حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، معارف اہلِ بیت علیہم السلام کا بحرِ بے کراں ان کے ادب اور احترام کی دقیق رعایت کا تقاضا کرتا ہے اور حقیقی علماء اس حریم کے نگہبان ہوتے ہیں۔
آیت اللہ العظمیٰ بروجردی نے امام عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ساتھ ایک مرجع تقلید کے نامناسب تقابل پر مشتمل جملہ سنتے ہی اہلِ سخن کی گفتگو روک کر یہ واضح کر دیا کہ عظیم ترین مرجعیت بھی امام عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے احترام میں کسی خلل کا باعث نہیں بننی چاہیے۔
مرحوم آیت اللہ حاج شیخ ہاشم تقدیری فرماتے تھے: دانشمند عالم آقا سید نورالدین نجفی شهرستانی نے مجھ سے نقل کیا: ایک روز میں اپنے مرحوم والد کے ہمراہ تہران سے قم آیا اور ہم مرحوم آیت اللہ العظمیٰ بروجردی کی خدمت میں ملاقات کے لیے حاضر ہوئے۔ اس روز معصومین علیہم السلام میں سے ایک مقدس ہستی کی ولادت باسعادت کا دن تھا اور اسی مناسبت سے جشن کی مجلس منعقد تھی۔ تہران سے ایک مداح بھی آیا ہوا تھا۔ اس نے امامِ ہُمام علیہ الصلاۃ والسلام کی مدح میں چند اشعار پڑھے۔ جب مدح مکمل کی تو کہا: ’’میں اس ولادت باسعادت کی حضرت صاحب الزمان اور مرجعِ عالی قدر آیت اللہ العظمیٰ بروجردی کی مقدس بارگاہ میں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔‘‘
جیسے ہی آیت اللہ بروجردی نے یہ جملہ سنا، فرمایا: ’’کافی ہے!‘‘
پھر فرمایا: ’’کس نے اسے یہ بات کہنے کی اجازت دی؟ بروجردی کون ہے کہ حضرت بقیۃ اللہ الاعظم عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ساتھ ان کی خدمت میں مبارکباد پیش کی جائے؟‘‘ اور اس پر آپ انتہائی ناراض ہوئے۔
یہی وہ عقل و تدبیر ہے جو اہلِ بیت عصمت و طہارت کے احترام کے تحفظ میں جاری و ساری رہتی ہے۔
ماخذ: ’’حقیقت پنهان‘‘، صفحہ ۴۴۵









آپ کا تبصرہ