پیر 7 ستمبر 2026 - 02:19
روس میں مذہبی رہنماؤں کا اجلاس؛ علمائے دین سے ظلم و جارحیت کے خلاف متحد ہونے کی ایران کی اپیل

حوزہ/ روس کے شہر سنیٹ پیٹرز برگ میں مذہبی رہنماؤں کے دوسرے بین الاقوامی اجلاس کا انعقاد ہوا، جس میں ایران کے سفیر کاظم جلالی اور مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین حمید شہریاری نے شرکت اور خطاب کرتے ہوئے عالمی اخلاقی اقدار کو درپیش چیلنجز، بالخصوص فلسطینی عوام کے حقوق کی پامالی اور صیہونی حکومت کے جاری جرائم پر ایران کے مؤقف کو واضح کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، روس کے شہر سنیٹ پیٹرز برگ میں مذہبی رہنماؤں کا دوسرا بین الاقوامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسلامی جمہوریہ ایران، روس اور مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے مذہبی رہنماؤں، علما اور شخصیات نے شرکت کی۔ اجلاس میں اسلامی و دینی اقدار کے تحفظ، انسانی کرامت و عدالت، مذاہب کے درمیان اتحاد، عالمی اخلاقی بحران اور فلسطین و غزہ میں صیہونی حکومت کے جاری جرائم سمیت اہم عالمی مسائل پر گفتگو کی گئی۔

اجلاس سے روس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر ڈاکٹر کاظم جلالی اور مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی کے سیکریٹری جنرل حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر حمید شہریاری نے خطاب کیا اور ایران کے مؤقف کو واضح کیا۔

روس میں مذہبی رہنماؤں کا اجلاس؛ علمائے دین سے ظلم و جارحیت کے خلاف متحد ہونے کی ایران کی اپیل

حمید شہریاری: انسانی کرامت اور عدالت اسلامی نظام کی بنیادی اقدار ہیں

مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی کے سیکریٹری جنرل حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر حمید شہریاری نے اپنے خطاب میں موجودہ عالمی بحرانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس بحرانی دور میں دو بنیادی اسلامی اقدار، یعنی کرامت اور عدالت پر توجہ دینا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرامت ایک انسانی قدر ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو عطا کی ہے اور اس کا تعلق کسی خاص دین، مذہب یا عقیدے سے نہیں ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے: «وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ» یعنی ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی۔

انہوں نے عدالت کو دوسرے انسان کے حق کی رعایت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اعلیٰ ترین اور قابل قبول اجتماعی اقدار میں سے ہے، جبکہ ظلم دوسرے انسان کے حق کو تجاوز اور دشمنی کے ذریعے سلب کرنے کا نام ہے۔

انسان کے بنیادی حقوق کا احترام سب پر لازم ہے

ڈاکٹر شہریاری نے انسانی حقوق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انسان کو زندگی، خوراک، پانی، اپنے وطن میں رہنے اور آزادی جیسے مسلم حقوق حاصل ہیں اور ان حقوق کا احترام سب پر لازم ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی انسان کو ناحق قتل کرنا، اسے محاصرے میں رکھنا اور خوراک، پانی، رہائش اور وطن کے حق سے محروم کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ہے۔ یہ وہ انسانی اصول ہیں جن کا قرآن کریم نے حکم دیا ہے اور مسلمانوں پر لازم ہے کہ مخاطب کے دین، مذہب اور نظریے سے قطع نظر ان اصولوں کا احترام کریں۔

روس میں مذہبی رہنماؤں کا اجلاس؛ علمائے دین سے ظلم و جارحیت کے خلاف متحد ہونے کی ایران کی اپیل

فلسطینیوں کے حقوق کی پامالی عالمی اخلاقی بحران کی واضح مثال ہے

مجمع جہانی تقریب کے سیکریٹری جنرل نے دنیا میں اخلاقی اقدار کو درپیش وسیع چیلنجوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج یہی بنیادی حقوق فلسطینی عوام سے سلب کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حقِ زندگی بنیادی انسانی حقوق میں سب سے اہم ہے، لیکن فلسطینی عوام کئی دہائیوں سے ظلم و جبر، جبری بے دخلی اور محرومی کا سامنا کر رہے ہیں۔

حجۃ الاسلام والمسلمین شہریاری نے کہا کہ امریکہ، نظامِ سلطہ اور غاصب صیہونی حکومت کی حمایت سے فلسطین کے ایک حصے پر قبضہ کیا گیا اور فلسطینی عوام کو ان کے وطن سے بے دخل کرکے ان کے گھروں کو تباہ اور ان کے اموال و جائیداد کو لوٹا گیا، جس کے نتیجے میں انہیں بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کی جبری ہجرت کا سلسلہ کئی نسلوں سے جاری ہے اور آج غزہ میں لاکھوں فلسطینی انتہائی دشوار حالات میں زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ ہزاروں عام شہری، بالخصوص خواتین اور بچے، صیہونی حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔

غزہ اور لبنان میں صیہونی جرائم نسل کشی اور نسل کا خاتمہ ہے

ڈاکٹر شہریاری نے غزہ، لبنان اور دیگر اسلامی ممالک میں صیہونی حکومت کی کارروائیوں کو نسل کشی و نسل کا خاتمہ ہے اور اجتماعی قتل عام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جرائم انسانی حقوق کے دعویدار عالمی نظام کے دوہرے معیار کو ظاہر کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر بے گناہوں کا قتل برا ہے تو ہر جگہ برا ہونا چاہیے اور اگر لوگوں کو ان کے وطن سے بے دخل کرنا غلط ہے تو ہر جگہ غلط ہونا چاہیے، لیکن افسوس کہ صیہونی حکومت بچوں اور خواتین کے قتل کو ’’منصفانہ جنگ‘‘ اور انسانی حقوق کے دفاع کو ’’دہشت گردی‘‘ قرار دیتی ہے۔

روس میں مذہبی رہنماؤں کا اجلاس؛ علمائے دین سے ظلم و جارحیت کے خلاف متحد ہونے کی ایران کی اپیل

کاظم جلالی: ہمیں ظلم و ناانصافی کے مقابل کھڑا ہونا ہوگا

روس میں ایران کے سفیر ڈاکٹر کاظم جلالی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سنیٹ پیٹرز برگ کی تاریخی حیثیت اور مزاحمت کے جذبے کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ وہ ایسی سرزمین کی نمائندگی کرتے ہیں جو امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے مقابل مزاحمت کر رہی ہے اور اس مقابلے میں کامیاب ہوئی ہے۔

انہوں نے موجودہ دور میں دینی اور روایتی اقدار کے کمزور ہونے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آج ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم دین کے ظاہری پہلوؤں پر توجہ دے رہے ہیں یا اس کے حقیقی اور بنیادی پیغام کو سمجھ رہے ہیں۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ ہمیں یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ فلسطین میں دسیوں ہزار انسانوں کے قتل اور غزہ میں خواتین و بچوں کے قتل نے کیا علما اور دانشوروں کو بیدار کیا ہے؟ اسی طرح میناب میں بچوں کے قتل اور امریکہ کے حالیہ حملوں نے کیا ہمیں دین کے حقیقی جوہر کی طرف متوجہ نہیں کیا؟

انہوں نے کہا کہ ہم سب دینی انتہا پسندی کی مخالفت کی بات کرتے ہیں، لیکن اگر علما ظلم اور شیطانی قوتوں کے خلاف جدوجہد کی بات نہ کریں تو کیا اس سے انتہا پسندی کے فروغ کا راستہ ہموار نہیں ہوگا؟

