حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لکھنؤ/ درگاہِ حضرت عباسؑ، رستم نگر لکھنؤ میں سرکارِ فخرالعلماء مولانا مرزا محمد عالم کی برسی کے موقع پر مجلسِ ترحیم کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں کثیر تعداد میں مؤمنین، طلبۂ ذوی الاحترام، علمائے کرام، خطباء، واعظین، ذاکرین اور شہر کے معززین نے شرکت کی۔ مجلس سے جناب مولانا مرزا اعجاز اطہر نے خطاب فرمایا اور مرحوم کی علمی و دینی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے معاشرے میں علماء کے کردار اور دینی خدمت کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
اپنے خطاب میں مولانا مرزا اعجاز اطہر نے سرکارِ فخرالعلماء مولانا مرزا محمد عالم کی علمی، دینی اور مذہبی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ علماء و فقہاء کی زندگی دین و مذہب کی ترویج و اشاعت، ملت کی رہنمائی اور نسلِ نو کی دینی و اخلاقی تربیت کے لیے وقف ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی عالمِ دین کی حقیقی میراث اس کا علم، اس کی دینی بصیرت اور قوم و ملت کے تئیں اس کی دلسوزی ہوتی ہے، جو اس کے بعد بھی لوگوں کی رہنمائی کا ذریعہ بنی رہتی ہے۔
انہوں نے مولانا مرزا محمد عالم کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے ان کی دینی جدوجہد، علمی مقام اور مذہبی معاشرے کے تئیں ان کی دلسوزی کو قابلِ قدر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اہلِ علم کی حیات اور خدمات نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہوتی ہیں اور ان کے علمی و دینی آثار کو محفوظ رکھنا ملت کی اہم ذمہ داری ہے۔
مولانا مرزا اعجاز اطہر نے اپنے خطاب میں موجودہ دور میں علماء کی ذمہ داریوں پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ علماء کا فریضہ صرف دینی مسائل بیان کرنا نہیں بلکہ معاشرے میں دینی شعور بیدار کرنا، نوجوان نسل کو قرآن و تعلیماتِ اہلِ بیتؑ سے وابستہ رکھنا، اخلاقی اقدار کو فروغ دینا اور امت کے درمیان اتحاد و اخوت کو مضبوط کرنا بھی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دینی مجالس اور علمی نشستیں مذہبی شعور کی بیداری اور نسلِ نو کی تربیت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
مجلس کے آغاز اور اختتام کے موقع پر حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا مرزا جعفر عباس اور مولانا رضا عباس نے شرکائے مجلس کا خیرمقدم کیا اور ان کی آمد پر دلی تشکر کا اظہار کیا۔ انہوں نے مجلس میں شرکت کرنے والے علمائے کرام، خطباء، واعظین، ذاکرین، طلبہ اور مؤمنین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سرکارِ فخرالعلماء کی برسی کے موقع پر منعقد ہونے والی اس مجلس میں اہلِ ایمان کی کثیر شرکت مرحوم کی علمی و دینی خدمات سے وابستگی کا مظہر ہے۔
مجلس میں شہر اور اطراف سے بڑی تعداد میں مؤمنین، طلبۂ ذوی الاحترام، علمائے کرام، خطباء، واعظین، ذاکرین اور معززینِ شہر نے شرکت کی۔ مجلس کے اختتام پر مرحوم کے لیے ایصالِ ثواب، بلندیٔ درجات اور مغفرت کی دعا کی گئی۔










آپ کا تبصرہ