جمعرات 1 اکتوبر 2026 - 19:49
عالمِ اسلام صہیونی حکومت کی جارحیت کے مقابلے میں سنجیدہ ردعمل کا مظاہرہ کرے

حوزہ / مجلسِ رباط محمدی عراق کے ترجمان شیخ کامل فہداوی نے کہا: غزہ کے شہداء کا خون امتِ مسلمہ کو فلسطین کے دفاع اور اتحاد کی تجدید کے لیے بیدار کرے، صہیونی حکومت کی جارحیت کے مقابلے میں عالمِ اسلام سے سنجیدہ ردعمل کا مطالبہ کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلسِ رباط محمدی عراق کے ترجمان شیخ کامل فہداوی نے ’’مجمعِ جہانی قادمون‘‘ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے تیسرے بین الاقوامی اجلاس ’’بعثتِ امتِ محمد‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے عالمِ اسلام کی موجودہ حساس صورتِ حال کی طرف اشارہ کیا اور کہا: امتِ مسلمہ آج ایک فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں اس کے وجود، تاریخ، دین اور وسائل کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے غزہ میں ہونے والی وسیع پیمانے پر تباہی اور عرب و اسلامی ممالک اور فلسطین کے حامیوں کے خلاف حملوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مسئلہ فلسطین امتِ مسلمہ کا مرکزی مسئلہ ہے اور امت کو اس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے کیونکہ فلسطین کا خاتمہ پورے خطے کی سلامتی اور مستقبل کے خاتمے کے مترادف ہے۔

شیخ کامل فہداوی نے غزہ کی صورتِ حال کو ’’امتِ مسلمہ کے لیے خطرے کی گھنٹی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا: اگر امت مسئلہ فلسطین کے حوالے سے کوتاہی کرے گی تو آج غزہ پر مسلط کیا جانے والا انجام خطے کے دیگر ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ انہوں نے لبنان، جمہوریہ اسلامی ایران، یمن اور مزاحمت کے دیگر حامیوں کے خلاف ہونے والے حملوں کی طرف بھی اشارہ کیا۔

مجلسِ رباط محمدی عراق کے ترجمان نے غزہ، جنوبی لبنان کے عوام، مزاحمتی فورسز اور خطے کے دیگر ممالک میں ہونے والے حملوں کے متاثرین کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا: یہ پاکیزہ خون امتِ مسلمہ کو عزت، سربلندی اور جارحیت کے خلاف ردعمل پر آمادہ کرے کیونکہ کسی ایک عرب یا اسلامی ملک پر حملہ درحقیقت پوری امت پر حملہ ہے۔

انہوں نے کہا: غزہ کے واقعات کے باعث یورپ اور امریکا کے بعض حصوں میں فلسطین اور صہیونی حکومت کے حوالے سے عوامی رائے تبدیل ہوئی ہے اور اس تبدیلی کو فلسطینی کاز کی حمایت کی راہ میں اہمیت دینی چاہیے۔

شیخ کامل فہداوی نے موسمِ حج میں مسلمانوں کے عظیم اجتماع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے امتِ مسلمہ کے اتحاد کی صلاحیت کی علامت قرار دیا اور کہا: لاکھوں مسلمان ایک مقام پر جمع ہوتے ہیں اور اس اجتماع میں مذہبی و قومی اختلافات کم ہو جاتے ہیں۔ ایسے عظیم اجتماعات میں بھی مسئلہ فلسطین کو سنجیدگی سے اجاگر کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے غزہ کے بحران کے مقابلے میں امت مسلمہ کی خاموشی اور اختلاف پر تنقید کرتے ہوئے حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ’’مثل المؤمنین فی توادهم و تراحمهم و تعاطفهم کمثل الجسد الواحد‘‘ کا حوالہ دیا اور کہا: امتِ مسلمہ کو اپنے وجود کے ایک حصے کی تکلیف سے بے تفاوت نہیں رہنا چاہیے۔ آج اگر علما، دانشور اور مبلغین اسی طرح علما اور ممتازین امت کو ایک مشترکہ مؤقف پر متحد کرنے کے لیے کوشش نہیں کریں گے تو یاد رکھیں عالمِ اسلام کو مزید بڑے خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha