حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ قم کے استاد حجت الاسلام والمسلمین سید محسن آزادی نے کہا ہے کہ راہِ خدا میں اخلاص کے ساتھ کیا جانے والا انفاق انسان کو حکمتِ الٰہی جیسی عظیم نعمت سے بہرہ مند کرتا ہے، جسے قرآن کریم نے "خیرِ کثیر" قرار دیا ہے۔
حرمِ حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا میں درسِ تفسیر قرآن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محرم اور صفر کے مہینے شعائرِ الٰہی کی ترویج، اہل بیت علیہم السلام کی خدمت، زائرین کی میزبانی اور ضرورت مندوں کی مدد کے بہترین مواقع ہیں۔ ان کے مطابق، یہ تمام اعمال راہِ خدا میں انفاق کی اعلیٰ مثالیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کا عظیم اجر ہے۔
انہوں نے سورۂ بقرہ کی آیات 261 تا 274 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انفاق کو ایسی سرسبز و شاداب کھیتی سے تشبیہ دی ہے جو بارش کے بعد کئی گنا زیادہ پھل دیتی ہے۔ اسی طرح اللہ کی رضا کے لیے خرچ کیا گیا مال بھی بے شمار برکتوں اور اجر کا سبب بنتا ہے۔
حجت الاسلام آزادی نے کہا کہ شیطان انسان کو غربت کا خوف دلا کر انفاق سے روکتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اس کے مقابلے میں مغفرت، رزق میں وسعت اور کئی گنا بہتر اجر کا وعدہ فرماتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انفاق ہمیشہ پاکیزہ اور بہترین مال سے ہونا چاہیے، کیونکہ اسی صورت میں اس کی حقیقی قدر و قیمت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انسان کے پاس موجود نعمتیں اللہ کی امانت ہیں، اگر انہیں رضائے الٰہی کے راستے میں خرچ نہ کیا جائے تو ان کی برکت ختم ہو سکتی ہے۔









آپ کا تبصرہ