جمعرات 24 ستمبر 2026 - 21:36
فلسطینی اور لبنانی بچوں کی نسل کشی کے خلاف روم میں پادریوں کی احتجاجی ریلی

حوزہ / سو سے زائد پادریوں نے اسرائیل کے ہاتھوں قتل ہونے والے تقریباً 300 فلسطینی اور لبنانی بچوں کے نام اپنے ساتھ دعا کرتے ہوئے روم کی سڑکوں پر مارچ کیا۔ ’’پادری؛ نسل کشی کے خلاف‘‘ نامی نیٹ ورک کی جانب سے منعقدہ یہ ریلی ’’لیونارڈو‘‘ کمپنی کے صدر دفتر کے سامنے امن، سفارت کاری اور تشدد کے خاتمے کی اپیل کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اٹلی کے مختلف علاقوں اور 8 ممالک سے تعلق رکھنے والے سو سے زائد پادریوں نے منگل 22 ستمبر 2026ء کو بین الاقوامی نیٹ ورک ’’پادری؛ نسل کشی کے خلاف‘‘روم کی سڑکوں پر نکالی جانے والی دوسری ریلی میں شرکت کی۔

یہ نیٹ ورک ایک سال قبل قائم کیا گیا تھا۔ یہ پروگرام دعا اور مذہبی ترانوں کے ساتھ شروع ہوا۔ ریلی کا آغاز ویٹیکن کے قریب واقع سانتو اسپیریتو اِن ساسیا چرچ سے ہوا اور ’’پراتی‘‘ کے علاقے میں واقع لیونارڈو کمپنی کے صدر دفتر کے سامنے اختتام پذیر ہوئی۔

اس ریلی کے مرکز میں ایک سفید کپڑا کفن کی مانند رکھا گیا تھا جس پر تقریباً 300 فلسطینی اور لبنانی بچوں کے نام درج تھے، جنہیں اسرائیلی حکومت نے دو جنگ بندیوں کے اعلان کے بعد قتل کیا تھا۔

شرکاء نے ہاتھوں میں زیتون کی شاخیں بھی اٹھا رکھی تھیں اور مختلف زبانوں میں دعائیں کر رہے تھے۔ ریلی کی قیادت کرنے والوں میں مونسینیور جووانی ریکیوتی اور مونسینیور کریستیان کارلاسارے بھی شامل تھے۔

اس نیٹ ورک کے اہم اراکین میں شامل ڈان ریتو مارِسکا نے’’آنسا‘‘ نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’’ہمارا بنیادی مقصد مسیحی برادریوں میں شعور بیدار کرنا ہے۔‘‘ یہ تحریک تنازعات سے متاثرہ لوگوں کے ساتھ دعا اور عوامی سطح پر موجودگی کے ذریعے اظہارِ یکجہتی کے مقصد سے وجود میں لائی گئی ہے۔

ریلی کے دوران بعض پادریوں نے پوپ لیو چہاردہم کے ’’غیر مسلح اور اسلحہ سے پاک امن‘‘ کے حوالے سے دیے گئے بیان کا بھی ذکر کیا اور فوجی اخراجات اور عسکری پیداوار میں اضافے پر تنقید کی۔ اٹلی میں ’’پیکس کرسٹی‘‘ تنظیم کے صدر مونسینیور جووانی ریکیوتی نے اسلحہ میں سرمایہ کاری جاری رکھنے پر تنقید کی، جبکہ دیگر شرکاء نے تنازعات کے خاتمے کے لیے مزید سفارتی اقدامات کا مطالبہ کیا۔

قابل ذکر ہے کہ ’’پادری نسل کشی کے خلاف‘‘ نیٹ ورک کے مطابق، اس وقت 60 سے زائد ممالک میں اس کے 2500 سے زیادہ ارکان موجود ہیں جو تل ابیب کی حکومت کی جانب سے مبینہ جرائم کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha