حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سیستان و بلوچستان سے مجلس خبرگان رہبری کے رکن مولوی عبدالرحمن عارفی نے اتوار کے روز پروگرام ’’آفتابِ شرقی‘‘میں مسلمانوں کے درمیان اتحاد کو مضبوط بنانے کے طریقوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کے لیے دشمنوں کی متعدد سازشوں اور مکاریوں کا مقابلہ کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ شیعہ اور سنی ایک دوسرے کو اپنا بھائی، دوست اور ساتھی سمجھیں اور ایک دوسرے کو دشمن تصور نہ کریں۔
انہوں نے کہا: ایک ہی خاندان کے افراد کے درمیان بھی اختلاف رائے اور مختلف نظریات ہوسکتے ہیں۔ جس شخص کے چار بچے ہوں وہ دیکھتا ہے کہ ان بچوں کے نظریات، رنگ اور حتیٰ کہ چہرے بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں لیکن سب ایک ہی باپ کی اولاد ہیں۔ امت مسلمہ بھی اسی طرح ہے؛ شیعہ اور سنی بعض نظریاتی اختلافات کے باوجود سب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے فرزند ہیں۔
مولوی عبدالرحمن عارفی نے مزید کہا: پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج کو ’’امہات المؤمنین‘‘ کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام مسلمانوں کے روحانی باپ ہیں لہٰذا ہمیں ایک دوسرے کو پہچاننا، ایک دوسرے کی قدر کرنا اور ایک دوسرے کے مقدسات کا احترام کرنا چاہیے۔
سیستان و بلوچستان سے مجلس خبرگان رہبری کے رکن نے اسلامی مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان باہمی احترام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: اسلامی مذاہب میں سے ہر ایک کے اپنے مقدسات ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کے مقدسات کا احترام کرنا چاہیے؛ شیعہ اہل سنت کے مقدسات کا احترام کریں اور اہل سنت بھی شیعہ کے مقدسات کا احترام کریں، کیونکہ ایک دوسرے کے مقدسات کا احترام قربت اور باہمی ہمدلی کا باعث بنتا ہے جبکہ توہین اور بے حرمتی دلوں میں رنجش اور اختلاف پیدا کرتی ہے۔
انہوں نے کہا: دشمن مسلمانوں کے درمیان ایسے مسائل پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اختلاف اور تصادم کی فضا پیدا کریں، لہٰذا کسی بھی ایسی معمولی بات یا رویے کو دشمن کے ہاتھ نہیں لگنے دینا چاہیے جو شیعہ و سنی کے درمیان اختلاف کا باعث بنے۔









آپ کا تبصرہ