تحریر: مولانا سید محمد فائز باقری، حوزہ علمیہ قم المقدسہ
حوزہ نیوز ایجنسی | اربعین کے جوش و خروش کے عروج کے دوران شلمچہ باڈر اور کربلا کے حسینی مواکب پر ہونے والا میزائل حملہ دشمنوں کی ان ناکام کوششوں کی ایک کڑی ہے جن کا مقصد اس نور کو بجھانا تھا جو — عہدِ متوکل سے لے کر آج تک — شہداء کے خون کی بدولت مسلسل تابناک تر ہوتا چلا گیا ہے۔
اس روشن صبح سویرے، جب شلمچہ بین الاقوامی سرحدی گزرگاہ پر "لبیک یا حسین" کی صدائیں فضا میں گونج رہی تھیں، امریکی فوج نے ایک بزدلانہ کارروائی کرتے ہوئے میزائل حملوں کے ذریعے اس اسٹریٹجک سرحد کے مسافر ٹرمینل کے نواحی علاقے کو نشانہ بنایا تھا۔ اربعین کے زیارتی رش کے عروج کے دوران پیش آنے والے اس حملے کے نتیجے میں دو افراد شہید اور گیارہ دیگر زخمی ہو گئے تھے۔ اسی طرح زائرین کا ٹھاٹھے مارتا ہوا سمندر عراقیوں کے عشق و محبت و ایثار و وفاداری اور خدمت و اعلی انسانی اقدار کا مشاہدہ کرتے ہوئے آنکھوں میں زیارت کی تڑپ اور محبت حسینی کا جذبہ لئے ہوئے آگھے بڑھ رہا تھا کہ اچانک ان حسینی مواکب (زائرین کے قیام و طعام کے خیموں) پر سعودیہ نے امریکی مدد سے انہیں نشانہ بنایا تھا جس میں متعدد زاٰئرین خواتین اور بچوں نے جام شہادت نوش کیا تھا۔
شلمچہ فقط ایک جغرافیائی سرحد نہیں
اس حملے کے لیے شلمچہ کا انتخاب کوئی اتفاقی امر نہیں تھا۔ "دفاع مقدس " کے شہداء کے خون سے بابرکت ہونے والی یہ سرزمین آج ایران اور عراق کی اقوام کو آپس میں ملانے والی ایک اہم مذہبی اور مواصلاتی شاہراہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ شلمچہ ایک ایسے روحانی رشتے کی علامت ہے جو روایتی سرحدوں کی حدود سے ماورا ہے۔ اس مقام کو نشانہ بنا کر دشمن کا مقصد عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنا اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانا تھا، تاکہ عالمِ اسلام کے سب سے بڑے اور پرامن مذہبی اجتماع میں خلل ڈالا جاسکے؛ مگر وہ یہ سمجھنے سے قاصر رہا کہ ایمان کے جغرافیے کو جارحین کے عسکری پیمانوں سے نہیں ناپا جاسکتا۔
کربلا فقط ایک جغرافیائی علاقہ نہیں
اسی طرح اس حملے کے لیے سرزمین کربلا کا انتخاب کوئی اتفاقی امر نہیں تھا کیونکہ کربلا ظلم و جبر اور ناانصافی کے خلاف ایک تحریک کا نام ہے، کربلا صرف ایک زمین کا ٹکڑا نہیں ہے بلکہ ایک آئیڈیالوجی اور ایک فکر ہے، کربلا صرف ایک سرزمین نہیں ہے بلکہ حقیقی اسلام کی نشاندہی رسول گرامی اسلام کی تعلیمات کا حقیقی مرکز ہے، لہذا کربلا جانے والے زائرین حسینی کے راستوں کو نامن کرنا ہمیشہ سے ظالم بادشاہوں اور دشمنان اہلبیت طاہرین علیہم السلام اور دشمنا اسلام کا وطیرہ رہا ہے۔ لیکن انہوں نے کربلا کو جتنا دبانے کی کوشش کی ہے یہ فکر پہلے سے زیادہ قوت و قدرت اور آب و تاب سے آگے بڑھی ہے۔
زائرین پر حملوں کی تاریخ بنی امیہ سے ٹرمپ تک
تاریخ کے اوراق کا جائزہ لیتے وقت، شلمچہ باڈر اور کربلا میں حسینی مواکب پر ہونے والے حملے کو محض ایک الگ تھلگ واقعہ نہیں سمجھا جانا چاہیے؛ بلکہ یہ شعائر الہی کے خلاف دیرینہ دشمنی کا ہی ایک تسلسل ہے۔ مذہبی رسومات کی ادائیگی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوششوں کی جڑیں تاریخ میں بہت گہری ہیں۔
تیسری صدی ہجری میں، عباسی خلیفہ متوکل نے 'سید الشہداء'علیہ السلام کے مقدس مزار پر ہل چلوا کر اور وہاں پانی چھوڑ کر، بھاری ٹیکس عائد کر کے اور یہاں تک کہ زائرین کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر ایمان کی اس شمع کو بجھانے کی کوشش کی۔
دورِ حاضر میں، عراق کی بعثی حکومت نے بھی انتہائی سفاکانہ حفاظتی اقدامات اور زائرین کو موت کے گھاٹ اتارنے جیسے ہتھکنڈوں کے ذریعے اربعین کی زیارت کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کی۔
بعد ازاں، داعش (ISIS) کی نام نہاد خلافت نے وحشیانہ خودکش حملوں کے ذریعے کربلا کے راستے کو خون سے رنگین کرنے کی کوشش کی—جن میں خاص طور پر 2016 کا 'حلہ' کا سانحہ شامل ہے، جس کے نتیجے میں 80 سے زائد زائرین شہید ہوئے۔
آج شلمچہ پر حملہ کر کے امریکی فوج اور کربلا میں حسینی زائرین اور مواکب پر حملہ کرکے سعودی حکومت نے ہو بہو متوکل، صدام اور داعش کے نقشِ قدم کی پیروی کی ہے۔ اس کے باوجود ایک حقیقت اٹل ہے: اس روایت کے خلاف اٹھنے والا ہر ہاتھ بالآخر کاٹ دیا گیا، اور اس تقریب کی آب و تاب پہلے سے کہیں زیادہ درخشاں ہو کر سامنے آئی ہے۔
میدانِ عمل میں خوف پھیلانے کی حکمتِ عملی کی ناکامی
سرکاری اعداد و شمار اور رپورٹوں کے مطابق، دھماکوں اور میزائلوں کے دھوئیں کے باوجود، کربلائے معلی، شلمچہ سرحدی گزرگاہ اور کربلا کی جانب رواں دواں دیگر داخلی راستوں اور مقامات پر زائرین کی آمد و رفت مکمل طور پر معمول کے مطابق جاری رہی اور اس میں ایک لمحے کے لیے بھی کوئی خلل نہیں پڑا۔ یہ امر اس بات کا ثبوت ہے کہ خوف پھیلانے کی حکمتِ عملی اپنے مقاصد کے حصول سے قبل ہی عوام کے پختہ ایمان کی مضبوط دیوار کے سامنے ناکام ہو کر رہ گئی ہے۔
مذہبی رسومات میں خلل ڈالنے کی کوششیں یہیں تک محدود نہیں ہیں بلکہ دنیا کے مختلف گوشہ و کنار میں حسینی عزاداروں، زائرین اور اہلبیت طاہرین علیہم السلام کے چاہنے والوں پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں، عزاداری کے جلوسوں مساجد اور امامباڑوں پر بزدلانہ دھماکوں شیعیان امیرالمونین علیہ السلام کے خون کی ہولی کھیلنے والے تمام واقعات، عوام کو روحانی اور مذہبی اہمیت کے حامل مراکز سے دور کرنے کی ایک وسیع تر سازش کا حصہ تھے۔ اس کے باوجود، جب بھی خون بہایا گیا، عبادت گزاروں اور زائرین کی صفیں مزید مستحکم ہوگئیں۔ مسلمانوں کے اتحاد میں رکاوٹ بننے کے بجائے، ان واقعات نے روحانی رسومات کو اور بھی زیادہ جوش و خروش کے ساتھ ادا کرنے کے ان کے عزم کو مزید تقویت دی۔
دشمن کی حکمتِ عملی کی ناکامی
اعداد و شمار خود بولتے ہیں اور مذہبی رسومات میں خلل ڈالنے کے لیے دشمن کی برسوں پر محیط سازشوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اربعین کے عظیم الشان اجتماع میں شرکاء کی تعداد، جو 2010 کی دہائی کے اوائل میں چند لاکھ تھی، آج بڑھ کر دو تین کروڑ (بیس سے تیس ملین) سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ یہ زبردست اضافہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب زیارت کے راستے سے سکیورٹی کے خطرات اور دہشت گردی کا سایہ کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ یہ امر اس بات کا غماز ہے کہ جیسے جیسے دشمن کا دباؤ بڑھتا گیا، مذہبی جذبے کی حرارت اور لاکھوں افراد کے اس اجتماع میں شرکت کا شوق اور بھی زیادہ مضبوط ہوتا گیا۔
شلمچہ اور کربلا پر ہونے والا حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن اربعین کی حقیقی روح کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ میزائل جذبات اور ایمان پر فتح پا سکتے ہیں، مگر وہ اس حقیقت کو نہیں سمجھ پاتے کہ اس راستے میں شہید ہونے والے تمام شہداء—کا خون درحقیقت اُس تحریک کو تقویت دیتا ہے جس کی منزل ظہور تک پیش قدمی ہے۔
اس سال کا اربعین—مواسات اور ہمدردی کے نئے افق اور یکجہتی کے بے مثال مظاہرے کا حامل تھا—اور یہ اجتماع ثابت کر رہا ہے کہ اہل بیت علیہم السلام کی محبت پر مبنی عزم کو کسی بھی جابر کے ظلم و ستم تلے کبھی کچلا نہیں جا سکتا۔ اگرچہ شلمچہ اور کربلا کی سرزمین شہداء کے خون سے سرخ ہو گئی تھی، مگر زیارت کا یہ سرسبز و شاداب راستہ بدستور رواں دواں ہے اور دنیا کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ پُرتپاک انداز میں اپنی آغوش وا کیے ہوئے ہے۔









آپ کا تبصرہ