پیر 17 اگست 2026 - 11:46
جوانی توبہ اور اصلاحِ نفس کا بہترین زمانہ ہے: آیت اللہ محفوظی

حوزہ/ مرحوم آیت اللہ محفوظیؒ نے جوانی کو توبہ اور خدا کی طرف بازگشت کا بہترین موقع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انسان کو اپنی اصلاح اور گناہوں سے توبہ کے لیے بڑھاپے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ عمر گزرنے کے ساتھ گناہوں کی جڑیں انسان کے وجود میں مضبوط ہوجاتی ہیں اور دل پر غفلت و گناہ کی تاریکی زیادہ چھا جاتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرحوم آیت اللہ محفوظیؒ نے جوانی کو توبہ اور خدا کی طرف بازگشت کا بہترین موقع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انسان کو اپنی اصلاح اور گناہوں سے توبہ کے لیے بڑھاپے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ عمر گزرنے کے ساتھ گناہوں کی جڑیں انسان کے وجود میں مضبوط ہوجاتی ہیں اور دل پر غفلت و گناہ کی تاریکی زیادہ چھا جاتی ہے۔

مرحوم آیت اللہ محفوظیؒ نے لنفس کی اصلاح اور توبہ میں تاخیر کے نقصانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جوانی توبہ کی بہار ہے؛ اس عمر میں گناہوں کا بوجھ کم، دل کی آلودگی اور باطنی تاریکی نسبتاً کم اور توبہ کی شرائط پوری کرنا آسان ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بڑھاپے میں انسان کے اندر حرص و طمع، مقام و مرتبے اور ظاہری خوبصورتی کی محبت اور لمبی امیدیں زیادہ ہوجاتی ہیں اور یہ ایک تجربہ شدہ حقیقت ہے۔

آیت اللہ محفوظیؒ انسان کو نصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اے عزیز! جتنی جلدی ممکن ہو اپنی اصلاح کے لیے کمر کس لو، اپنے عزم کو مضبوط اور ارادے کو پختہ کرو اور جوانی یا زندگی کے باقی رہنے تک اپنے گناہوں سے توبہ کرلو۔ خدا کی جانب سے عطا کردہ اس موقع کو ضائع نہ ہونے دو اور شیطان کے وسوسوں اور نفسِ امارہ کے فریب میں نہ آؤ۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جوانی انسان کے لیے اپنی زندگی سنوارنے، گناہوں کو ترک کرنے اور خداوند متعال کی طرف واپس آنے کا ایک قیمتی موقع ہے، جسے غنیمت سمجھنا چاہیے۔

ماخذ: کتاب عرفان و عبادت

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha