حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیری زنجانیؒ کے انتقال پر شیعہ علماء اسمبلی ہند نے تعزیتی پیغام جاری کیا ہے جس کا متن حسب ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
عالمِ ربانی، فقیہِ اہلِ بیت علیہم السلام، اصولیِ محقق، محدثِ متبحر، رجالیِ مدقق، حوزۂ علمیہ قم کے رکنِ رکین اور مرجعِ جلیل القدر حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیری زنجانیؒ کے ارتحالِ جانگداز کی خبر سے عالمِ تشیع، بالخصوص حوزاتِ علمیہ اور اربابِ فقہ و تحقیق کو گہرا رنج و صدمہ پہنچا ہے۔
آپؒ کی حیاتِ علمی اجتہاد و استنباط، تدریسِ خارج، تنقیحِ مبانیِ فقہ و اصول، تحقیقِ نصوص، نقدِ اسانید، علمِ رجال و درایۃ الحدیث، تتبعِ اقوال اور تربیتِ فضلاء سے عبارت تھی۔ فقہی مسائل میں دقتِ نظر، عمقِ استدلال، اصالتِ تحقیق اور احتیاطِ علمی، جبکہ رجال و حدیث میں اسناد کی تنقیح، طبقاتِ رواۃ کی معرفت، متون و مصادر کا تقابلی مطالعہ اور قرائنِ حدیثی سے استمداد ان کے منہجِ علمی کے نمایاں امتیازات تھے۔
ان کی شخصیت میں علم و تقویٰ، فقاہت و ورع، تحقیق و تواضع، بصیرت و اعتدال کا حسین امتزاج تھا۔ انہوں نے اپنے دروس، تحقیقات اور تلامذہ کے ذریعے مکتبِ فقاہت و اجتہاد کی ایک علمی روایت کو استحکام بخشا، جس کے آثار مدتوں باقی رہیں گے۔
ایسے فقیہِ محقق، رجالیِ بصیر اور مربیِ فضلاء کا فقدان محض ایک عالم کی رحلت نہیں بلکہ معاصر حوزوی علمی میراث کے لیے ایک عظیم خسارہ ہے۔
شیعہ علماء اسمبلی ہند حضرت ولی عصر امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف، ولی فقیہ، مراجعِ عظامِ تقلید، حوزاتِ علمیہ، اساتذہ و فضلاء، تلامذہ و عقیدت مندوں اور بالخصوص پسماندگان کی خدمت میں صمیمِ قلب سے تعزیت و تسلیت پیش کرتی ہے۔
شیعہ علماء اسمبلی ہند
22 ستمبر 2026










آپ کا تبصرہ