حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،کشمیر/ شہزادیِ کربلا حضرت سکینہ بنت الحسینؑ کی المناک شہادت کی مناسبت سے مسجد امام علی ابن ابیطالبؑ گنڈ ابراھیم کشمیر میں ایک پُراثر مجلسِ عزا منعقد ہوئی، جس سے ممتاز عالمِ دین مولانا سید تنویر حسین الموسوی نے خطاب کیا۔
مولانا سید تنویر حسین الموسوی نے اپنے خطاب میں حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا کی حیاتِ مبارکہ، صبر و استقامت، اہلِ بیتؑ کی اسیریِ شام کے المناک واقعات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ واقعۂ کربلا انسانیت کے لیے حق و باطل کے درمیان واضح معیار ہے، جبکہ حضرت سکینہؑ کی زندگی صبر، حوصلے، عزتِ نفس اور دینِ الٰہی سے وابستگی کی روشن مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ کم سنی کے باوجود حضرت سکینہؑ نے جس صبر، استقامت اور ایمانی قوت کا مظاہرہ کیا، وہ رہتی دنیا تک اہلِ ایمان خصوصاً نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آج کے دور میں اہلِ بیتِ اطہارؑ کی تعلیمات کو اپنانا ہی معاشرے میں اتحاد، اخوت، عدل، اخلاق اور دینی اقدار کے فروغ کا بہترین ذریعہ ہے۔
مولانا موصوف نے مزید کہا کہ مجالسِ عزا کا مقصد صرف غمِ حسینؑ کا اظہار نہیں بلکہ سیرتِ اہلِ بیتؑ کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنا، ظلم و ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنا اور دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات کو عام کرنا ہے۔

مجلس کے اختتام پر حضرت سکینہ بنت الحسینؑ، شہدائے کربلا اور جملہ شہدائے اسلام کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ اس موقع پر عالمِ اسلام، اتحادِ امتِ مسلمہ، امنِ عالم اور تعجیلِ ظہورِ حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔ مجلس میں مؤمنین نے شرکت کی۔









آپ کا تبصرہ