بدھ 29 جولائی 2026 - 08:59
امریکہ کی سابق سینیٹر پر اسلام اور فلسطین دشمنی پھیلانے کا الزام

حوزہ/ امریکہ کی سابق سینیٹر نوا پریس پر اسلام دشمنی اور فلسطین مخالف نفرت انگیز مواد پھیلانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ آسٹریلیا کے مسلمانوں کی حمایت کرنے والے ادارے امان (Aman) نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے فلسطینی عوام کے خلاف توہین آمیز اور غیر انسانی بیانات پر مبنی متعدد سوشل میڈیا پوسٹس شیئر کیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ کی سابق سینیٹر نوا پریس پر اسلام دشمنی اور فلسطین مخالف نفرت انگیز مواد پھیلانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ آسٹریلیا کے مسلمانوں کی حمایت کرنے والے ادارے امان (Aman) نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے فلسطینی عوام کے خلاف توہین آمیز اور غیر انسانی بیانات پر مبنی متعدد سوشل میڈیا پوسٹس شیئر کیں۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے حامی بعض افراد نے مختلف مواقع پر سوشل میڈیا کے ذریعے فلسطینی عوام کے خلاف نفرت انگیز مواد نشر کیا، جن میں نوا پریس بھی شامل ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی ذاتی سوشل میڈیا پوسٹس میں فلسطینیوں کو "وحشی" اور "غیر مہذب" جیسے توہین آمیز الفاظ سے مخاطب کیا، جس پر انسانی حقوق کے حلقوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

آسٹریلیا میں مسلمانوں کی حمایت کرنے والے ادارے امان نے بتایا کہ اس نے اپریل 2024 سے مارچ 2026 کے دوران نوا پریس کے تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے شائع ہونے والی درجنوں ایسی پوسٹس جمع کی ہیں جنہیں ادارے نے نفرت انگیز اور غیر انسانی قرار دیا ہے۔

ادارے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان پوسٹس میں استعمال کی گئی زبان اور پیش کیے گئے تصورات نفرت انگیز مواد کے زمرے میں آتے ہیں اور متعلقہ قوانین کے مطابق ان کی اشاعت جرم تصور کی جا سکتی ہے۔ ان کے بقول اس قسم کے بیانات نہ صرف فلسطینی عوام کی تضحیک کرتے ہیں بلکہ معاشرے میں مذہبی اور نسلی نفرت کو بھی فروغ دیتے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نوا پریس اسرائیل کی حامی تنظیم "لیبر فرینڈز آف اسرائیل" کی نمایاں حامی ہیں اور وہ مسلسل اس تنظیم کی سرگرمیوں اور مؤقف کی حمایت کرتی رہی ہیں۔

نوا پریس اولمپک گولڈ میڈلسٹ، سابق سینیٹر اور آسٹریلیا کے اعلیٰ سول اعزاز آرڈر آف آسٹریلیا کی حامل بھی ہیں۔ انہیں سابق وزیرِاعظم ریاست وکٹوریہ ڈینیل اینڈریوز سمیت اسرائیل کے حامی سیاسی حلقوں کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ تاہم ان کے خلاف سامنے آنے والے حالیہ الزامات نے سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی روک تھام اور عوامی شخصیات کی ذمہ داری سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha