حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ جوادی آملی نے درس اخلاق میں عبادت کی مختلف سطحوں اور گناہ کے بارے میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی عارفانہ نصیحتوں کو بیان کیا۔
انہوں نے کہا کہ عبادت کرنے والے تین قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو خوف کی وجہ سے خدا کی عبادت کرتے ہیں، دوسرے وہ جو جنت اور الٰہی اجر کی امید میں عبادت کرتے ہیں، جبکہ تیسرے وہ ہیں جو شکر اور اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے شوق میں عبادت کرتے ہیں۔ دعاؤں میں بھی یہی فرق پایا جاتا ہے؛ کچھ لوگ جہنم سے نجات، کچھ جنت اور کچھ اللہ تعالیٰ کی قربت کی دعا کرتے ہیں۔
آیت اللہ جوادی آملی نے کہا کہ حضرت علی علیہ السلام کبھی لوگوں کو عابدانہ، کبھی زاہدانہ اور کبھی عارفانہ انداز میں نصیحت فرماتے تھے۔ عارفانہ نصیحت میں گناہ کو صرف حرام اور جہنم کا سبب نہیں بتایا جاتا بلکہ اسے ایسی حقیقت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس کی باطنی حقیقت زہر اور گندگی ہے۔
انہوں نے حضرت عقیل کے واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جب عقیل نے بیت المال سے اضافی رقم لینے کی درخواست کی تو حضرت علی علیہ السلام نے گرم لوہے کے ذریعے انہیں احساس دلایا کہ دنیا کی معمولی گرمی برداشت نہیں ہوتی تو حرام مال کے نتیجے میں آخرت کی آگ کیسے برداشت ہوگی۔
اسی طرح اشعث بن قیس کے رشوت کے طور پر حلوہ لانے کے واقعے میں حضرت علی علیہ السلام نے اسے میٹھا نہیں بلکہ گندگی قرار دیا۔ آیت اللہ جوادی آملی کے مطابق یہ عارفانہ نصیحت تھی؛ یعنی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ رشوت حرام ہے، بلکہ انسان کو گناہ کی حقیقت کو اس قدر محسوس کرنا چاہیے کہ وہ اسے گندگی سمجھ کر اس سے دور رہے۔
انہوں نے کہا کہ انسان کو فقہ کے ذریعے حلال و حرام کی پہچان، عبادت کے ذریعے بندگی اور زہد کے ذریعے دنیا سے بے رغبتی حاصل کرنی چاہیے، لیکن اس سے بلند مقام یہ ہے کہ انسان کی باطنی بصیرت بیدار ہو جائے، وہ گناہ کی بدبو اور نیکی کی خوشبو کو محسوس کرنے کے قابل ہو جائے۔









آپ کا تبصرہ