بدھ 30 ستمبر 2026 - 16:54
موجودہ جنگ صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں، اصل میدان علم اور ادراک کا ہے

حوزہ / مدیر حوزہ علمیہ مازندران نے عصر حاضر میں جنگوں کی بدلتی ہوئی نوعیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آج تقابل کا میدان صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں ہے بلکہ مقابلے کا ایک اہم حصہ شناختی اور ادراکی میدان میں تشکیل پاتا ہے اور دشمن معاشرے کے عقائد، تجزیوں اور تصورات پر اثرانداز ہو کر عوام کے حساب و کتاب اور اندازِ فکر کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدیر حوزہ علمیہ مازندران حجت الاسلام اسماعیل زادہ نے آمل شہر کے فضلا سے ملاقات میں عصر حاضر کے تقابلی محاذوں میں ہونے والی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اگر ماضی میں جنگ کا ایک بڑا حصہ فوجی میدانوں اور سخت وسائل کے ذریعے لڑی جاتی تھی تو آج مقابلے کا ایک اہم حصہ انسانوں کے ذہن اور ادراک میں وقوع پذیر ہوتا ہے۔ لہٰذا اس میدان کی شناخت ثقافتی اور حوزوی اداروں کے لیے ایک اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا: شناختی جنگ میں انسان کے حقائق کو دیکھنے کے انداز کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسی لیے ممکن ہے کہ ایک ہی حقیقت کو مختلف روایات اور تجزیوں کے ذریعے مخاطب کے ذہن میں مختلف انداز سے پیش کیا جائے۔ ایسی صورت حال میں جس معاشرے میں صحیح روایت کو سمجھنے اور اس کی تشخیص کرنے کی صلاحیت نہ ہو، وہ دوسروں کے اثرات قبول کرنے کے خطرے سے دوچار ہو جاتا ہے۔

مدیر حوزہ علمیہ مازندران نے اس میدان میں حوزاتِ علمیہ کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا: آج کے طالب علم کو حوزوی علوم کے ساتھ ساتھ میڈیا، سوشل میڈیا، افکارِ عامہ اور مخاطب کے ادراک کی تشکیل کے طریقۂ کار سے بھی آگاہ ہونا چاہیے۔ ایسے حالات میں حوزہ کی ذمہ داری صرف شبہات پیدا ہونے کے بعد ان کا جواب دینا نہیں بلکہ درست مواد کی تیاری، بروقت تبیین اور معاشرے کے مسائل کی صحیح ترجمانی میں بھی فعال کردار ادا کرنا ہے۔

حجت الاسلام اسماعیل زادہ نے مزید کہا: حوزہ علمیہ کو دینی علم، تجزیہ کی صلاحیت، ابلاغی مہارت اور میڈیا کی توانائی کے درمیان ربط پیدا کرنا چاہیے اور ایسے طلبہ کو تیار کرنی چاہیے جو شبہات اور غلط روایات کے مقابلے میں منطق، استدلال اور معاشرے کے لیے قابلِ فہم زبان میں گفتگو کر سکیں کیونکہ آج تبیین اور روشنگری، حوزاتِ علمیہ کی اہم ثقافتی اور سماجی ذمہ داریوں کا ایک حصہ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha