منگل 6 اکتوبر 2026 - 13:24
علامہ آیۃ اللہ سید مرتضیٰ صدرالافاضل کا کتابخانہ: تاریخی پس منظر و مختصر تعارف

حوزه/ علامہ آیۃ اللہ سید مرتضیٰ صدرالافاضل (فاضل لکھنوی) کا شمار برصغیر کی ممتاز علمی، ادبی اور فکری شخصیات میں ہوتا پے۔ انہوں نے تبلیغِ دین کے ساتھ ساتھ تصنیف، تالیف، ترجمہ اور تحقیق کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کا علمی سرمایہ آج بھی اہلِ علم اور محققین کے لیے ایک اہم ماخذ کی حیثیت رکھتا ہے۔

تحریر:مولانا سکندر علی بہشتی

حوزه نیوز ایجنسی!

علامہ آیۃ اللہ سید مرتضیٰ صدرالافاضل (فاضل لکھنوی) کا شمار برصغیر کی ممتاز علمی، ادبی اور فکری شخصیات میں ہوتا پے۔ انہوں نے تبلیغِ دین کے ساتھ ساتھ تصنیف، تالیف، ترجمہ اور تحقیق کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کا علمی سرمایہ آج بھی اہلِ علم اور محققین کے لیے ایک اہم ماخذ کی حیثیت رکھتا ہے۔

علامہ آیۃ اللہ سید مرتضیٰ صدرالافاضل کا کتابخانہ: تاریخی پس منظر و مختصر تعارف

تاریخی پس منظر

ابتدائی قیام لکھنؤ:

آیۃ اللہ سید مرتضی حسین فاضل کے والد، مولانا قاسم آغا کا ایک مختصر ذاتی کتابخانہ تھا، جس میں ان کے ذاتی استعمال اور درس و تدریس سے متعلق کتابیں تھیں۔ اسی کتابخانہ کی بنیاد پر فاضل لکھنوی نے اپنا ذاتی کتابخانہ جمع اور مرتب کیا، جو بعد میں ایک اہم علمی مرکز اور کتابخانہ بنا۔
کتابخانہ میں موجود دستاویزات کے مطابق، کتابخانہ کی بنیاد مولانا قاسم آغا نے اپنے گھر میں، 1930 سے پہلے رکھی تھی۔ بعد میں مولانا فاضل لکھنوی نے علامہ مجلسی رح کی یاد میں، کتابخانہ کا نام المکتبہ المجلسیہ رکھا تھا۔

اس کتابخانہ کے قیام کا مقصد علمی، دینی، ادبی اور تاریخی کتب کو جمع کرنا اور محفوظ رکھنا اور محققین کی علمی معاونت اور تربیت تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس ذخیرے میں متعدد نادر و نایاب کتب، رسائل، اور مخطوطات کا اضافہ ہوا۔

علامہ آیۃ اللہ سید مرتضیٰ صدرالافاضل کا کتابخانہ: تاریخی پس منظر و مختصر تعارف

قیامِ پاکستان کے بعد لاہور:

1951ء میں قیامِ پاکستان کے بعد، مولانا نے لکھنو سے لاہور کا رخ کیا اور کتابخانہ بھی اپنے ساتھ لاہور لے آئے۔ لاہور منتقلی کے بعد اس کا نام کتابخانۂ مرتضوی رکھا گیا۔ یہاں اس کے علمی ذخیرے میں مزید اضافہ ہوا اور یہ دینی، ادبی، تاریخی اور تحقیقی کتب کے ایک اہم مرکز کے طور پر قائم رہا۔ علامہ مرحوم کی حیات میں اس کتابخانہ سے مختلف محققین، مصنفین، اساتید، دانشوران اور طلباء استفادہ کرتے تھے۔ اسی کتابخانہ میں مولانا کا حلقہ درس و تدریس بھی قائم تھا، جس میں مختلف علوم، من جملہ تفسیر، فقہ، اصول، تاریخ و غیرہ شامل تھے۔

علامہ صدرالافاضل نے اس کتابخانہ کو ہمیشہ مذہبی ہماہنگی اور بھائی چارہ کا مرکز رکھا، چنانچہ اس زمانہ سے آج تک یہاں تمام فرق و ادیان کے علماء اور دانشوران علم و تحقیق کے سلسلے میں آتے رہتے ہیں۔

1987ء علامہ صدر الافاضل کا انتقال:

1987ء میں علامہ سید مرتضیٰ صدر الافاضل کا انتقال ہوا۔ ان کے انتقال کے بعد ان کی وصیت کے مطابق کتابخانہ ان کے فرزندِ ارشد اور علمی وارث آیۃ اللہ سید حسین مرتضیٰ کے سپرد ہوا۔ انہوں نے کتابخانہ کو کراچی منتقل کیا اور اس کا ایک شعبہ مرکز علم و فقاہت قم المقدسہ میں بھی قائم کیا۔
کراچی منتقل ہونے کے بعد کچھ عرصے کے لیے، کتابخانہ عوامی دسترس سے دور رہا، مگر ادارہ کے طور پہ علمی اور تحقیقی سرگرمیاں برقرار رہیں۔
اس وقت یہ کتابخانہ دونوں مقامات، کراچی اور قم میں، علماء اور محققین کے لیے ایک اہم مرکز کی حیثیت سے فعال ہے۔ دونوں شعبوں میں مختلف علمی سرگرمیاں اور تدریسی امور جاری ہیں۔

کتابخانہ کا علمی و تحقیقی سرمایہ

اس کتابخانہ میں برصغیر میں شائع ہونے والی اردو کی ادبی، تاریخی، مذہبی اور تحقیقی کتب کا ایک وسیع اور قیمتی ذخیرہ موجود ہے۔ اس کے علاوہ ایک علیحدہ کمرے میں مرحوم صدر الافاضل کی تین سو سے زائد مطبوعہ و غیر مطبوعہ تصانیف، کتب، مخطوطات، خطوط، مسودے اور دیگر علمی آثار محفوظ ہیں۔

لائبریری کے علمی ذخیرے کو محفوظ رکھنے کے لیے کتب کی اسکیننگ اور ڈیجیٹائزیشن کا کام بھی جاری ہے۔ اس مقصد سے لائبریری کی متعدد کتب آن لائن بھی فراہم کی گئی ہیں، جنہیں اسلامک لائبریری ڈاٹ کام کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے۔

علامہ صدر الافاضل کی علمی خدمات

علامہ سید مرتضیٰ صدر الافاضل نے انفرادی تصنیف و تحقیق کے علاوہ اجتماعی اور علمی منصوبوں میں بھی فعال کردار ادا کیا۔ اردو دائرۃ المعارف میں مکتبِ اہلِ بیتؑ سے متعلق تاریخی، سیرتی اور دیگر موضوعات پر تحریر کیے گئے متعدد مقالات بھی ان کی علمی خدمات میں شامل ہیں۔

قرآنِ کریم کے موضوع پر بھی ان کی علمی خدمات قابلِ ذکر ہیں۔ ان کے تحقیقی کاموں میں مقالات، مخطوطات، خطابات، تفسیری مباحث اور دیگر قرآنی خدمات شامل ہیں۔ ان کی معروف کتاب قرآن کے نزول کی ترتیب سیرت کے موضوع پر ایک منفرد علمی کاوش ہے، جو ایک اعتبار سے تفسیری اہمیت بھی رکھتی ہے۔

اس کے علاوہ سیرت النبیؐ، غالب سے متعلق کتب، مرثیہ اور برصغیر کے علما کی سوانح پر مشتمل مطلع الانوار، نیز ترجمہ صحیفہ علویہ، صحیفۂ کاملہ اور نہج البلاغہ کے علاوہ فقہ، اصول اور تاریخ کے موضوعات پر ان کا علمی سرمایہ نہایت گراں قدر ہے۔

اس وقت کتابخانہ مرتضوی اور تحقیقاتی مرکز ایک بین الاقوامی علمی مرکز کی حیثیت سے فعال ہے۔ یہاں مختلف تدریسی اور تحقیقی سرگرمیاں جاری ہیں، جن میں آیۃ اللہ سید حسین مرتضیٰ کے دروس اور قرآن مجید کی تاریخ اور قدیم ترین مخطوطاتِ قرآن کریم بالاخص ائمہ اہل بیت ع سے منسوب مصاحف پر تاریخی اور سائنسی تحقیق سر فہرست ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر علمی اور تحقیقی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔

کتابخانۂ مرتضوی کی تاریخ دراصل برصغیر کے ایک اہم علمی و دینی سرمائے اور علمی خاندان کے سفر کی تاریخ ہے، جو لکھنؤ، سے لاہور اور بالآخر کراچی اور قم تک پہنچا ہے۔ مختلف ادوار کے نشیب و فراز کے باوجود اس علمی ورثے کو محفوظ رکھا گیا اور 2009ء میں کراچی میں اس کی دوبارہ فعالیت نے اسے نئی زندگی عطا کی۔ آج یہ کتابخانہ علامہ صدر الافاضل کے علمی ورثے کے ساتھ ساتھ برصغیر کے دینی، ادبی، تاریخی اور فکری سرمائے کے تحفظ کا ایک اہم مرکز ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha