حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ ایران کے دوسرے وژن کی تیاری کے منصوبے سے متعلق ایک نشست میں اس دستاویز کی تیاری کے مراحل، تحقیقی طریقۂ کار، مستقبل کے تقاضوں اور اس پر عمل درآمد کے طریقوں کی وضاحت کی گئی۔ یہ نشست 18 اکتوبر 2026ء کو حوزہ نیوز ایجنسی کے دفتر میں منعقد ہوئی، جس میں حجۃ الاسلام والمسلمین سید حسن میرمعزی اور حجۃ الاسلام والمسلمین غلام رضا بہروزی لک نے شرکت کی۔
حجۃ الاسلام والمسلمین سید حسن میرمعزی، جو حوزہ اور روحانیت کے اسٹریٹجک مطالعات کے تحقیقی مرکز کے سربراہ ہیں، انہوں نے بتایا کہ حوزہ ہائے علمیہ کے پہلے وژن کی مدت گزشتہ برس مکمل ہو گئی تھی۔ اسی سال نئے وژن کی تیاری کی ضرورت پیش کی گئی، تاہم مختلف حالات اور جنگ کے باعث اس عمل میں تاخیر ہوئی۔ بالآخر فروری 2026 میں حوزہ علمیہ کی سپریم کونسل نے نئے وژن کی تیاری کی منظوری دی اور اس کی ذمہ داری متعلقہ تحقیقی مرکز کو سونپی گئی۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ مطالعات مکمل ہونے کے بعد دوسرے وژن کا مسودہ اس آئندہ دو مہینوں تک تیار کرکے منظوری کے لیے حوزہ علمیہ کی سپریم کونسل کو پیش کر دیا جائے گا۔
سات شعبوں میں خصوصی مطالعات
میرمعزی کے مطابق، نئے وژن کی تیاری کے لیے ایک علمی کونسل تشکیل دی گئی ہے، جس میں حوزہ کے متعلقہ شعبوں کے نمائندے، منصوبہ بندی اور نگرانی کے ذمہ داران اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے ماہرین شامل ہیں۔ اس کونسل نے تحقیق کے مراحل اور طریقۂ کار طے کیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت سات شعبوں میں الگ الگ تحقیق کی جا رہی ہے۔ ان میں تعلیم، تحقیق، تبلیغ، اخلاقی تربیت، بین الاقوامی امور، انتظامی ڈھانچہ اور ذرائع ابلاغ شامل ہیں۔ ہر شعبے کے ماہرین اپنے اپنے میدان کی موجودہ صورت حال، مسائل اور مستقبل کے امکانات کا جائزہ لیں گے۔ ان مطالعات کی بنیاد پر ہر شعبے کے لیے الگ وژن تیار کیا جائے گا، جس کے بعد تمام نتائج کو یکجا کرکے حوزات علمیہ کا مجموعی وژن مرتب کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ہر شعبے کے لیے الگ علمی کمیٹی قائم کی گئی ہے، جس میں متعلقہ شعبے کے ذمہ داران، محققین اور ماہرین شامل ہیں۔ اس طریقے کا مقصد یہ ہے کہ نئی دستاویز محض عمومی خیالات پر مبنی نہ ہو بلکہ اس میں ہر شعبے کی حقیقی ضروریات اور مسائل کو شامل کیا جائے۔
سابقہ تجربات کی روشنی میں منصوبہ بندی
میرمعزی نے کہا کہ دوسرے وژن کی تیاری میں امام خمینیؒ کی حوزات علمیہ سے متعلق ہدایات، منشور روحانیت، رہبر انقلاب کی حوزہ سے متعلق رہنمائی اور حوزہ علمیہ قم کے قیامِ نو کی سوویں سالگرہ کے موقع پر جاری ہونے والے پیغام کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ان دستاویزات سے حوزہ کی ترقی اور تبدیلی کے بنیادی اصول اخذ کیے جائیں گے اور ان اصولوں پر اساتذہ، ماہرین اور حوزہ کے ذمہ داران سے رائے لی جائے گی۔ اس کے ساتھ دنیا، عالم اسلام اور ایران میں ہونے والی تبدیلیوں کا بھی مطالعہ کیا جائے گا، تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ آئندہ برسوں میں حوزہ کو کس مقام پر ہونا چاہیے اور اس مقصد کے لیے کن بنیادی حکمت عملیوں کی ضرورت ہوگی۔
انہوں نے پہلے وژن کے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسی دستاویزات دو اہم کام کرتی ہیں۔ ایک یہ کہ مختلف شعبوں کو ایک مشترکہ سمت دیتی ہیں اور دوسرا یہ کہ مستقبل کی پالیسیوں اور منصوبوں کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ پہلے وژن سے حوزہ کے مختلف شعبوں کو سمت دینے میں مدد ملی، لیکن اس کے اہداف کو عملی منصوبوں اور سالانہ سرگرمیوں سے جوڑنے کا کام پوری طرح انجام نہیں پا سکا۔ دوسرے وژن میں اس کمی کو دور کرنے پر توجہ دی جائے گی، تاکہ دستاویز کے اہداف عملی منصوبہ بندی میں بھی واضح طور پر نظر آئیں۔
تعلیم و تربیت اور معاشرے میں روحانیت کا کردار
میرمعزی نے حوزہ کی ذمہ داریوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حوزہ کا کام صرف دینی علوم کی تعلیم دینا نہیں بلکہ معاشرے میں دین کے نفاذ اور اس کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے افراد کی تربیت کرنا بھی ہے۔
انہوں نے اس عمل کے تین بنیادی مراحل بیان کیے: دین کو سمجھنا اور اس کے احکام و تعلیمات اخذ کرنا، ان تعلیمات کو لوگوں تک پہنچانا اور ایسے افراد کی تربیت کرنا جو معاشرے اور نظام کی رہنمائی اور انتظام میں دینی اصولوں کے مطابق کردار ادا کر سکیں۔
ان کے مطابق، حوزہ میں تعلیم و تربیت اور روحانیت کی سماجی ذمہ داریوں کو ایک دوسرے سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ حوزہ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ مستقبل میں معاشرے اور عالم اسلام کو کس طرح کی دینی رہنمائی اور خدمات کی ضرورت ہوگی، تاکہ اسی مناسبت سے طلبہ کی تعلیم و تربیت کا نظام بنایا جا سکے۔
انہوں نے حوزہ کے مالی وسائل کے حوالے سے کہا کہ عوامی عطیات، دینی مقاصد کے لیے وقف کی گئی املاک اور حکومتی بجٹ، مالی وسائل کے اہم ذرائع ہیں۔ مستقبل میں عوامی وسائل کو مستحکم کرنے اور جہاں ممکن ہو سرکاری بجٹ پر انحصار کم کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ حوزہ کی سرگرمیاں مستقل بنیادوں پر جاری رہ سکیں۔
مستقبل پر اثر انداز ہونے والے 17 اہم عوامل
حجۃ الاسلام والمسلمین غلام رضا بہروزی لک، جو دوسرے وژن کی تیاری کے ذمہ دار ہیں، نے کہا کہ اس منصوبے میں پہلے سے موجود تجربات سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ مستقبل کے حالات کا سائنسی اور تحقیقی انداز میں جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی مطالعات میں حوزہ کے مستقبل پر اثر انداز ہونے والے 54 عوامل کی نشاندہی کی گئی تھی۔ ان عوامل کا جائزہ لینے اور انہیں درجہ بندی کرنے کے بعد 17 اہم عوامل منتخب کیے گئے ہیں، جن کے اثرات عالمی، قومی اور حوزہ کی سطح پر دیکھے جا رہے ہیں۔
ان عوامل میں ٹیکنالوجی کی ترقی، مصنوعی ذہانت، آبادی میں تبدیلی، معاشرتی حالات، شناخت، مذہبی رجحانات اور لوگوں کے طرزِ زندگی میں ہونے والی تبدیلیاں شامل ہیں۔ ان تبدیلیوں سے معاشرے کی ضروریات اور دینی رہنمائی حاصل کرنے کے طریقوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔
بہروزی لک نے کہا کہ مستقبل کے بارے میں تحقیق کا مطلب یہ نہیں کہ ہر تبدیلی کے نتائج پہلے سے یقینی طور پر معلوم ہیں۔ اس کا مقصد ممکنہ تبدیلیوں کو سمجھنا، ان کے اثرات کا اندازہ لگانا اور ان سے نمٹنے کے لیے ضروری تیاری کرنا ہے، تاکہ حوزہ بدلتے حالات کے بعد ردعمل دینے کے بجائے پہلے سے منصوبہ بندی کر سکے۔
مصنوعی ذہانت اور دینی رہنمائی کے نئے تقاضے
انہوں نے مصنوعی ذہانت کو مستقبل پر اثر انداز ہونے والے اہم عوامل میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی تعلیم، تحقیق اور تبلیغ سمیت حوزہ کی مختلف سرگرمیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
آج لوگوں کی ایک تعداد اپنے سوالات کے جواب حاصل کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کے ذرائع استعمال کر رہی ہے۔ اس صورت حال میں حوزہ کو جائزہ لینا ہوگا کہ مستقبل میں لوگوں کی دینی ضروریات پوری کرنے کے لیے کن ذرائع اور صلاحیتوں کی ضرورت ہوگی اور نئی ٹیکنالوجی کو تعلیم، تحقیق اور دینی رہنمائی کے عمل میں کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق، اس تبدیلی کو صرف نئی ٹیکنالوجی کے استعمال تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ اس کے ذریعے دینی معلومات کی فراہمی، علمی کام اور لوگوں سے رابطے کے طریقوں پر پڑنے والے اثرات کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔
10 سالہ وژن کیوں تجویز کیا گیا؟
بہروزی لک نے بتایا کہ دوسرے وژن کے لیے 10 سال کی مدت تجویز کی گئی ہے، کیونکہ موجودہ دور میں تبدیلیوں کی رفتار تیز ہے۔ طویل مدت کے منصوبوں میں حالات کے مطابق بروقت تبدیلی کرنا مشکل ہو سکتا ہے، اس لیے نسبتاً مختصر مدت کا تعین کرنے سے منصوبے کا جائزہ لینے اور ضرورت کے مطابق اس میں ترمیم کرنے میں آسانی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ 10 سالہ وژن کے تحت دو پانچ سالہ منصوبے بنائے جا سکتے ہیں۔ وژن مجموعی سمت متعین کرے گا، جبکہ پانچ سالہ منصوبے اس سمت میں پیش رفت کے لیے عملی اقدامات کی وضاحت کریں گے۔ اس طرح حوزہ طویل مدتی اہداف کو برقرار رکھتے ہوئے بدلتے حالات کے مطابق اپنی منصوبہ بندی میں بہتری لا سکے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ 10 سالہ مدت کی تجویز کا مطلب طویل مدتی اہداف کو ترک کرنا نہیں بلکہ مستقبل کے حالات پر نظر رکھتے ہوئے ان اہداف کے حصول کے لیے بہتر راستہ اختیار کرنا ہے۔
300 ماہرین کے انٹرویو اور ایک ہزار افراد سے رائے لینے کی تجویز
دوسرے وژن کی تیاری میں مختلف شعبوں کے ماہرین، اساتذہ، ذمہ داران اور طلبہ کی آرا حاصل کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر مشاورت کی جا رہی ہے۔ بہروزی لک کے مطابق، اس منصوبے کے تحت تقریباً 250 سے 300 ماہرین کے تفصیلی انٹرویو کیے جانے کی توقع ہے۔ ان میں حوزہ علمیہ کی سپریم کونسل کے ارکان، مراجع عظام کے دفاتر سے متعلق شخصیات، اساتذہ، منتظمین، طلبہ اور روحانیت سے وابستہ افراد شامل ہوں گے۔
انٹرویو کے لیے تقریباً 50 بنیادی اور ذیلی سوالات پر مشتمل ایک نظام تیار کیا گیا ہے۔ ان سوالات کے ذریعے حوزہ کی موجودہ صلاحیتوں اور کمزوریوں، مستقبل کے مواقع اور خطرات، درپیش مسائل، مطلوبہ صورت حال اور اس تک پہنچنے کے لیے ضروری حکمت عملیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ انسانی وسائل، علمی نظام، معاشرے سے تعلقات، بین الاقوامی روابط، مالی وسائل اور انتظامی طریقوں پر بھی توجہ دی جائے گی۔
اس کے علاوہ، ایک سوال نامے کے ذریعے حوزہ کے قریب ایک ہزار متعلقہ افراد سے آرا حاصل کرنے کی تجویز ہے۔ اس عمل میں ذرائع ابلاغ کی مدد بھی لی جائے گی، جبکہ حوزہ کے مختلف شعبوں میں پہلے سے کیے جانے والے سروے اور مطالعات سے بھی استفادہ کیا جائے گا۔
بہروزی لک نے کہا کہ اساتذہ اور منتظمین کے ساتھ طلبہ اور سماجی و ثقافتی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے افراد کی آرا بھی اہم ہیں۔ وسیع مشاورت کا مقصد یہ ہے کہ نیا وژن صرف چند ذمہ داران کی رائے تک محدود نہ رہے بلکہ حوزہ کے مختلف حلقوں کے تجربات اور ضروریات بھی اس میں شامل ہوں۔
دستاویز پر عمل درآمد کے لیے نگرانی کا نظام
دوسرے وژن کی تیاری میں ایک اہم موضوع یہ بھی ہے کہ اس کے اہداف کو عملی شکل کیسے دی جائے۔ اس سلسلے میں دستاویز پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ایک رہنما کمیٹی قائم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ تاہم، اس تجویز اور 10 سالہ مدت سمیت حتمی امور کا فیصلہ متعلقہ اداروں کے جائزے اور منظوری کے بعد ہوگا۔
مجموعی طور پر اس منصوبے کا مقصد حوزات علمیہ کے مستقبل کے لیے واضح سمت متعین کرنا، مختلف شعبوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا اور تعلیم، تحقیق، تبلیغ، انتظامی امور اور معاشرے میں دینی رہنمائی کی ذمہ داریوں کو مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ اس کے لیے تحقیقی مطالعات، ماہرین کی آرا، عوامی مشاورت اور عملی منصوبہ بندی کو یکجا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔










آپ کا تبصرہ