حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلس خبرگانِ رہبری کے رکن اور شورائے عالی حوزہ ہائے علمیہ کے رکن آیت اللہ محمود رجبی نے کہا ہے کہ رہبر شہید نے اپنی پوری زندگی، مجاہدت، اخلاص اور بالخصوص اپنی شہادت کے ذریعے نہ صرف اسلامی معاشرے بلکہ دنیا کی متعدد اقوام کو بھی اسلامی اقدار اور حقیقتِ اسلام کی طرف متوجہ کیا، جبکہ حوزات علمیہ کے مسائل پر ان کی گہری بصیرت اور رہنمائی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق آیت اللہ محمود رجبی نے قم میں "رہبر شہید کی شہادت اور اس کے عالمی سماجی اثرات" کے عنوان سے منعقدہ علمی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انبیائے الٰہی کی بنیادی ذمہ داری انسان کی عقل اور فطرت کو بیدار کرنا تھی، اور رہبر شہید نے بھی اپنے کردار، افکار اور شہادت کے ذریعے اسی عظیم مشن کو آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ شہادت کے بعد پیدا ہونے والی بیداری کی لہر نے ایران کی سرحدوں سے نکل کر دیگر اسلامی اور آزاد اقوام کو بھی متاثر کیا۔
انہوں نے کہا کہ دشمن نے برسوں سے ثقافتی اور فکری یلغار کے ذریعے اسلامی معاشروں کی شناخت کو کمزور کرنے کی کوشش کی، مگر رہبر شہید نے "ثقافتی یلغار"، "ادراکی جنگ" اور "جہادِ تبیین" جیسے موضوعات پر بروقت رہنمائی کرکے ان سازشوں کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا
آیت اللہ رجبی نے کہا کہ رہبر شہید کو حوزات علمیہ کے مسائل، ضروریات، صلاحیتوں اور مستقبل کے تقاضوں پر غیر معمولی عبور حاصل تھا۔ انہوں نے مختلف مواقع پر حوزوں کی ترقی، درپیش چیلنجز اور ان کے حل کے لیے واضح رہنما اصول پیش کیے، جن سے بھرپور استفادہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رہبر شہید کی سادہ، باعمل اور مقاوم طرزِ زندگی امت مسلمہ کے لیے ایک عملی نمونہ ہے۔ ان کی شہادت نے اسلامی معاشروں میں اتحاد، بیداری اور دینی اقدار کے احیا کو نئی قوت بخشی اور دشمن کی متعدد سازشوں کو ناکام بنایا۔
آیت اللہ رجبی نے زور دیا کہ امت مسلمہ کو رہبر شہید کی شخصیت، فکر اور رہنمائی سے گہری معرفت حاصل کرنی چاہیے، کیونکہ یہی شعور امت کو فتنوں اور گمراہی سے محفوظ رکھتے ہوئے حق کے راستے پر ثابت قدم رکھ سکتا ہے۔









آپ کا تبصرہ