حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لبنان کے شہید بچوں کے اہل خانہ کی تنظیم نے جنوبی لبنان کے قصبے انصار میں اسرائیلی فوج کے حالیہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے لبنانی حکومت سے شہریوں اور بچوں کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
تنظیم کے مطابق اسرائیلی فوج نے آج صبح انصار میں ایک لبنانی خاندان کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں سید علی الحاج حسن، سیدہ زینب ناصرالدین اور ان کے چار بچے زہرا، حسن، حسین اور عباس شہید ہوگئے۔
تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ لبنانی حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے اس واقعے اور شہریوں و بچوں کو نشانہ بنانے والے تمام جرائم کو دستاویزی شکل دے اور انہیں فوری طور پر علاقائی و بین الاقوامی قانونی اور عدالتی اداروں کے حوالے کرے، تاکہ شواہد محفوظ رہیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی ہوسکے۔
بیان میں حکومت لبنان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ شہریوں کے تحفظ کے لیے عملی اور فیصلہ کن اقدامات کرے اور ایسا قومی مؤقف اختیار کرے جس میں اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں لبنان اور اس کے عوام کے دفاع کے حق کا تحفظ ہو۔ دشمن کو کسی بھی موجودہ معاہدے یا مفاہمت کو لبنانی عوام کے خلاف مزید حملوں کا جواز بنانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
تنظیم نے ذرائع ابلاغ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ شہید بچوں کے واقعات کو اپنی کوریج میں نمایاں کریں، ان کے نام، چہرے، زندگی اور خوابوں کو دنیا کے سامنے لائیں اور اسرائیلی دعووں کی بالواسطہ یا براہِ راست تشہیر سے گریز کریں۔
بیان میں کہا گیا کہ لبنان اور اس کے عوام کا دفاع ان کا فطری حق ہے اور اس کی بنیادی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ تنظیم نے واضح کیا کہ لبنانی عوام اپنے بچوں کی شہادت کو معمول نہیں بننے دیں گے اور نہ ہی انہیں محض اعداد و شمار میں تبدیل ہونے دیں گے۔ شہید بچوں کا خون تمام لبنانیوں کے اتحاد اور ملک و مستقبل کے دفاع کا محرک بننا چاہیے۔









آپ کا تبصرہ