی دینی و تربیتی خدمات پر مبنی ایک مستند تحریر ارسال کی ہے۔ جسے حوزہ نیوز کے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے:

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی بھی قوم کی ترقی و زوال کا دار و مدار اس کے علم، ادب، کتاب دوستی اور مطالعے کے ذوق پر ہوتا ہے۔ وہ معاشرے جہاں کتاب کی قدر کی جاتی ہے، مطالعے کی روایت زندہ رہتی ہے اور علم کو زندگی کا سرمایہ سمجھا جاتا ہے، وہ فکری، اخلاقی اور تہذیبی اعتبار سے ہمیشہ مضبوط رہتے ہیں۔ اس کے برعکس، جہاں مطالعے کا شوق ماند پڑ جائے وہاں فکری جمود اور اخلاقی انحطاط جنم لینے لگتا ہے۔

آج کے ڈیجیٹل دور میں، جب سوشل میڈیا کی رنگا رنگ دنیا نے نوجوان نسل کو کتابوں سے دور کر دیا ہے، ایسے ماحول میں پاکستان کے شمال میں واقع بلتستان، ضلع کھرمنگ کے خوبصورت گاؤں کمنگو سے علم و آگہی کی ایک روشن کرن طلوع ہوئی ہے جس نے اہلِ علم و فکر کے دلوں میں امید کی نئی شمع روشن کر دی ہے۔

قرآن و اہلِ بیت اکیڈمی؛ علم دوستی کا خوبصورت اقدام

قرآن و اہلِ بیت اکیڈمی کمنگو، بلتستان نے مطالعے کے شوقین افراد کے لیے ایک قابلِ قدر اور مثالی خدمت انجام دی ہے۔ اکیڈمی کی جانب سے مختلف اسلامی موضوعات پر مشتمل قیمتی، مستند اور نایاب کتابیں عوام کے لیے دستیاب کر دی گئی ہیں، تاکہ ہر طالبِ علم، محقق اور مطالعہ پسند شخص ان سے استفادہ کر کے اپنے علمی و فکری افق کو وسعت دے سکے۔

یہ اقدام نہ صرف مطالعے کے فروغ کا ذریعہ ہے بلکہ علاقے میں دینی شعور، فکری بیداری اور علمی ذوق کو پروان چڑھانے کی ایک مؤثر کوشش بھی ہے۔

قرآن و اہلِ بیت اکیڈمی کمنگو؛ علم کی شمع اور معاشرتی ترقی کی جانب ایک مؤثر قدم

شیخ نصر اللہ فخر الدین؛ علم و آگہی کے سفیر

اس بابرکت علمی مہم کے پسِ منظر میں ایک مخلص، درد مند اور دوراندیش شخصیت، شیخ نصراللہ فخرالدین، کی فکر اور محنت کار فرما ہے۔

آج جب دنیا مادّی منفعت اور ذاتی آسائشوں کی دوڑ میں مصروف ہے، ایسے وقت میں شیخ نصراللہ فخرالدین نے معاشرے کی فکری، اخلاقی اور دینی آبیاری کو اپنی ترجیح بنایا۔ انہوں نے اس حقیقت کو بخوبی محسوس کیا کہ اگر نئی نسل کو فکری انتشار اور اخلاقی زوال سے محفوظ رکھنا ہے تو اسے قرآن، اہلِ بیتؑ کی تعلیمات اور مفید کتابوں سے جوڑنا ہوگا۔

ان کی یہ خدمت صرف کمنگو تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ایک قابلِ تقلید نمونہ ہے۔

کتاب دوستی کے فروغ کی ایک عملی مثال

اکیڈمی کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ کتابوں کو صرف لائبریری کی الماریوں تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ مطالعہ کرنے والوں کو انہیں گھر لے جانے کی بھی اجازت دی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد علم کے اس خزانے سے فیض یاب ہو سکیں۔

اسی طرح اکیڈمی میں ایک پُرسکون، منظم اور سازگار مطالعہ گاہ بھی قائم کی گئی ہے، جہاں طلبہ و طالبات یکسوئی کے ساتھ مطالعہ اور تحقیق میں مصروف رہتے ہیں۔ یہ سہولت علاقے میں علمی ماحول کو فروغ دینے کی ایک اہم کوشش ہے۔

قرآن و اہلِ بیت اکیڈمی کمنگو؛ علم کی شمع اور معاشرتی ترقی کی جانب ایک مؤثر قدم

ہماری ذمہ داری

اکیڈمی اور اس کے ذمہ داران نے اپنی ذمہ داری خوش اسلوبی سے نبھا دی ہے، مگر اب ان قیمتی علمی سرمایوں کی حفاظت، امانت داری اور بروقت واپسی ہم سب کی شرعی، اخلاقی اور سماجی ذمہ داری ہے۔

کتابیں محض کاغذ کے چند اوراق نہیں ہوتیں بلکہ کسی مفکر، محقق یا عالم کی برسوں کی محنت، فکر اور تجربے کا نچوڑ ہوتی ہیں۔ ان کی حفاظت درحقیقت علم کی حفاظت ہے اور علم کی حفاظت ہی ایک باشعور معاشرے کی پہچان ہے۔

یقین ہے کہ کمنگو کے باشعور عوام اس عظیم علمی خدمت سے بھرپور استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ امانت داری اور ذمہ داری کی بہترین مثال بھی قائم کریں گے۔

حرفِ آخر

قرآن و اہلِ بیت اکیڈمی کمنگو کا یہ اقدام خطے میں دینی آگہی، علمی شعور اور فکری بیداری کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔ ایسے ادارے اور شخصیات معاشروں کی خاموش مگر حقیقی معمار ہوتی ہیں، جو آنے والی نسلوں کے لیے علم و معرفت کی بنیادیں استوار کرتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ حجۃ الاسلام شیخ نصراللہ فخرالدین اور ان کے تمام رفقاء کی اس مخلصانہ کاوش کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے علم، عمل اور خدمات میں برکت دے اور اس اکیڈمی کو ہمیشہ علم، ہدایت اور شعور کا ایسا چشمہ بنائے جس سے آنے والی نسلیں مسلسل فیض یاب ہوتی رہیں۔ آمین۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha