حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ ایران کے شعبہ تعلیم کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین مقیمی حاجی نے کہا ہے کہ دینی مدارس کے نظامِ تعلیم میں تبدیلی کے منصوبے کو اساتذہ، ماہرینِ تعلیم اور مدرسین کے مشوروں اور بنیادی تعلیمی پالیسیوں کے جائزے کے ساتھ آگے بڑھایا جا رہا ہے، تاکہ عصرِ حاضر کی ضروریات کے مطابق ایک مؤثر اور متحرک نظام تشکیل دیا جا سکے اور مدارس کی علمی روایات و خصوصیات بھی محفوظ رہیں۔
حجۃ الاسلام والمسلمین مقیمی حاجی نے اساتذہ اور تعلیمی ماہرین کے ساتھ ایک نشست میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رہبر شہید کے ’’حوزہ پیشرو و سرآمد‘‘ کے منشور کے بعد نظامِ تعلیم میں تبدیلی کے منصوبے پر غور و خوض کے لیے متعدد نشستیں منعقد کی گئیں۔ ان میں نصاب، درسی کتابوں کے مواد، تعلیمی اوقات اور عربی ادب، حدیث و قرآن جیسے مضامین کا جائزہ لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ماہرین کے جائزوں سے یہ بات سامنے آئی کہ نصاب اور تدریسی اوقات میں تبدیلی سے پہلے نظامِ تعلیم کے بنیادی اصولوں اور مجموعی پالیسیوں پر اتفاقِ رائے ضروری ہے۔ اگر بنیادی پالیسیوں کا تعین کیے بغیر نصاب کی جزئیات پر کام شروع کیا جائے تو بعد میں اہم امور پر اختلافات پیدا ہونے اور ماہرین کی کوششیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
سربراہ شعبہ تعلیم کے مطابق، اس منصوبے کا ابتدائی مسودہ گزشتہ سال ستمبر میں حوزہ ہائے علمیہ کی اعلیٰ کونسل کو بھیجا گیا تھا۔ بعد ازاں ایک دوسرے تحقیقی ادارے میں تیار کیے گئے منصوبے کا بھی جائزہ لیا گیا، تاکہ دونوں منصوبوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں یکجا کرنے کے امکانات پر غور کیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ ماہرین کی آرا کی روشنی میں ہر بنیادی سوال کے مختلف پہلوؤں، موافقین کے دلائل، مخالف آرا اور تنقیدی نکات کو الگ الگ مرتب کیا گیا ہے، تاکہ اعلیٰ کونسل پالیسیوں کے تعین کے وقت تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر فیصلہ کر سکے۔
مقیمی حاجی نے مزید کہا کہ اعلیٰ کونسل میں دیگر امور کی مصروفیت اور سال کے آخری مہینوں کے خصوصی حالات کے باعث جائزے کا عمل کچھ عرصے کے لیے متاثر ہوا، تاہم اب اس پر دوبارہ کام جاری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اساتذہ، تعلیمی ماہرین، مدارس کے سربراہان اور تخصصی مراکز کے ذمہ داروں سے مشاورت کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔ ان کی تجاویز جمع کرکے اعلیٰ کونسل کے سامنے پیش کی جائیں گی۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اساتذہ اور ماہرین کی آرا اور بنیادی تعلیمی پالیسیوں کے جامع جائزے سے ایسا مؤثر نظام تشکیل پائے گا جو مستقبل کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ حوزہ علمیہ کی علمی روایات، شناخت اور قیمتی علمی ورثے کو بھی محفوظ رکھے گا۔










آپ کا تبصرہ