حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حضرت آیت اللہ سبحانی نے مدرسہ علمیہ میرزا جعفر میں منعقدہ مدرسہ ’’دارالعلم‘‘ کے طلبہ کے چوتھے علمی اعتکاف کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حضرت علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام کے روضۂ اقدس کے جوار میں موجود ہونے کی توفیق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اللہ تعالیٰ کی عنایات سے ایک یہ ہے کہ اس سال بھی ہمیں حضرت علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام کے جوار میں حاضری اور دوستوں کے ساتھ علمی مذاکرہ کرنے کی توفیق عطا ہوئی، ہم اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں۔
انہوں نے آیتِ کریمہ ’’وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِیَنفِرُوا کَافَّةً فَلَوْلَا نَفَرَ مِن کُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّیَتَفَقَّهُوا فِی الدِّینِ وَلِیُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَیْهِمْ لَعَلَّهُمْ یَحْذَرُونَ‘‘ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: جب سے علمِ اصول مرتب ہوا ہے، علماء نے اس آیت سے خبرِ واحد کی حجیت پر استدلال کیا ہے۔
حضرت آیت اللہ سبحانی نے مزید کہا: جن حضرات نے ’’رسائل‘‘ اور ’’کفایہ‘‘ پڑھا ہے، وہ اس آیت کی یہ تفسیر کرتے ہیں کہ اس کا خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہے اور آیت کا تعلق اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرار دیتے ہیں۔ دوسری جانب چونکہ یہ آیت جہاد کے بارے میں ہے، اس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جہاد کے بارے میں نازل ہونے والی آیت سے خبرِ واحد کی حجیت پر کیسے استدلال کیا جا سکتا ہے؟
انہوں نے مزید کہا: علماء کا بنیادی اشکال یہ ہے کہ انہوں نے آیت کے سیاق کو مدنظر رکھا ہے۔ یہ آیت جہاد سے متعلق آیات کے سیاق میں ہے اور اگر ہم اسے اسی دائرے میں محدود کر دیں تو اس آیت سے خبرِ واحد کی حجیت یا حوزہ علمیہ کے مسئلے میں استفادہ نہیں کر سکتے۔
اس مرجع تقلید نے مزید کہا: ایک روایت کی بنا پر میں اس آیت کو جہاد سے متعلق نہیں سمجھتا اور بالکل سیاق کو مدنظر نہیں رکھتا۔ ممکن ہے یہ آیت دو مرتبہ نازل ہوئی ہو؛ ایک مرتبہ جہاد کے سیاق میں اور دوسری مرتبہ مستقل طور پر، جیسا کہ بعض آیات مستقل طور پر دو مرتبہ نازل ہوئی ہیں۔
انہوں نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ یہ آیت صرف اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے متعلق نہیں ہے، کہا: یہ آیت تمام ادوار میں تمام مسلمانوں سے متعلق ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے مختلف علاقوں میں منتشر تمام مسلمان تعلیم حاصل کرنے کے لیے ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔ ایک مرکزی مقام ہونا چاہیے جہاں مسلمانوں میں سے ایک گروہ آئے، تعلیم حاصل کرے پھر اپنے علاقوں میں واپس جائے اور جو کچھ اس نے سیکھا ہے اسے دوسروں تک پہنچائے۔
حضرت آیت اللہ سبحانی نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ یہ آیت ایک سماجی اور علمی مسئلے سے متعلق ہے، کہا: تمام لوگ طالب علم اور حوزہ علمیہ کے طالب علم نہیں بن سکتے؛ لوگوں کے ایک گروہ کو علمی مرکز میں آنا چاہیے، تعلیم حاصل کرنی چاہیے پھر اپنے علاقوں میں واپس جا کر دوسروں کو تعلیم دینی چاہیے۔ اتفاق سے ہماری یہ علمی نشست بھی اسی آیت کا ایک مصداق ہے۔
انہوں نے مزید کہا: اگر ہم ایران کو سامنے رکھیں تو مغرب میں یزد اور مشرق میں سیستان و بلوچستان تک تمام علاقوں کو علما کی ضرورت ہے، لیکن سب لوگ تعلیم حاصل کرنے کے لیے یہاں نہیں آ سکتے۔ ضروری ہے کہ ایک مرکزی صوبے میں علمی مرکز ہو جہاں لوگ آئیں، تعلیم حاصل کریں پھر اپنے علاقوں میں واپس جا کر تعلیم دیں۔
اس مرجع تقلید نے مزید کہا: اگر ہم آیت کی اس طرح تفسیر کریں تو اس میں کوئی اشکال باقی نہیں رہتا۔ علما کو اس آیت کے سلسلہ میں مشکلات کا سامنا ہے؛ وہ ضمائر کو ایک ہی مرجع کی طرف نہیں لوٹا پاتے اور کئی اشکالات پیدا ہوتے ہیں کیونکہ وہ اسے جہاد سے متعلق اور اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں سمجھتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اس آیت کے مصادیق میں سے ایک ہیں؛ یہ آیت کلی حیثیت رکھتی ہے اور ہر زمانے سے متعلق ہے اور ہمارا زمانہ بھی اسی طرح اس کا مصداق ہے۔
حضرت آیت اللہ سبحانی نے کہا: ہمارے نزدیک امام کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذمہ داریاں بھی سنبھالنی چاہئیں؛ اسی طرح قرآن کی تفسیر، نئے پیش آنے والے مسائل کے احکام بیان کرنا، لوگوں کے شبہات کا جواب دینا اور معاشرے کی کجیوں کی اصلاح کرنا۔
اس مرجع تقلید نے مزید کہا: اگر کسی کے اندر یہ ذمہ داریاں موجود ہوں تو یقیناً وہ امام ہے۔ لہٰذا امامت کے بارے میں دو نظریات پائے جاتے ہیں؛ ایک نظریہ یہ ہے کہ امامت ایک بشری منصب اور وقتی سیاسی مقام ہے؛ جو شخص طاقت کے ذریعے اس منصب کو حاصل کر سکے اور احکام نافذ کر دے، اس کے لیے دیگر شرائط ضروری نہیں۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ امامت ایک الٰہی منصب ہے اور امام کو الٰہی تربیت کے زیرِ سایہ پروان چڑھنا چاہیے۔ جس طرح امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے بچپن ہی سے اللہ تعالیٰ کی جانب سے بے شمار معارف و مسائل کا علم حاصل کیا اور الٰہی تربیت کے مراحل سے گزرے تاکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد امامت کے دیگر مراتب اور ذمہ داریوں کو انجام دے سکیں۔









آپ کا تبصرہ