حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے اعلان کیا ہے کہ غزہ میں گزشتہ اکتوبر جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں کم از کم 300 فلسطینی بچے شہید ہو چکے ہیں، جبکہ مسلسل حملوں اور سنگین بحران کے باعث اس محصور خطے کے بچوں کی جانیں بدستور شدید خطرے میں ہیں۔
یونیسف نے جمعرات کو بتایا کہ گزشتہ اکتوبر جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 300 بچے شہید ہوئے ہیں۔ ادارے نے خبردار کیا کہ اسرائیلی حملوں کا جاری رہنا اور انسانی حالات کی مسلسل بگڑتی صورت حال بچوں کو شدید خطرات سے دوچار کر رہی ہے۔
مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لیے یونیسف کے علاقائی ڈائریکٹر ایڈورڈ بیگبدر نے کہا کہ ایسی جنگ بندی جس کے دوران روزانہ اوسطاً ایک بچہ مارا جائے، بچوں کے تحفظ میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیکڑوں دیگر بچے زخمی بھی ہوئے ہیں، جن میں سے بہت سے تشویش ناک حالت میں ہیں۔ ان کے بقول غزہ کے بچے اب بھی اس تشدد کے خاتمے کے منتظر ہیں جس کے ختم ہونے کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔
یونیسف کے مطابق غزہ کی تقریباً ایک تہائی پٹی میں بڑی تعداد میں لوگ غیر محفوظ حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ افراد تباہ شدہ عمارتوں، ملبے اور جمع شدہ کچرے کے درمیان اپنی زندگی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال نے خبردار کیا کہ غزہ کے بچے بدستور سنگین ہوتے انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں، جس میں شدید غذائی قلت، بیماریاں، صاف پانی تک محدود رسائی اور نکاسی آب کے نظام کو پہنچنے والے نقصانات شامل ہیں۔









آپ کا تبصرہ