جمعہ 11 ستمبر 2026 - 14:40
احکام/مصنوعی تنفس کے آلات بند کرنے کا شرعی حکم

حوزہ/آیت اللہ العظمی سیستانی نے مصنوعی تنفس کے آلات بند کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی | آیت اللہ العظمی سیستانی نے مصنوعی تنفس کے آلات بند کرنے کا شرعی حکم کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیا ہے؛ جسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

سوال:

اگر کوئی مریض طبی اعتبار سے موت (Clinical Death) کی حالت میں ہو اور مصنوعی تنفس کے آلات پر رکھا گیا ہو، جبکہ مریض کے اہلِ خانہ ان آلات کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں، تو کیا شرعاً ان آلات کو بند کرنا جائز ہے؟ جبکہ ان آلات کو بند کرنے سے مریض کی موت واقع ہو جائے گی؟

جواب:

اگر مریض مسلمان ہے تو ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔ مریض کے اہلِ خانہ کا ان آلات کے اخراجات فراہم کرنے سے عاجز ہونا، انہیں بند کرنے کے لیے شرعی عذر نہیں ہے؛ بلکہ دوسرے لوگوں پر لازم ہے کہ وہ ان آلات کے اخراجات فراہم کرنے میں مدد کریں، کیونکہ جو شخص اس کی استطاعت رکھتا ہو اس پر مسلمان کی زندگی برقرار رکھنے میں تعاون کرنا واجب ہے۔

اور جو ڈاکٹر اپنے دین کا پابند ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ ان آلات کو بند کرنے سے انکار کرے۔ اگر کوئی دوسرا شخص انہیں بند کر دے تو اس ڈاکٹر پر اس وجہ سے کوئی گناہ نہیں ہوگا۔

حوالہ:

ویب سائٹ آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی (دام ظلہ)

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha