جمعرات 1 اکتوبر 2026 - 13:29
امت مسلمہ کو رحمت و عدل کا سرچشمہ اور ظلم و ناانصافی کے خلاف جدوجہد کا مرکز ہونا چاہیے

حوزہ / نائب امیر جماعت اسلامی ہند ملک معتصم خان نے دنیا بھر کے مسلمانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا: امتِ مسلمہ پوری انسانیت کے تئیں ذمہ دار ہے۔ وہ ماحولیاتی، سماجی، اقتصادی اور سیاسی بحرانوں کے حل اور دنیا میں ظلم و ناانصافی کا مقابلہ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نائب امیر جماعت اسلامی ہند ملک معتصم خان نے بدھ 30 ستمبر 2026ء کو مجمعِ جہانی «قادمون» کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے تیسرے بین الاقوامی اجلاس ’’بعثتِ امتِ محمد‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے دنیا میں امتِ مسلمہ کے مقام پر زور دیا اور کہا: افریقہ، ایشیا، یورپ، امریکا اور آسٹریلیا میں رہنے والے مسلمان سب ایک ہی امت ہیں اور پوری انسانیت کے تئیں ذمہ داری رکھتے ہیں۔

انہوں نے قرآن کریم میں بیان کردہ ’’امتِ وسط‘‘ کے مفہوم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: امتِ مسلمہ نہ تو مادہ پرست ہے کہ پوری زندگی کو دنیا تک محدود کردے اور نہ ہی دنیاوی زندگی سے منہ موڑنے والی ہے بلکہ اسے دنیا اور آخرت کے درمیان توازن قائم کرنا چاہیے اور ایک بہتر معاشرے کی تشکیل و تحفظ کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔

ملک معتصم خان نے مزید کہا: جس طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوری دنیا کے لیے رحمت تھے، اسی طرح مسلمانوں کو بھی پوری انسانیت کے لیے رحمت کا ذریعہ بننا چاہیے اور انسانوں کے مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

نائب امیر جماعت اسلامی ہند نے امتِ مسلمہ کی ذمہ داری کا پہلا میدان ماحولیات اور ماحولیاتی بحرانوں کو قرار دیتے ہوئے کہا: نظامِ خلقت کے تحفظ، پودوں، سمندروں، ہوا اور پانی کی حفاظت اور انسانوں کے لیے بہتر ماحول فراہم کرنے کی کوشش کرنا بھی مسلمانوں کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

انہوں نے سماجی مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خاندان کے استحکام اور سماجی ڈھانچے کی اصلاح کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ معاشرے کو اس طرح منظم کیا جانا چاہیے کہ تمام انسانوں کے لیے باوقار زندگی گزارنے کے مواقع فراہم ہوں۔

ملک معتصم خان نے دنیا کے اقتصادی مسائل کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا: آج دنیا میں بے پناہ دولت موجود ہے، لیکن اس دولت کا ایک بڑا حصہ محدود تعداد میں افراد کے پاس ہے، جس کے نتیجے میں امیر اور غریب کے درمیان فاصلے میں اضافہ ہوا ہے۔ دولت کی منصفانہ تقسیم اور غربت کا مقابلہ انسانیت کی سب سے اہم خدمتوں میں سے ہے۔

انہوں نے امتِ مسلمہ کی ذمہ داری کے چوتھے میدان کو سیاسی امور قرار دیتے ہوئے منصفانہ قیادت کی ضرورت پر زور دیا اور کہا: اسلام کی نگاہ میں حقیقی حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے اور تمام انسان یکساں انسانی کرامت و قدر کے حامل ہیں؛ لہٰذا تمام انسانوں، خواہ مسلمان ہوں یا غیرمسلم، کے لیے عدل و مساوات کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔

نائب امیر جماعت اسلامی ہند نے آخر میں ظلم و ناانصافی کے مقابلے میں امتِ مسلمہ کی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہا: امت مسلمہ کو رحمت و عدل کا سرچشمہ اور ظلم و ناانصافی کے خلاف جدوجہد کا مرکز ہونا چاہیے۔ اگر مسلمان اپنی ذمہ داری درست طور پر ادا نہ کریں تو اس کے نتائج صرف مسلمانوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری انسانیت اس سے متاثر ہوگی اور اللہ تعالیٰ کے حضور بھی اس ذمہ داری کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha