حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران میں موجود لبنان کی تحریک امل کے دفتر نے آج امام موسیٰ صدر کی گمشدگی کی 48ویں برسی کے موقع پر ایک بیان جاری کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ امام موسیٰ صدر اور ان کے دو ساتھیوں کی گمشدگی کا معاملہ اب بھی کھلا ہے اور ان کے انجام کا تعین اور واپسی تک اس کی پیروی ایسی ذمہ داری ہے جسے فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔
بیان میں کہا گیا کہ ایسے وقت میں جب لبنان اور فلسطین کے عوام اسرائیلی حملوں اور جرائم کا سامنا کر رہے ہیں اور ایران بھی گزشتہ ماہ میں اسرائیل کے حملوں اور جارحیت کا نشانہ بنا ہے، امام موسیٰ صدر کے اسرائیل کے حوالے سے انتباہات اور مؤقف کی اہمیت ایک بار پھر واضح ہوگئی ہے۔
تحریک امل کے مطابق، امام موسیٰ صدر نے لبنان میں اپنی موجودگی کے ابتدائی برسوں ہی سے اسرائیلی جارحیت کو لبنان اور خطے کے عوام کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔ وہ مزاحمت کو صرف عسکری میدان تک محدود نہیں سمجھتے تھے بلکہ سیاسی، سماجی، ثقافتی اور اقتصادی شعبوں میں بھی ایک مضبوط اور مزاحم معاشرے کی تشکیل کو ضروری قرار دیتے تھے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ امام موسیٰ صدر کی گمشدگی کو 48 سال گزر چکے ہیں، لیکن مزاحمت کے علمبردار اور مکالمے، بقائے باہمی اور انسانی وقار کے داعی کی کمی آج بھی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ لبنان، فلسطین اور خطے کی موجودہ صورت حال ان کی فکر اور موجودگی کی ضرورت کو پہلے سے کہیں زیادہ اجاگر کرتی ہے۔
واضح رہے کہ 9 شہریور 1357 شمسی (31 اگست 1978) کو امام موسیٰ صدر لیبیا کے چند روزہ دورے کے اختتام پر اپنے دو ساتھیوں سمیت لاپتہ ہوگئے تھے۔









آپ کا تبصرہ