حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرکزی ادارۂ شرعیہ پٹنہ کے زیرِ اہتمام پہلی اہم مشاورتی نشست مرکزی ادارۂ شرعیہ کے صدر غلام رسول بلیاوی سابق رکن پارلیمنٹ و چیئرمین اقلیتی کمیشن بہار، کی صدارت میں رئیس القلم سیمنار ہال میں منعقد ہوئی۔ نشست میں علماء، وکلا، پروفیسر، ماہرین تعلیم، اسکالرز اور دانشور حضرات نے شرکت کی اور تعلیمی ضرورت، عملی منصوبہ بندی اور مستقبل کے امکانات پر تفصیلی گفتگو کی۔

نشست سے خطاب کرتے ہوئے مولوی غلام رسول بلیاوی نے کہا کہ موجودہ دور کے چیلنجز سے ہر شخص واقف ہے۔ ایسے حالات میں قوم و ملت کے مستقبل کو محفوظ اور تابناک بنانے کے لیے مضبوط، دور رس اور نتیجہ خیز لائحۂ عمل اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مدارس اسلامیہ سے ہر سال بڑی تعداد میں طلبہ دینی تعلیم مکمل کرکے فارغ ہوتے ہیں، مگر ان کے لیے عصری اور اعلی پیشہ ورانہ تعلیم کے دروازے محدود رہ جاتے ہیں۔ اسی طرح مسلم معاشرے کے بے شمار باصلاحیت بچے وسائل اور مناسب رہنمائی نہ ملنے کے باعث اعلی تعلیم کے مواقع سے محروم رہ جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہی ضرورتوں کو محسوس کرتے ہوئے مرکزی ادارۂ شرعیہ نے ایک ایسا تعلیمی منصوبہ شروع کرنے کا عزم کیا ہے، جس کے ذریعے مدارس کے فارغین اور مسلم طلبہ کو NEET، JEE، NEST، IAT، BPSC جیسے اعلی سطح کے مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے معیاری تعلیم، رہنمائی، رہائش اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ ہمارا مقصد صرف چند طلبہ کو امتحان کے لیے تیار کرنا نہیں، بلکہ ایک ایسی نسل تیار کرنا ہے جو علم، کردار اور صلاحیت کے ساتھ ملک و ملت کی تعمیر میں مؤثر کردار ادا کرسکے اور دنیا و آخرت کامیابی کے سامان مہیا کر سکے۔

انہوں نے اسکے پس منظر، ضرورت، اغراض و مقاصد اور مستقبل کے منصوبے پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کو کامیابی سے زمین پر اتارنے کے لیے اہل علم، ماہرین تعلیم، دانشوران، اہل ثروت اور قوم کے تمام طبقات کو آگے آنا ہوگا۔ انہوں نے تمام مندوبین اور شرکائے نشست سے اس پروگرام کے سلسلے میں اپنی آرا، تجاویز اور عملی تعاون پیش کرنے کی اپیل کی۔
نشست کے کوآرڈینیٹر جناب یعقوب اشرفی نے اپنی ذمہ داری بخوبی نبھاتے ہوئے تمام شرکاء کو اظہار خیال کا موقع فراہم کیا۔
سابق رکن بہار پبلک سروس کمیشن جناب امتیاز کریمی نے مرکزی ادارہ شرعیہ کی ایک مضبوط، مستحکم اور دور رس تعلیمی کاوش قرار دیتے ہوئے اس اقدام کی ستائش کی۔
انہوں نے کہا کہ مدارس کے طلبہ میں ذہانت، صلاحیت اور اخلاقی تربیت کی کوئی کمی نہیں ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ انہیں درست سمت، معیاری رہنمائی اور مناسب مواقع فراہم کیے جائیں۔ اگر مدارس کے فارغین ڈاکٹر، انجینئر، افسر اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ماہرین بنیں تو وہ ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں۔ صحیح گائیڈنس ملنے کی صورت میں ان بچوں کا مستقبل نہایت روشن ہوسکتا ہے۔

اس موقع پر ڈاکٹر امجد رضا امجد نے کہا کہ موجودہ دور میں دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم بھی ناگزیر ہوچکی ہے۔ ہمیں اپنے طلبہ کو اس معیار تک تعلیم دینی ہوگی کہ وہ ملک کی ضرورت بن جائیں۔ ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہے جسے ملازمت تلاش کرنے کی ضرورت نہ پڑے بلکہ اس کی علمی و فنی صلاحیتوں کی وجہ سے ادارے اور شعبے خود اس کے محتاج ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔
ڈاکٹر سجاد عالم نے کہا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مدارس کے طلبہ زندگی کے ہر اہم شعبے میں اپنی موجودگی درج کروائیں۔
انہوں نے زبانوں کی تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہمارے بچوں کو مختلف زبانوں سے واقفیت حاصل ہوجائے تو وہ عالمی سطح پر اپنی دینی، علمی، تعلیمی اور سماجی خدمات کو زیادہ مؤثر انداز میں عام کرسکتے ہیں۔ موجودہ دور میں عالمی سطح کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے زبان اور جدید علوم پر عبور انتہائی ضروری ہے۔

سید فیض احمد قادری نے کہا کہ ہماری قوم کے پاس صلاحیت اور ذہانت کی کمی نہیں، اصل مسئلہ وسائل کی کمی ہے۔ مالی وسائل کی کمزوری کے باعث بہت سے باصلاحیت بچے اپنی منزل تک نہیں پہنچ پاتے۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی ادارہ شرعیہ نے یہ جو قدم اٹھایا ہے، اس نوعیت کی کوششوں میں قوم کے اہل خیر اور صاحبِ استطاعت افراد کو بھرپور تعاون کرنا چاہیے، تاکہ کسی باصلاحیت بچے کا مستقبل محض وسائل کی کمی کی وجہ سے تاریک نہ ہو۔
شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین جناب ارشاد علی آزاد نے اس پروگرام کے لئے ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ وہ اس منصوبے کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس کی کامیابی میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس پروگرام سے جڑ کر ہم بھی اپنی قوم و ملت کے مستقبل کی ایک نئی عبارت لکھنے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

ادارۂ شرعیہ جھارکھنڈ کے ناظم اعلی مولوی قطب الدین رضوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مرکزی ادارۂ شرعیہ وہ عظیم علمی و ملی ادارہ ہے جسے جناب ارشد القادری نے قائم فرمایا تھا۔ اس ادارے نے ہر دور میں وقت کے تقاضوں اور بدلتے ہوئے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے قوم و ملت کی رہنمائی اور خدمت میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔اس وقت ہماری نئی نسل کے تعلیمی و معاشی مستقبل کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے، ایسے وقت میں مرکزی ادارۂ شرعیہ کی جانب سے اس کا قیام ایک اہم اور قابل تحسین پیش رفت ہے۔
مولوی قطب الدین رضوی نے اس پروگرام کی بھرپور تحسین کرتے ہوئے کہا کہ ادارۂ شرعیہ نے مستقبل کے تقاضوں کو محسوس کرتے ہوئے اپنی نئی نسل کے لیے ایک مضبوط تعلیمی راستہ ہموار کرنے کا عزم کیا ہے۔
نشست میں شریک ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی، مولوی قمر الزماں سمیت دیگر متعدد اسکالرز، پروفیسروں، ماہرین تعلیم اور دانشوران نے بھی اپنے قیمتی مشوروں اور تجاویز سے نوازا۔
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے پروگرام کو محض ایک تعلیمی ادارے کے طور پر نہیں، بلکہ مدارس اور مسلم معاشرے کے باصلاحیت طلبہ کے لیے اعلی تعلیم کے ایک مضبوط پلیٹ فارم کے طور پر آگے بڑھایا جائے، جہاں دینی اقدار کے ساتھ جدید علوم اور پیشہ ورانہ تعلیم کا حسین امتزاج قائم ہو۔
اس موقع پر اس پروجیکٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عارف عطاری نے پروجیکٹر کے ذریعے اس پروگرام کے مکمل منصوبہ، تعلیمی خاکہ، مستقبل کے اہداف، امتحانات کی تیاری، رہائش و دیگر سہولیات و امتیازی خصوصیات اور عملی پروگرام کا تفصیلی پریزنٹیشن پیش کیا۔
شرکائے نشست نے ڈاکٹر عارف عطاری اور ان کی ٹیم کی محنت، منصوبہ بندی اور تعلیمی وژن کو قابل تحسین قرار دیتے ہوئے ان کی کاوشوں کو سراہا اور اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے اجتماعی تعاون کے عزم کا اظہار کیا۔

نشست کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اس پروگرام کو ایک مضبوط اور مثالی تعلیمی منصوبے کی شکل دی جائے گی، تاکہ مدارس اور مسلم معاشرے کے باصلاحیت طلبہ کو NEET، JEE، NEST، IAT، BPSC اور دیگر مسابقتی امتحانات کے لیے معیاری تیاری کا موقع مل سکے اور وہ ملک کے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا مؤثر استعمال کرتے ہوئے قوم و ملت کی خدمت کرسکیں۔
آخر میں مولوی غلام رسول بلیاوی نے اپنے صدارتی کلمات میں تمام مندوبین اور شرکائے نشست کی آرا، تجاویز اور مشوروں کی روشنی میں اپنے دلی جذبات اور آئندہ کے لائحۂ عمل کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس عظیم تعلیمی منصوبے کو محض گفتگو اور مشاورت تک محدود نہیں رکھا جائے گا،بلکہ اسے عملی شکل دینے کے لیے منظم اور مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے اس کو عملی طور پر زمین پر اتارنے کے لیے نصابی کمیٹی، سلیکشن کمیٹی، فنڈنگ کمیٹی سمیت دیگر ضروری کمیٹیوں کی تشکیل دیئے جانے کا اعلان کیا اور کہا کہ تمام کمیٹیاں اپنی اپنی ذمہ داریوں کو سنبھالتے ہوئے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں اپنا کردار ادا کریں گی۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس کو ایک مضبوط، منظم اور نتیجہ خیز تعلیمی منصوبے کی شکل دینے کے لیے عنقریب عملی کارروائی شروع کردی جائے گی۔
انہوں نے تمام علماء، ماہرین تعلیم، دانشوران، اہل ثروت اور ملت کے تمام مخلص افراد کاپر خلوص شکریہ ادا کیا اور اس مشن میں بھرپور تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک ادارے یا چند افراد کا منصوبہ نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے تعلیمی اور روشن مستقبل کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔










آپ کا تبصرہ