حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی کے مطابق انسان کے اعتقادات، اخلاقی فضائل اور نیک اعمال اپنی ذات میں بارگاہ قدس الٰہی تک پہنچنے کی مکمل صلاحیت نہیں رکھتے۔ جس طرح کلمۂ طیبہ صالح عمل کے ذریعے بلند ہوتا ہے، اسی طرح صالح اعمال بھی ایک معصوم رہبر اور پیشوا کی رہنمائی اور قیادت کے محتاج ہیں۔
انہوں نے تفسیر تسنیم میں امام زمانہ علیہ السلام کو اس نورانی راستے کا قافلہ سالار اور تکوینی رہبر قرار دیتے ہوئے آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی:
«اِلَیهِ یَصعَدُ الکَلِمُ الطَّیِّبُ وَالعَمَلُ الصّالِحُ یَرفَعُه»
آیت اللہ جوادی آملی کے مطابق عقیدہ، عمل اور اخلاق اس وقت صعود کرتے ہیں جب ان کے آگے رہبر اور پیشوا موجود ہو۔ یہی وہ تکوینی ہدایت ہے جس کے لیے ہم ہر روز نماز میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں:
«اِهدِنَا الصِّراطَ المُستَقیمَ صِراطَ الَّذینَ أَنعَمتَ عَلَیهِم»
انہوں نے وضاحت کی کہ صراط مستقیم سے مراد سیدھا راستہ ہے اور انسان کو اپنی منزل تک پہنچنے سے پہلے دنیا ہی میں اس راستے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے ایسے راستے کی ہدایت طلب کرتے ہیں جس پر انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین آگے آگے چل رہے ہوں۔ اس دعا کی حقیقی قبولیت اسی وقت ہوتی ہے جب انسان ایسے راستے پر گامزن ہو جس کے پیشوا اللہ کے برگزیدہ بندے ہوں۔
آیت اللہ جوادی آملی مزید فرماتے ہیں کہ جو شخص نماز اول وقت ادا کرتا ہے، وہ درحقیقت اپنے زمانے کے امام کی پیروی اور اقتدا کرتا ہے، اگرچہ اسے عرفاً جماعت کی نماز نہیں کہا جاتا۔ ایسا نمازی اس راستے پر گامزن ہے جس کے قافلہ سالار امام زمانہ علیہ السلام ہیں۔
ان کے مطابق ایسے افراد اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی کے حقیقی فرمانبردار ہوتے ہیں اور آخرت ہی نہیں بلکہ دنیا میں بھی اولیائے الٰہی کے ساتھ رہتے ہیں۔
ماخذ: تفسیر تسنیم، جلد 19، ص 450-451









آپ کا تبصرہ