حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ کی ریاست مشی گن میں واقع ایسٹ لانسنگ مسجد کے امام جماعت و جمعہ، سہیل چودھری نے علاقے میں بڑھتے ہوئے اسلام مخالف پروپیگنڈے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسلمانوں سے متحد ہوکر اس کا مقابلہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ علاقے کے مسلمان اسلاموفوبیا کا براہِ راست اور عملی طور پر سامنا کر رہے ہیں۔ بعض افراد رسول اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف نعرے لگانے اور توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے، جبکہ حالیہ عرصے میں یہ نفرت انگیز رویہ سوشل میڈیا تک بھی پہنچ گیا ہے۔
سہیل چودھری کے مطابق، مغربی مشی گن میں بعض سوشل میڈیا صارفین نے مسلمانوں کو ’’کینسر‘‘ اور ’’شرپسند‘‘ جیسے توہین آمیز القابات سے یاد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلاموفوبیا کے خلاف جدوجہد تمام طبقات کے لیے اہم ہے اور سب کو متحد ہوکر تعصب اور نفرت انگیزی کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے، کیونکہ خاموشی اختیار کرنے کی صورت میں یہ صورتحال مزید سنگین ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسٹ لانسنگ مسجد کے دروازے ہر اس شخص کے لیے کھلے ہیں جو مسلمانوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا یا ان سے براہِ راست گفتگو کرنا چاہتا ہے۔
مشی گن یونیورسٹی کی پروفیسر نازیتا لاجوردی، جو اسلاموفوبیا اور یہود دشمنی پر تحقیق کرتی ہیں، نے بھی ان واقعات کو وسیع تر رجحان کا حصہ قرار دیا۔ ان کے مطابق مسلمان برادری کو تعصب اور نفرت پر مبنی جرائم کی ایک بڑھتی ہوئی سطح کا سامنا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات سمیت مختلف عوامل نے حالیہ برسوں میں مسلمانوں کے خلاف تعصب میں اضافے میں کردار ادا کیا ہے۔









آپ کا تبصرہ