حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ لبنان کی مرکزی کونسل کے رکن شیخ حسن بغدادی نے چوتھے بین الاقوامی ویبینار ’’بعثتِ امتِ محمد‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے امت اسلامی کے مقام اور دینِ الٰہی کی فتح کے وعدے سے متعلق قرآن کریم کی بعض آیات کی طرف اشارہ کیا اور کہا: قرآن کریم کا خطاب صرف کسی ایک معاشرے یا سرزمین تک محدود نہیں بلکہ اسلامی دعوت ایک عالمی رسالت رکھتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: جب یہی دعوت دنیا کے کسی خطے میں ظاہر ہو کر قوت حاصل کرتی ہے تو اس کے اثرات دوسری اقوام اور معاشروں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
حزب اللہ لبنان کی مرکزی کونسل کے رکن نے 1979ء میں اسلامی انقلابِ ایران کی کامیابی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا: اس انقلاب کے اثرات صرف ایران کی جغرافیائی حدود تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کے بقول، خطے کے مختلف ممالک اور حتیٰ کہ مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کے درمیان بھی اس کے اثرات ظاہر ہوئے اور اسلامی معاشروں کے ایک طبقے کی توجہ دین، اسلامی شناخت اور اسلامی اقدار کی جانب دوبارہ مبذول ہوئی۔
انہوں نے خطے میں گزشتہ برسوں کے دوران رونما ہونے والی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مقاومتی تحریکوں کے مراکز اور رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی کوششیں اسلامی تحریکوں کو کمزور کرنے کا باعث نہیں بنتیں بلکہ بعض مواقع پر ان تحریکوں کے حامیوں میں شعور، سماجی شرکت اور باہمی اتحاد میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔
شیخ حسن بغدادی نے کہا: بعثتِ امت اور بیدار امتوں کا ہدف رہنماؤں کی شہادت سے ختم نہیں ہوتا بلکہ بہت سے مواقع پر شہداء کا خون قوموں کی بیداری اور مزید جدوجہد کا محرک بن سکتا ہے۔
حزب اللہ لبنان کی مرکزی کونسل کے رکن نے ایران، لبنان، یمن، عراق اور فلسطین میں ہونے والی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان تحولات کو قوموں کی بڑھتی ہوئی بیداری اور اجتماعی شرکت کی علامات قرار دیا اور کہا: دباؤ کے مقابلے میں قوموں کی مزاحمت اور ثابت قدمی خطے کے حالات اور موجودہ معادلات کو متاثر کر سکتی ہے۔
انہوں نے غزہ میں جاری جنگ اور انسانی بحران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: وسیع پیمانے پر تباہی، انسانی نقصانات اور شدید دباؤ کے باوجود مسئلہ فلسطین بدستور زندہ ہے اور فلسطینی مزاحمت اب بھی اس خطے کی تبدیلیوں میں ایک مؤثر عنصر کے طور پر موجود ہے۔










آپ کا تبصرہ