ڈاکٹر جلالی نے صیہونیت کے عزائم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ صیہونیت مسلمانوں، عیسائیوں اور حقیقی یہودیوں کے لیے بھی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور جدید و پیشرفتہ ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے دینی و انسانی روایات، اخلاق اور عدالت کو نشانہ بنا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ آج فرعونی انداز کے ساتھ تمام ادیانِ الٰہی کے پیروکاروں کے مقابل کھڑا ہے، جبکہ انبیائے الٰہی ہمیشہ ظلم کے مقابل کھڑے ہوئے ہیں۔ لہٰذا ہمیں بھی ظلم اور ناانصافی کے مقابل کھڑا ہونا ہوگا، جس کا موجودہ دور میں نمایاں مظہر امریکہ ہے۔

روسی مذہبی رہنماؤں کا دینی و اخلاقی اقدار کے تحفظ پر زور

اجلاس کے آغاز میں سنیٹ پیٹرز برگ کے گورنر الیگزینڈر بیگلوف نے مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے شہر میں مختلف ادیان و مذاہب کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ روس میں نوجوانوں کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے مختلف پالیسیاں، قوانین اور منصوبے دینی و روحانی اقدار کی بنیاد پر تشکیل دیے گئے ہیں اور یہ اجلاس ادیان و مذاہب کے درمیان قربت اور عوام کے اتحاد کے لیے ایک مناسب موقع ہے۔

سنیٹ پیٹرز برگ کے آرتھوڈوکس بشپ نے بھی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں اخلاقی اصولوں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، اس لیے دینی و اخلاقی اقدار کو مضبوط کرنا ہماری بنیادی ذمہ داری ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ایمان انسان کو تدبر و تفکر کی دعوت دیتا ہے اور ہم آنے والی نسلوں کے سامنے ذمہ دار ہیں۔ سنیٹ پیٹرز برگ صدیوں سے مختلف ادیان و مذاہب کے اتحاد اور حسنِ ہم جواری کا میدان رہا ہے۔

روسی مسلم مجلس کے سربراہ البر گرکانوف نے بھی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دینی اور روایتی اقدار کے تحفظ پر زور دیا اور کہا کہ یہی اقدار معاشرے اور ثقافت کو نجات کی سمت لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

انہوں نے مغربی تہذیب کے مادی نقطۂ نظر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج صرف علما ہی نہیں بلکہ دنیا کے تمام خدا پرستوں کو متحد ہونے کی ضرورت ہے تاکہ انتہاپسند مادیت کے مقابل کامیابی حاصل کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ آج روحانیت کے تحفظ کے لیے ایک اہم معرکہ جاری ہے اور ہمیں مغربی و مادی اثرات کے مقابل مزاحمت کرتے ہوئے اپنی دینی، انسانی اور روحانی اقدار کو محفوظ رکھنا ہوگا۔

ایران اور روس کے تعلقات کے فروغ پر بھی اظہارِ اطمینان

ڈاکٹر کاظم جلالی نے اپنے خطاب کے اختتام پر ایران اور روس کے درمیان تعلقات کے فروغ پر اطمینان کا اظہار کیا۔

اجلاس کے دوران اسلامی ثقافت و ارتباطات تنظیم کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین محمدمهدی ایمانی پور کا پیغام بھی پیش کیا گیا، جو سنیٹ پیٹرز برگ کے مفتی اعظم راویل پنجایف کے حوالے کیا گیا۔

مذہبی رہنماؤں کے اس بین الاقوامی اجلاس میں مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ موجودہ عالمی بحرانوں اور اخلاقی چیلنجوں کا مقابلہ دینی و انسانی اقدار، عدالت، کرامت، باہمی احترام اور ادیان و مذاہب کے درمیان اتحاد کو مضبوط بنا کر کیا جا سکتا ہے، جبکہ فلسطین اور غزہ میں جاری انسانی المیے کے خاتمے اور مظلوم فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کی حمایت کو عالمی برادری کی ذمہ داری قرار دیا گیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha