حوزہ نیوز ایجنسی |
تحریر: مولانا ڈاکٹر عابد رضا، حوزہ علمیہ قم
خلاصہ
یہ تحریر امام جعفر صادق علیہ السلام کی سیرتِ مبارکہ کی روشنی میں نوجوان نسل کی فکری، اخلاقی اور عملی تربیت کے بنیادی اصولوں کا تحقیقی جائزه پیش کرتی ہے، نوجوانی انسان کی شخصیت سازی کا نہایت نازک مرحلہ ہے، جہاں فکری انحرافات، سماجی آفات اور گمراہ گروہوں کے اثر کا خطره زیاده ہوتا ہے امام صادق علیہ السلام نے اس طبقے کی معنوی اور فکری حفاظت کو اپنی تربیتی حکمتِ عملی کا مرکزی موضوع قرار دیا،امامؑ نے سب سے پہلے نوجوانوں کو اہل بیتؑ کی احادیث اور صحیح معارف سے آشنا کرنے کی تاکید فرمائی تاکہ منحرف گروہ، خصوصاً مرجئہ، ان کے عقائد پر اثر انداز نہ ہو سکیں، آپؑ کا نوجوانوں کے ساتھ طرزِ عمل نہایت محبت آمیز، احترام، اعتماد اور حکیمانہ تربیت پر مبنی تھا ہشام بن حکم اور مفضل بن عمرو جیسے نوجوانوں کی سرپرستی اس کی روشن مثالیں ہیں۔
تحریر میں امام صادق علیہ السلام کی سیرت اور کلام میں نوجوانوں کی تربیت کے سلسلے میں متعدد پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے، جن میں یہ امورشامل ہیں:نرم مزاجی اور محبت آمیز رویہ،دینی آگاہی اور معارفِ دین کی تعلیم،سماجی آفات (ظلم، دھوکہ، تہمت، حسد وغیرہ) سے آگاہی،علم اور مہارت کے حصول کی تاکید،خود احتسابی (محاسبۀ نفس)،معتدل اور حکیمانہ دوست کا انتخاب،شادی کی ضرورت اور عفت کا نظام،نماز کی پابندی اور اس کی اہمیت،مثبت فکر، سماجی خدمات اور محتاجوں کی دستگیری،پاکیزہ غذا، صحت اور اعتدال پسندی،گناہنگار افراد کے ساتھ حسنِ سلوک،حلال روزی کی تلاش اور خودکفالتی،زندگی میں صحیح منصوبہ بندی ...وغیرہ یہ اصول نہ صرف امام صادق علیہ السلام کے دور کے نوجوانوں کے لیے چراغِ راہ تھے بلکہ آج کے نوجوانوں کے فکری، اخلاقی اور سماجی مسائل کا بھی مؤثر حل پیش کرتے ہیں ،امام صادق علیہ السلام کی تربیتی حکمت عملی نوجوان نسل کے لیے ایک کامل منشورِ حیات فراہم کرتی ہے، جو موجودہ دور کے فکری چیلنجوں، اخلاقی بحرانوں اور سماجی بے راہروی کے مقابل ایک مضبوط فکری ترقی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
تمہید
انسانی معاشروں کی بقا، ترقی اور تہذیبی ارتقا ہمیشہ نوجوان نسل کی فکری، اخلاقی اور عملی تربیت سے وابستہ رہا ہے تاریخِ انسانیت گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنے نوجوانوں کی صحیح راہنمائی کی، انہیں فکری پختگی، اخلاقی استحکام اور تعمیری کردار سے آراستہ کیا، وہی اقوام تمدنی ترقی کی منازل طے کر سکیں اور آنے والی نسلوں کے لیے روشن مثال بن گئیں، نوجوان اور بچے ہر معاشرے کا وہ قیمتی سرمایہ ہیں جن کے پاکیزہ دل، تازہ دم ارادے، پُرجوش طبیعت اور جذبات اگر حکیمانہ نگرانی اور اصولی تربیت کے زیرِ سایہ پروان چڑھیں تو نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی سطح پر بھی خیر و برکت کے بے شمار دروازے کھول سکتے ہیں اسلام، جو انسان کی فطرتی اور معاشرتی دونوں کی اصلاح کا ضامن ہے، نوجوان نسل کی تربیت کو مرکزی اور بنیادی اہمیت دیتا ہے قرآنِ کریم کی رو سے دلوں کی پاکیزگی، علم کا حصول، کردار کی مضبوطی، سچائی، تقویٰ اور عملِ صالح نوجوانی ہی کے دور میں جڑ پکڑتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات میں نوجوانوں کی رہنمائی کو خاص مقام حاصل ہے ان معلمانِ ہدایت میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی شخصیت ایسی جامعیت رکھتی ہے کہ جن کی علمی، اخلاقی اور تربیتی روش نے اسلامی تہذیب کے کئی بنیادی ستون قائم کیے۔
امام صادقؑ کا دور سیاسی انتشار، فکری انحرافات، گمراہ فرقوں کا ظہوراور سماجی پستی کا زمانہ تھا، ایسے میں آپؑ نے نوجوان نسل کو فکری و اخلاقی آلودگیوں سے محفوظ رکھنے، انہیں علم، حکمت اور دین فہمی کی راہ دکھانے اور بہترین سماجی کردار کے لیے تیار کرنے کو اپنی سیرت کا بنیادی مقصد بنایا آپؑ نے نوجوانوں کے دلوں کو محبت، احترام، اعتماد اور حکیمانہ تربیت کے ذریعے اپنی طرف مائل کیا اور انہیں وہ منشورِ حیات عطا کیا جو آج بھی نوجوان نسل کی رہنمائی کے لیے روشن چراغ کی حیثیت رکھتا ہے۔
نوجوانوں کو کلام اهلببیت (ع) آشنا کرو
امام صادق علیہ السلام نئی نسل اور نوجوانوں کو منحرف اور گمراہ گروہوں سے محفوظ رکھنے کے سلسله میں ارشاد فرماتے ہیں:" بادِروا أَحداثَكُم بِالحَديثِ قَبلَ أَن تَسبِقَكُم إِلَيهِمُ المُرجِئَةِ؛ اپنے نوجوانوں کو (ہماری) احادیث سے آشنا کرو قبل اس کے کہ 'مرجئہ' (ایک منحرف گروہ) تم پر سبقت لے جائیں"( تهذيب الأحكام(تحقیق خرسان) ج8، ص111، ح30)
نوجوان نسل سے تعلق
نوجوان نسل کی رہنمائی اور تربیت ، آج مختلف معاشروں کے مفکرین اور خیر خواہوں کی پہلے سے زیادہ توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے،نوجوان جذباتی، سماجی اور جسمانی خصوصیات رکھتے ہیں مختلف احساسات، اندرونی ہیجانات، ہم عمروں سے دوستی کا شدید رجحان، احساسات پر قابو نہ رکھ پانا، خود کی محبت، تقلید اور نمونہ عمل کی تلاش، شخصیت پر فخر ،خود شناسی کی طلب، اور آزادی کی خواہش نوجوان نسل کی چند خصوصیات ہیں،ان خصوصیات کو مدنظر رکھتے ہوئے، نوجوانوں کے ساتھ امام صادق علیہ السلام کا طرز عمل، اور اسی طرح آپ کے نوجوانوں کے لیے ارشادات اور ان سے پیش آنے کا طریقہ، بہترین شفا بخش نسخہ اورمکمل راہنما ہے۔
صادق آل محمد(ع)کی مہربان نگاہیں، شخصیت کا احترام، ان کی صلاحیتوں اور استعداد پر توجہ، ان کی انفرادی اور سماجی ضروریات کا خیال، اور محبت بھرا حکیمانہ رویہ جو جذبات اور خلوص سے پُر تھا، نوجوانوں کو آپ کی طرف کھینچتا تھا،آپؑ نے نوجوانوں میں اخلاقی خوبیوں کو تیزی سے قبول کرنے کی طرف توجہ دلائی آپ ابو جعفر مؤمن طاق سے فرماتے ہیں:" عَلَیکَ بِالحداثِ فَإنَّهُم أَسرَعُ إلى کُلِّ خَیرٍ؛ تمہارے لیے نوجوانوں کی تربیت ضروری ہے، کیونکہ وہ دوسروں کی نسبت تیزی سے ہر نیکی کو قبول کرتے ہیں(کافى، ج۸، ص۹۳، ح۶۶)۔
یہاں ہم نوجوان نسل کے ساتھ آپؑ کے طرز عمل کے چند نمونے بیان کررهے ہیں:
ہشام بن حکم
وہ دن حج کے سب سے پُر ہجوم دنوں میں سے ایک تھا، امام صادق علیہ السلام اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ گفتگو فرما رہے تھے، اسی دوران ہشام بن حکم جو ابھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکا تھا، امام کی خدمت میں حاضر ہوا، امام(ع) اس نوجوان کو دیکھ کر خوش ہوئے، انہیں مجلس کی صدر اور اپنے پہلو میں بٹھایا اور ان کی همت افزائی کی،امام کا یہ رویہ، حاضرین کو جو علمی شخصیات میں شمار ہوتے تھے، حیران کر گیا، جب امام علیہ السلام نے حاضرین کے چہروں پر حیرت کے آثار دیکھے تو فرمایا: " هذا ناصرنا بقلبه و لسانه و یده یہ جوان اپنے دل، زبان اور ہاتھ سے (یعنی مکمل طور پر) ہمارا مددگار ہےپھر ہشام کے علمی مقام کو حاضرین کے سامنے ثابت کرنے کے لیے آپ نے خداوند متعال کے ناموں اور ان کی فروعات کے بارے میں سوال کیا، اور ہشام نے ان سب کا بہترین جواب دیاپھر حضرت نے فرمایا: "ہشام! کیا تمہارے پاس اتنی سمجھ ہے کہ تم منطق اور استدلال کے ذریعے ہمارے دشمنوں کا مقابلہ کر سکو؟" ہشام نے کہا: "جی ہاں" امام نے فرمایا: " نفعک الله به و ثبتک خدا تمہیں اس سے فائدہ پہنچائے اور (اس راستے پر) ثابت قدم رکھے" ہشام کہتے ہیں:"اس دعا کے بعد میں نے خدا شناسی اور توحید کی کسی بھی بحث میں کبھی شکست نہیں کھائی" (تفسیر برهان، ج 1، ص 420.)ہشام (بن حکم) امام صادق علیہ السلام کی نظر میں اتنے اہمیت رکتھے تھےکہ ایک دن آپ نے انہیں بلایا اور فرمایا: میں تمہارے بارے میں وہی بات کہتا ہوں جو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے "حسان بن ثابت انصاری" (پیغمبر کے زمانے کے مشہور شاعر جو اپنی شاعری سے اسلام کی حمایت کرتے تھے) سے فرمائی تھی: لا تزال مویدا بروح القدس ما نصرتنا بلسانک؛ جب تک تم اپنی زبان سے ہماری مدد کرتے رہو گے، روح القدس (جبرائیل امین) ہمیشہ تمہاری تائید (حمایت) کرتا رہے گا(تنقیح المقال، ج3، ص 294.)، ہشام بن حکم اپنی اعلیٰ ذہانت اور وسیع علم کے علاوہ، قوتِ گویائی، صریح بیان اور مناظرے میں شجاعت کے مالک تھے،ان قیمتی خداداد نعمتوں کا استعمال کرتے ہوئے وہ علماء اور مفکرین کے ساتھ مناظروں میں شرکت کرتے تھے امام صادق علیہ السلام، ان کے مناظرے کے انداز اور بیان سے بہت خوش تھے اور ہمیشہ ان کی تعریف کیا کرتے تھےایک دن امام صادقؑ نے فرمایا: " یا هشام کلم الناس انى احب ان ارى مثلکم فى الشیعه اے ہشام! لوگوں سے کلام کرو (مناظرہ کرو)، میں چاہتا ہوں کہ ہمارے شیعوں میں تم جیسا شخص ہو( قاموس الرجال، ج9، ص317.)"آپ (امام صادقؑ) بعض اوقات ہشام کے بحث کے انداز کی تعریف کرتے اور فرماتے تھے: "یہ استدلال (دلیل دینے کا یہ طریقہ) حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ علیہم السلام کے صحیفوں میں بھی آیا ہے"( ہزاره شیخ طوسى، ج 2، ص 142)
مفضل بن عمرو
مفضل بن عمرو شرکوفہ میں امام صادق علیہ السلام کے نمائندے تھے،وہ امام کی طرف سے کوفہ کے لوگوں کے دینی، مالی اور سماجی مسائل کا حل کرنے کے لیے مقرر تھے اور انہوں نے شہر کے نوجوانوں کے ساتھ ایک مضبوط اور مخلصانہ تعلق قائم کر رکھا تھااسی وجہ سے بعض لوگ اس دوستی کو برداشت نہ کر سکے، تو انہوں نے افواہوں اور تہمتوں کا سہارا لیا، اور مفضل اور ان کے ساتھیوں پر شراب نوشی، نماز ترک کرنے، کبوتر بازی اور یہاں تک کہ چوری اور راہزنی کا الزام لگادیایہ گروہ، جس میں معزول ابوالخطاب اور ان کے پیروکار شامل تھے، یہ افواہیں پھیلاتے تھے کہ مفضل نے اپنے گرد لاپرواہ اور آزاد خیال افراد جمع کر رکھے هیں ، جب یہ افواہیں عروج پر پہنچ گئیں، تو کوفہ کے کچھ مومنین اور دیندار لوگوں نے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں یوں لکھا: "مفضل حقیر لوگوں، شراب نوشوں اور کبوتر بازوں کے ساتھ بیٹھتا ہے، مناسب ہے کہ آپ اسے حکم دیں کہ وہ ان افراد کو اپنے سے دور کر دے" امام صادق علیہ السلام نے ان سے اس بارے میں کوئی بات کیے بغیر، مفضل کے لیے ایک خط لکھا، اس پر مہر لگائی اور وہ خط انہیں دیا تاکہ وہ مفضل تک پہنچا دیں۔
حضرت نے واضح طور پر کہا کہ وہ خود ہی مفضل کو ذاتی طور پریہ خط دیں ،وہ لوگ کوفہ واپس لوٹے اور سب مل کر مفضل کے گھر پہنچے اور امام صادق علیہ السلام کا خط مفضل کے حوالے کر دیا، انہوں نے خط کھولا اور اس کا متن پڑھا، امام علیہ السلام نے مفضل کو حکم دیا تھا کہ وہ کچھ چیزیں خرید کر امام علیہ السلام کی خدمت میں بھیجیں، اس خط میں افواہوں کا قطعاً کوئی تذکرہ نہیں تھا، مفضل نے خط پڑھا اور حاضرین کو دیا تاکہ وہ بھی پڑھیں، پھر ان سے پوچھا: "اب کیا کرنا چاہیے؟" انہوں نے کہا: "ان چیزوں پر بہت خرچہ آئے گا، ہمیں بیٹھ کر تبادلہ خیال کرنا چاہیے اور شیعوں سے مدد مانگنی چاہیے" در حقیقت، ان کا مقصد یہ تھا کہ فی الحال مفضل کا گھر چھوڑ دیں، مفضل نے کہا: "میں درخواست کرتا ہوں کہ آپ کھانا کھانے کے لیے یہیں ٹھہریں وہ کھانے کا انتظار کرنے لگےمفضل نے انہی نوجوانوں کو بلانے کے لیے لوگوں کو بھیجا جن کی بدگوئی کی گئی تھی اورجن پر ناروا کاموں کا الزام لگایا گیا تھا، جب وہ مفضل کے پاس آئے تو مفضل نے حضرت صادق علیہ السلام کا خط انہیں پڑھ کر سنایا، امام صادق علیہ السلام کا کلام سن کر وہ حضرت کا حکم بجا لانے کے لیے گھر سے باہر نکلے اور تھوڑی دیر بعد واپس آ گئے، ہر ایک نے اپنی استطاعت کے مطابق رقم جمع کی اور مجموعی طور پر 2 ہزار دینار اور 10 ہزار درہم مفضل کے سامنے لاکررکھ دیے، پھر مفضل نے شکایت کرنے والوں کی طرف دیکھا جو ابھی تک کھانا ختم نہیں کر پائے تھے اور کہا: "آپ کہتے ہیں کہ میں ان جوانوں کو اپنے سے دور کر دوں؟ اور کیا آپ کا خیال ہے کہ خدا کوفقط آپ کی نماز اور روزے کی ضرورت ہے؟!"( معجم رجال الحدیث، ج 19، ص 325)
یہ واقعہ مفضل بن عمروؒ کی شخصیت، ان کے سماجی کردارنیز نوجوانوں کے ساتھا ان کے قریبی اور مخلصانہ تعلقات اور امام جعفر صادقؑ کی گہری بصیرت کو واضح کرتا ہے۔
نوجوانوں کے لئے منشورِحیات
یہاں صادق آل محمد علیہم السلام کے اقوال و افعال کی روشنی میں نوجوانوں سے پیش آنے اور ان کی رہنمائی کرنے کے عملی طریقوں اور تدابیر کا کچھ حصہ بیان کرتے ہیں:
1 - نرم رویہ
نوجوان کا دل پاک، روح حساس اور مزاج نازک اور جذباتی ہوتا ہے، ان کے ساتھ پیش آنے میں نرمی اور ملائمت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے، مہربان نگاہ، شخصیت کو اہمیت دینا، اور خوش اخلاقی سےان سےتعلق قائم کرنے کا بہترین طریقہ ہے،محبت، اظہارِ ہمدردی، خوبصورت القاب، عنوانوں اور ناموں سے پکارنا مبلّغ اور مربی کی طرف کھینچتا ہے، اور اس حالت میں اس کے ساتھ قلبی اور جذباتی تعلق قائم کیا جا سکتا ہے، ان کی باتیں سنی جا سکتی ہیں، ان کی راہنمائی کی جا سکتی ہے، غلطیوں کی طرف توجہ دلائی جا سکتی ہے، اور آخر کار دوستی کی دنیا میں جب جذباتی تعلق قائم ہو جائے، تو نیک صفات منتقل کیے جا سکتے ہیں، ان کی بہت سی ضروریات کو پورا کیا جا سکتا ہے اور ان کو آلودگیوں سے دور رکھا جا سکتا ہے، کیونکہ نوجوان کا رجحان نیکیوں کی طرف دوسروں کی نسبت بہتر اور تیزی سے ہوتا ہے۔امام صادق علیہ السلام فرما تے ہیں: ""مَنْ لَمْ تَكُنْ فيهِ ثَلاثُ خِصالٍ لَمْ يَنْفَعْهُ الإيمانُ:حِلْمٌ يَرُدُّ بِهِ جَهْلَ الجاهِلِ،وَوَرَعٌ يَحْجِزُهُ عَنْ طَلَبِ المَحارِمِ،وَخُلُقٌ يُدارِي بِهِ النّاسَ ؛ جس شخص میں تین خصلتیں نہ ہوں، اسے اس کا ایمان کوئی فائدہ نہیں پہنچا ئےگا: اول بردباری جو نادان کی جہالت کو دور کرے، دوم پرہیزگاری جو اسے حرام کاموں سے روکے، سوم نیک سلوک جو لوگوں سے مدارات کرے(بحارالانوار، ج 75، ص 237).
2 - دینی مسائل میں آگاہی فراہم کرنا
بعض نوجوانوں اور جوانوں کی دین سے دوری کی ایک وجہ دینی مسائل سے ناواقفیت اورلاعلمی ہے، کیونکہ انسان فطری طور پر جس چیز کو نہیں پہچانتا، اس کی طرف نہیں جاتا اور اپنے افکار، احساسات اور حواس کو اس کی طرف متوجہ نہیں کرتا،لیکن نیکیوں کی پہچان اور آگاہی، خاص طور پر نیکیوں کے فوائد کی معلومات، انسان کو تیزی سےفائدے کی طرف کھینچتی ہے اور اسے اس شخص کے نزدیک محبوب بنا دیتی ہے، اگر تمام جوان دینی معلومات، برکات، احکام اور معارف سے واقف ہو جائیں، تو دینی حقائق سے ان کا فاصلہ کم ہو جائے گا، مزید یہ کہ نئی نسل جو عام طور پر دینی مسائل اور حقائق سے ناواقف یا کم واقف ہے اور دین کی کافی بصیرت و معرفت نہیں رکھتی، وہ دشمنوں کے ثقافتی حملوں اور پروپیگنڈے کے زیرِ اثر آ جاتی ہے، امام صادق علیہ السلام نے بشیر دہان (روغَن فروش) سے فرمایا: " لا خير فيمن لا يتفقه من أصحابنا يا بشير! إن الرجل منهم إذا لم يستغن بفقهه احتاج إليهم... اے بشیر! اگر ہمارا کوئی دوست اپنے دین میں گہرائی سے نہ سوچے اور اس کے مسائل و احکام سے واقف نہ ہو، تو وہ دوسروں (ہمارے مخالفین) کا محتاج ہو جائے گا، جب بھی وہ ان کا محتاج ہوا تو وہ اسے انحراف اور گمراہی میں ڈال دیں گے جبکہ وہ خود نہیں جانتا"( اصول كافي ، ج ١ ،ص ٣٣)
چھٹے امام کی نظر میں دینی احکام سیکھنے کی ضرورت اس قدر اہم ہے کہ آپ فرماتے ہیں: " لو أتيت بشاب من شباب الشيعة لا يتفقه لأدبته؛ “اگر میرے پاس شیعہ نوجوانوں میں سے کوئی ایسا نوجوان لایا جائے جو دین کی سمجھ نہیں رکھتا ہو، تو میں ضرور اسے تنبیہ کروں گا” "(بحار الانوار، ج 1، ص 214.)
3 - سماجی آفات کی پہچان کرانا
نئی نسل کا سماجی آفات سے ناواقف ہونا اخلاقی اقدار کے زوال، ثقافتی دشمنوں کی کامیابی اور ان کے درمیان خلافِ شرع اور حرام کاموں کے فروغ کا سبب بنتا ہے، اگر مسلمان جوان ان آفات سے واقف ہوں اور معاشرے کے افراد کے درمیان ان کے برے نتائج سےآگاہ ہو جائیں، تو اس پاک فطرت کی بنا پر جو خدا نے ان میں رکھی ہے، وہ ان آفات سے دور رہیں گے اور اپنے دامن کو ایسی سماجی آلودگیوں سے ملوث نہیں کریں گےصادق آل محمد علیہ السلام نے سماجی آفات کے چند موارد کی یوں فہرست وار بتایا ہے: الف) ظلم کرنا، ب) دھوکہ دینا، ج) خیانت کرنا، د) دوسروں کو ذلیل اور خوار کرنا، ہ) "اُف" کہنا (ناگواری کا اظہار کرنا، تنگ کرنا اور اس ذریعے سے دوسروں کو حقیر سمجھنا اور خود کو بڑا سمجھنا)، و) دشمنی، کینہ پروری اور دینی بھائیوں سے عداوت کا اظہار، ز) تہمت لگانا، ح) چیخنا چلانا اور جھگڑنا، ط) دنیا کا لالچ۔
صادق آل محمد علیہ السلام نےمومن کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا "...وأن لایظلمه وأن لا یغشه وأن لایخونه وأن لا یخذله وأن لا یکذبه وأن لایقول له اف، وإذا قال له: اف فلیس بینهما ولایة، وإذا قال له: أنت عدوی فقد کفر أحدهما، وإذا اتهمه انماث الایمان فی قلبه کما ینماث الملح فی الماء...اوراپنے ایمانی بھائی پر ظلم نہ کرے، اسے دھوکہ نہ دے، اس سے خیانت نہ کرے، اسے حقیر نہ سمجھے، اسے جھوٹ نہ کہے، اسے 'اُف' نہ کہے اور اگر اسے 'اُف' کہے (تنگ کرے) تو ان دونوں کے درمیان ولایت (تعلق) ختم ہو جاتی ہے، اور اگر اپنے ایمانی بھائی سے کہے کہ 'تو میرا دشمن ہے، تو ان میں سے کوئی ایک کافر ہو جاتاهے ، اور اگر وہ اپنے بھائی پر تہمت لگائے تو ایمان اس کے دل میں نمک کی طرح پانی میں گھل کر ختم ہو جاتا ہے"(وسائل الشیعہ، ج 12، ص 218.)
4 - حصو ل علم کی ترغیب
ایک مسلمان نوجوان کو زمانے کے علوم سے کافی حد تک آگاہی ہونی چاہیےوہ لوگ زندگی کے میدان میں اپنے مطلوبہ اہداف تک پہنچتے ہیں جو اپنے زمانے کے علوم اور مہارتوں کو پہچان کرسعادت کی چوٹیوں تک پہنچیں اور اپنے تعہد اور ایمان کے ذریعے معاشرے کے افراد کا اعتماد حاصل کریں۔
حضرت صادق علیہ السلام کے نقطہ نظر سے علم اور فنی مہارتوں کا حصول ایک جوان کے لیے بہت ضروری امر ہے، آپ فرماتے ہیں: "لستُ اُحِبُّ أن أری الشّابَّ مِنکُم إلاّ غادیا فی حالَینِ : إمّا عالِما أو مُتَعَلِّما، فإن لَم یَفعَلْ فَرَّطَ، فإن فَرَّطَ ضَیَّعَ، و إنْ ضَیَّعَ أثِمَ، و إن أثِمَ سَکَنَ النارَ و الذی بَعَثَ مُحمّدا بِالحَقِّ .میں یہ کبھی پسند نہیں کرتا کہ تم جوانوں میں سے کسی ایک کو دیکھوں مگر یہ کہ وہ اپنے شب و روز دو حالتوں میں سے کسی ایک میں گزارے: یا وہ عالم ہو یا علم حاصل کرنے والا ہو پس اگر کوئی (جوان) ایسا نہ کرے تو اس نے کوتاہی کی، اور اگر کوتاہی کی تو ضائع کیا، اور اگر ضائع کیا تو گناہ کیا، اور اگر گناہ کیا تو اُس ذات کی قسم جس نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، وہ دوزخ میں جائے گا "( امالي طوسي : ص 303 ح 604 . )
حضرت امام صادق علیہ السلام کی یہ باارزش حدیث گہرے تربیتی اور سماجی نکات بیان کرتی ہے؛
حدیث کی کلیدی اور عمیق نکات
۱. جوانوں کی اہمیت پر زور: جوانوں کو مخاطب کرنا اسلامی معاشرے میں اس طبقے کی خصوصی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے، امام کی توجہ جوانوں پر ہے کیونکہ وہ انسانی سرمایہ اور سماجی تبدیلیوں کا محور ہیں۔
۲. جوان کے لیے دو بنیادی کردار: امام صرف دو حالتوں کو جوانوں کے لیے مطلوب قرار دیتے ہیں:عالِم یعنی وہ شخص جو علم کی تخلیق اور ترویج کے مرحلے تک پہنچ چکا ہے۔مُتَعَلِّم (طالبِ علم): وہ شخص جو علم حاصل کرنے کی راہ پر گامزن ہو،یہ تقسیم واضح کرتی ہے کہ ہر جوان کو یا تو مسلسل علم حاصل کرتے رہنا چاہیے یا اپنے علم کو دوسروں کی رہنمائی کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔۳. کوتاہی کا نتیجہ پستی اور جہنم ہے ۔۴. سخت تنبیہ اور تاکیدامام کا قسم کھانا کہ "اُس ذات کی قسم جس نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا"، اس موضوع کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے اور علم سے غفلت کے نتائج سے متعلق ایک سخت ترین تنبیہ ہے۔
حدیث کے بنیادی پیغامات
۱. علم اسلامی معاشرے کی بنیاد: امام کی نظر میں ایک مثالی معاشرہ وہ ہے جس کے جوان یا تو علم حاصل کرنے والے ہوں یا خود عالم و دانشمند ہوں۔
۲. جوانوں کی ذمہ داری: جوانوں پر معاشرے کے فعال عناصر کی حیثیت سے یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ یا تو علم کے حاصل کرنے والے ہوں یا علم کے خالق۔
۳. انحراف کی روک تھام: علم کا حصول تباہی اور گناہ سے بچاؤ کا بہترین ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔
۴. علم کی الٰہی قدر و منزلت: یہ حدیث بتاتی ہے کہ علم حاصل کرنا محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں ہے، بلکہ یہ ایسا معاملہ ہے جس پر انسان کا اخروی انجام منحصر ہے؛پس آج کی نوجوان نسل جوانی کے سنہر سے دور کو علم اور مہارت کے حصول کے لیے استعمال کریں،خود کو جدید سائنسی آلات اور علم سے آراستہ کریں،صرف صارف بننے کے بجائے علم اور ٹیکنالوجی کی تخلیق اور پیداوار کی طرف بڑھیں،علم حاصل کرنے کو ایک ایسی عبادت سمجھیں جو دونوں جہانوں کی سعادت کی ضمانت دیتی ہے؛امام صادق علیہ السلام اس بیان سے جوانوں کو علم و دانش کی راہ میں مسلسل حرکت کرنے کی دعوت دیتے ہیں، اور اس راستے سے غفلت کو مادی اور روحانی زوال کے مترادف قرار دیتے ہیں۔
5 – محاسبہ کی عادت ڈالنا
ایک تاجر اپنی تجارت میں اسی وقت ترقی کرتا ہے جب وہ ہر شب و روز اپنے حساب کتاب کی جانچ کرے اور اپنے معاملات کا نفع و نقصان جانتا ہو، ورنہ تھوڑی ہی مدت بعد وہ اپنا سرمایہ اور ہستی گنوا دیتاہے، جوانی ہر شخص کے لیے ایک بہت ہی بہترین سرمایہ اور موقع ہے، اگر کوئی نوجوان اپنی عمر کا حساب نہ کرے اور یہ نہ جانے کہ اس نے اپنی عمر کے بدلے میں کیا حاصل کیا ہے، تو وہ مستقبل قریب میں اپنا روحانی سرمایہ برباد کر دے گا، لیکن اگر وہ اپنے روزانہ کے حساب پر نظر رکھے اور دیکھے کہ گزرے ہوئے ہر دن کے بدلے میں، اگر اس نے کمال کی طرف ایک قدم اٹھایا ہے تو خوش ہو اور اسے دہرائے، اور اگر فکری و اخلاقی گراوٹ دیکھے تو اس کی تلافی کرنے کی کوشش کرے،تو یہ ظاہر ہے کہ وہ ترقی اور بلندی کی طرف بڑھے گا،امام صادق علیہ السلام نے ابن جندب سے، جو ایک فعال، پرجوش اور با ایمان جوان تھے، فرمایا: " "يا ابنَ جُنْدَب، حقٌّ على كلِّ مسلم يعرفنا أن يَعرض عمله في كلِّ يومٍ وليلة على نفسه فيكون مُحاسَب نفسه، فإنْ رأى حَسَنةً استزاد منها. وإنْ رأى سيِّئةً استغفرَ منها لئلَّا يَخزى يوم القيامة؛ اے پسر جندب! ہر مسلمان جو ہمیں پہچانتا ہے، اس پر حق ہے کہ وہ ہر شب و روز اپنے عمل کو اپنے نفس کے سامنے پیش کرے اور اپنے نفس کا محاسبہ کرے، پس اگر وہ کوئی نیکی دیکھےتو اس میں اضافہ کرے، اور اگر کوئی برائی دیکھے تو اس سے توبہ کرے، تاکہ قیامت کے دن ذلت اور شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے"( تحف العقول، ص .311)
حدیث کے بنیادی پیغامات:
ہر شب و روز جائزہ: روزانہ اپنے اعمال کا جائزہ لینے پر زور دیا گیا ہے۔
مسلسل نگرانی: اپنے کردار اور رویے پر مستقل نگرانی رکھنا ضروری ہے۔
نیک اعمال کے لیے:
انہیں بڑھانے اور ان میں وسعت دینے کی کوشش کرنا۔
بُرے اعمال کے لیے: فوراً توبہ کرنا اور گناہ ترک کرنے کی کوشش کرنا،قیامت کے دن کی رسوائی اور ذلت سے متعلق سخت تنبیہ،محاسبۂ نفس کا تعلق براہ راست اخروی نجات سے ہے؛زندگی میں محاسبہ کا نظام قائم کرنا؛گناہوں کے انبار لگنے سے پہلے ہی روک تھام کرنا۔
یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ: ہر روز اپنے اعمال کے جائزے کے لیے ایک وقت مخصوص کریں،اپنے رویوں کا تنقیدی نقطہ نظر سے جائزہ لیں،نیک اعمال میں اضافے کا باقاعدہ پر اہتمام کریں؛تربیتی طریقہ، جسے "محاسبۃ النفس" کے نام سے جانا جاتا ہے، اسلامی سیر و سلوک کے اہم ترین طریقوں میں سے ہے اور انسانی روحانی و اخلاقی ترقی کا ضامن ہے۔
6 - دوستی کے احساس کو اعتدال میں لانا
انسان اپنے دوستوں کے ساتھ خوشی اور لذت محسوس کرتا ہے،وہ ایک شفیق دوست کے ساتھ بیٹھنے سے نشاط اور قوت حاصل کرتا ہے، اور یہ اس کی ایک فطری ضرورت ہے اور اسے تقویت دی جانی چاہیے، ایک نوجوان اس احساس میں اپنے دوستوں اور ہم فکروں کی طرف کھنچا چلا جاتا ہے، وہ دوستی کا عاشق ہوتا ہے اور اپنے ہم عمروں کے ساتھ تعلق کی تلاش میں رہتا ہےدوسری طرف، جذبات پر غلبے کی وجہ سےاور جوانی کے جوش و خروش، اور عملی سوچ کی ناتمامی کے باعث، ممکن ہے کہ وہ نامناسب دوستوں یا دھوکہ بازوں اور عیاروں کے جال میں پھنس جائے، اس لیے ایک دوست کے انتخاب میں اسے مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام نے بالکل اسی نکتے کی طرف اشارہ کیا اورنوجوانوں کو یوں رہنمائی فرمائی ہے: " الإِخوانُ ثَلاثَةٌ : فَواحِدٌ كَالغِذاءِ الَّذي يُحتاجُ إلَيهِ كُلَّ وَقتٍ فَهُوَ العاقِلُ ، وَالثّاني في مَعنَى الدّاءِ وهُوَ الأَحمَقُ ، والثّالِثُ في مَعنَى الدَّواءِ فَهُوَ اللَّبيبُ ؛ دوست تین طرح کے ہوتے ہیں۔اول: وہ شخص جو خوراک کی طرح ہے جس کی ہر وقت ضرورت ہوتی ہے اور وہ عقلمند دوست ہے دوم: وہ شخص جو انسان کے لیے بیماری اور درد (تکلیف دہ) کی طرح ہےاور وہ احمق اور نادان دوست ہےسوم: وہ شخص جس کا وجود انسان کے لیے حیات بخش دوا کی طرح ہےاور وہ روشن بین اور اہل فکر دوست ہے"( تحف العقول : ص 323 .)
یہ حدیث جوانوں کو سماجی تعلقات کے حوالے سے درج ذیل راہنما اصول فراہم کرتی ہے:
۱. عقل مند ساتھی غذا کے مانند: عقلمند دوست کی مثال غذا سے دی گئی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عقل و تدبیر ،رہنمائی کے ہر مرحلے میں لازمی وضروری ہے اس تعلق کو کبھی منقطع نہیں کرنا چاہیے،جس طرح غذا جسم کو زندہ رکھتی ہے، اسی طرح عاقل دوست روح اور فکر کو زندہ و بیدار رکھتا ہے۔
۲. نادان دوست بیماری کے مانند: نادان یا بیوقوف شخص کو بیماری سے تشبیہ دی گئی ہے، بیماری انسان کو تباہ کرتی ہے، اسی طرح نادان کی دوستی بھی نقصان، ذلت اور نقصان دہ فیصلوں کا سبب بنتی ہے، لہٰذا اس سے مکمل پرہیز ضروری ہے
۳. صاحب بصیرت دوست دوا کےمانند: حکیم (دانشور، صاحبِ بصیرت) دوست کی مثال دوا سے دی گئی ہے، حکیم دوست عارضی طور پر یا مخصوص حالات میں مشاوره دیتا ہے اور اس کی بات میں شفا اور ہدایت ہوتی ہے، اس کی قدر مشکل وقت میں پہچانی جاتی ہے۔
۴. سماجی تعلقات میں بصیرت: یہ حدیث دراصل جوانوں کو یہ تربیتی درس دیتی ہے کہ وہ اپنے تعلقات کو معیار کے لحاظ سے جانچیں اور سمجھیں کہ کس شخص کو لازمی حصہ (غذا)، کس کو مشاور (دوا) سمجھ کر اختیارکرناہے اور کس کو خطرہ (بیماری) سمجھ کردوری اختیارکرناہے۔
7 - شادی کی ضرورت
ہر جوان فطری طور پر شادی کا محتاج ہے اور اس خداداد اور فطری ضرورت کو جائز طریقے سے پورا کیا جانا چاہیے، لیکن بعض نوجوان بعض مشکلات اور سختیوں کا بہانہ بنا کر اس الٰہی سنت سے منہ موڑ لیتے ہیں اور خود کو شیطانی نفس کے جال میں پھنسا لیتے ہیں، انہیں توجہ دلائی جانی چاہیے کہ یہ مقدس عہد تمام اقوام میں موجود رہا ہے اور یہ خداوند متعال کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب بنیاد ہے،شادی سے دو جوانوں کی شخصیت اور ایمان مکمل ہوتا ہے۔
صادق آل محمد علیہ السلام نے فرمایا: " مَن تَزَوَّجَ فقد أحرَزَ نِصفَ دِينِهِ، فَلْيَتَّقِ اللّه َ في النِّصفَ الباقي ؛جس نے شادی کی، اس نے اپنے آدھے دین کی حفاظت کر لی پس اسے چاہیے کہ باقی آدھے دین میں اللہ کا تقویٰ اختیار کرے(بحارالانوار،ج100،ص219)اسی طرح اور ایک اور حدیث میں آپ نے نوجوانوں کو یہ پیغام دیا:"ایک شادی شدہ شخص کی پڑھی ہوئی دو رکعت نماز ایک مجرد شخص کی پڑھی ہوئی 70 رکعتوں سے افضل ہیں""(روضة الواعظین، ج2، 374)
8 - نماز کی ترغیب
ہماری دینی تعلیمات کے مطابق نماز انسان کے کمال کا سبب اور اسے آلودگیوں اور ناپسندیدہ مذموم(بر ے) صفات سے محفوظ رکھنے والی عبادت کانام ہےنیز یہ عمل (نماز)نظم و ضبط کے جذبے کو بیدار کرنے اور انسانی نظام کو برقرار رکھنے میں گہرا اثر رکھتا ہے، نماز پریشان دلوں کے لیے تسلی اور تھکے ہوئے اور فکر مند انسانوں کے لیے سکون کا باعث ہےنماز راہ خدا کے سالکین کی پہچان اور رب العالمین سے سب سے بہترین اور مخلصانہ تعلق کا ذریعہ ہےتجربہ اور اعداد و شمار گواہی دیتے ہیں کہ اسلامی معاشرے میں خلاف ورزی کرنے والوں اور قانون توڑنے والوں کا ایک بڑا فیصد ایسے خاندانوں میں پروان چڑھا ہے جویا تو نماز نہیں پڑھتے یا اسے ہلکا سمجھتے ہیں۔
چھٹے امام نے ایک مسلمان کی روزمرہ کی زندگی میں نماز کی اہمیت کو مختلف طبقات، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے واضح کیا اور فرمایا: إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ الصَّلَاةُ، فَإِنْ قُبِلَتْ قُبِلَ سَائِرُ عَمَلِهِ، وَإِنْ رُدَّتْ رُدَّ سَائِرُ عَمَلِهِ؛(روزِ قیامت) سب سے پہلی چیز جس کے بارے میں بندے سے حساب لیا جائے گا وہ نماز ہے اگر نمازقبول ہو گئی تو اس کے تمام دوسرے اعمال قبول ہو جائیں گے، لیکن اگر اس کی نماز رد ہو گئی تو اس کے دوسرے (نیک) اعمال بھی رد کر دیے جائیں گے(من لایحضره الفقیہ،ج1،ص208)
آپؑ نے نماز سے دوری کے سبب انسان کو ہونے والے نقصانات کے بارے میں ابو جند سے فرمایا: ""وَيْلٌ لِلسَّاهِينَ عَنِ الصَّلَوَاتِ، النَّائِمِينَ فِي الْخَلَوَاتِ،الْمُسْتَهْزِئِينَ بِاللَّهِ وَآيَاتِهِ فِي الْفُرَصَاتِ.أُولَئِكَ الَّذِينَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ،وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ،وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ الیم.افسوس ان لوگوں پر جو نماز سے غفلت کریں، خلوت میں سو جائیں اورفرصت کے وقت خدا اور اس کی آیات کا مذاق اڑائیں، یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے اور خدا قیامت کے دن ان سے بات نہیں کرے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا"(تحف العقول،ص302)ایک اور مقام پر فرمایا"اِنَّ شَفاعَتَنا لا تَنالُ مُسْتَخِفّاً بِالصَّلوةِ. “بیشک ہماری شفاعت اُس شخص کو نہیں پہنچے گی جو نماز کو ہلکا سمجھتا ہو”( انوار البہیہ ص179-180.)
9 – مثبت فکر( سوچ) کو مضبوط کرنا
نوجوانوں میں مثبت سوچ کو مضبوط کر کے ان کے وجود میں اچھی صفات اور نیک خصلتیں پیدا کی جا سکتی ہیں پھر مناسب فضا سازی ذریعہ مثبت خصلتوں کو دہرانے کی ترغیب دی جا سکتی ہے اور ان خصلتوں کو ان کے وجود میں ایک پائیدار عادت کی شکل دی جا سکتی ہے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام نے مثبت فکر پیدا کرنے کے سلسلے میں درج ذیل کلام ارشاد فرمائے ہیں:
الف) دوستوں سے ملاقات اور باہمی تعاون کے احساس کو مضبوط کرنا: آپ نے دوستوں کے ساتھ نیکی کرنے اور ان سے ملنے کو بہترین عبادت قرار دیا اور فرمایا: مَا یُعبَدُ اللهُ بِمِثلِ نَقلِ الأقدامِ إلى بِرِّ الإخوانِ وزیارتِهِم ؛ خدا کی عبادت کسی بھی چیز سے اس طرح نہیں کی جاسکتی جس طرح دینی بھائیوں کے ساتھ نیکی کرنے اور ان کی زیارت و ملاقات کے لیے قدم اٹھانے سے کی جاسکتی ہے"
ب) خدا سے انس: یہ کتنی خوبصورت بات ہے کہ پاکیزہ جوان ہمیشہ خدا کو اپنا بہترین مونس جانیں اور سختیوں میں اسے اپنا ہمدم اور پناہ گاہ قراردیں آپ نے فرمایا: "آنَسُوا باللهِ، وَاستوحَشُوا مِمّا بِهِ استأنَسَ المُترَفون؛ اللہ سے انس پیدا کرو اور اُن چیزوں سے بےرغبت (وحشت محسوس کرو)ہوجاؤ جن سے عیش کرنے والے لوگ مانوس ہو گئے ہیں "()"(تحف العقول،ص301)جی ہاں، وہ خدا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن ان سے دل نہیں لگاتے، وہ خدا سے وابستہ ہوتے ہیں اور اس کی یاد سے انہیں سکون ملتا ہے۔
ج) ہدف کی راہ میں ثابت قدمی: ایمان اور عقیدے کی راہ میں ثابت قدمی کامیابی اور فتح کے اسباب میں سے ایک سبب ہے، ایک نوجوان اس وقت اپنے جائز اور مطلوبہ خوابوں تک پہنچتا ہے جب وہ مستقل مزاجی اور ثابت قدمی رکھتا ہو، ہر نیک نوجوان کی سب سے اہم آرزو حقیقی سعادت اور پروردگارعالم کا تقرب حاصل کرناہے جو تمام کمالات، اور نیکیوں کا مظہر ہے۔
صادق آل محمدنے فرمایا:" لَوْ أَنَّ شِيعَتَنَا اسْتَقَامُوا لَصَافَحَتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَلَأَظَلَّهُمُ الْغَمَامُ، وَلَأَشْرَقُوا نهارًا، وَلَأَكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ، وَلَمَا سَأَلُوا اللهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُمْ؛ اگر ہمارے شیعہ حق کی راہ میں ثابت قدم رہیں تو فرشتے ان سے مصافحہ کریں گے، رحمت کے بادل ان پرسایہ فگن ہوں گے، وہ دن کی طرح چمکیں گے، زمین و آسمان سے روزی کھائیں(حاصل کریں) گے اور جو کچھ خدا سے مانگیں گے وہ انہیں عطا کرے گا""(تحف العقول،ص302)
د) غریبوں کی دستگیری: معلی بن خنیس کہتے ہیں:"امام صادق علیہ السلام (ایک بارش والی رات میں) گھر سے بنی ساعدہ کی گلی کی طرف روانہ ہوئے میں آپ کے پیچھے پیچھے چلاگویا کوئی چیز آپ کے ہاتھ سے زمین پر گر گئی تھی ،میں قریب گیا اور سلام کیا آپ نے فرمایا:"کیا تم ہومعلی ؟" میں نے عرض کیا: جی ہاں، میں آپ پرقربان جاؤں!" آپ نے فرمایا: "اپنے ہاتھ سے زمین پر تلاش کرو، جو کچھ تمہیں ملے وہ مجھےدو" معلی کہتے ہیں: "زمین پر بہت سی روٹیاں پڑی ہوئی تھیں، میں ایک ایک، دو دو تلاش کرتا اور آپ کو دیتا جاتا تھا آپ کے ساتھ ایک تھیلا تھا جو روٹیوں سے بھرا ہوا تھا اور آپ اس کی سنگینی کی وجہ سے اسے مشکل سے اٹھا پارہے تھے، میں نے عرض کیا: "اجازت دیں میں اسے اٹھا لوں" آپ نے فرمایا: "میں تم سے زیادہ اس کا حقدار ہوں، لیکن میرے ساتھ چلو" ہم بنی ساعدہ کی گلی میں پہنچے میں نے ایک گروہ کو دیکھا جو سو رہا تھا،آپ ایک یا دو روٹیاں ان کے سر کے نیچے رکھتے جاتے تھے، جب آخری شخص تک روٹی تقسیم ہو گئی، تو ہم واپس آ گئے، میں نے عرض کیا: یابن رسول الله میں آپ پرقربان جاؤں! کیا یہ لوگ شیعہ ہیں؟" آپ نے فرمایا: "اگر یہ شیعہ ہوتے تو میں نمک میں بھی ان کے ساتھ ایثار کرتا"(تفسیرِ عیاشی، جلد ۲، صفحہ ۱۱۷، شہید مطہری کی عبارت سے استفادہ کرتے ہوئے)
ہ) غذا پر توجہ: ایک مسلمان نوجوان جس طرح اپنے روح کی سلامتی کا خیال رکھتا ہے، اسی طرح جسم کی پرورش میں بھی کوشاں رہتا ہے، وہ کمزور بدن، سست اور تنہائی پسند فرد نہیں ہے، بلکہ اپنی روحانی پرورش کے ساتھ ساتھ اپنی غذا کا بھی خیال رکھتا ہے، وہ صحیح غذا اور ورزش کے ذریعے اپنے جسم کو مضبوط کرتا ہے اور مختلف طریقوں سے اپنی شادابی حاصل کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی وہ جو غذا کھا رہا ہے اس کے حلال و حرام ہونے پر پوری توجہ دیتا ہے اور حرام و ناجائز غذا کے برے اثرات کو اپنے وجود میں ملحوظ رکھتا ہے،امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:شِيعَتُنَا لَا يَأْكُلُونَ الجِریی.... وَلَا يَشْرَبُونَ مُسْكِرًا؛ہمارے شیعہ(جری نامی) مچھلی نہیں کھاتے... اور شراب اور نشہ آور مشروبات استعمال نہیں کرتے"(تحف العقول،ص303)
و) اہل معصیت سے نیک رویہ: دوسروں کے برے اور ناپسندیدہ رویوں اور ان لوگوں کی اصلاح میں جو کسی نہ کسی طرح گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں، ایک مؤثر طریقہ اختیار کرنا چاہیے، ان کے خوف اور مایوسی کو ختم کرنا چاہیے، اور نیک رویے اور امید دلا کر ان کی شکستہ روح کو تقویت دینا چاہیے، امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: لاتَقولُوا في المُذنِبينَ مِن أَهلِ دَعوتِكُم إلّا خَيرًا، وَاستَعِينوا بِاللهِ في تَوفيقِهِم اپنے گناہ گار ہم مذہبوں کے بارے میں سوائے نیکی اور بھلائی کے کچھ نہ کہو، اور خدا سے ان کی ہدایت کی توفیق طلب کرو"(تحف العقول،ص302)
ز) حلال روزی کی فکر: عبد الاعلی بن اعین نے ایک بہت ہی گرم دن میں مدینہ کی ایک گلی میں امام صادق علیہ السلام سے ملاقات کی اور ان بزرگ ہستی سے عرض کیا: "میں آپ پر فدا ہو جاؤں! آپ کے اس مقام، منزلت اور رتبے کے باوجود جو آپ کو خدا کے نزدیک حاصل ہے، اور اس قرابت داری کے باوجود جو آپ کو پیغمبر کے ساتھ ہے، آپ پھر بھی اپنی دنیا کے لیے کوشش کرتے ہیں اور ایسے گرم دن میں خود کود سختی میں ڈالتے ہیں!" امام نے جواب میں فرمایا: "اے عبد الاعلی! میں حلال روزی اور آمدنی کی تلاش میں نکلا ہوں تاکہ تمہارے جیسے لوگوں سے بے نیاز ہو جاؤں" (كافی، ج ،5ص .7)
ح) زندگی میں صحیح منصوبہ بندی: امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: " فَإِنَّ اللهَ يَعلَمُهُم، إِنِّي وَاجِدٌ أَنْ أُطْعِمَهُمُ الحِنْطَةَ عَلَى وَجْهٍ، وَلَكِنِّي أُحِبُّ أَنْ يَرَانِيَ اللهُ قَدْ أَحْسَنْتُ تَقْدِيرَ المَعِيشَةِ. خدا جانتا ہے کہ میں اپنے اہل خانہ کو بہترین طریقے سے گندم کی روزی( روٹی) مہیا کر سکتا ہوں، لیکن میں یہ پسند کرتا ہوں کہ خداوند مجھے زندگی کی صحیح منصوبہ بندی کرتے ہوئے دیکھے" (اعیان الشیع، ج ،1ص 59).









آپ کا تبصرہ