منگل 6 اکتوبر 2026 - 14:24
انسان اپنی صلاحیتیں لوگوں کی مشکلات دور کرنے میں صرف کرے: آیت اللہ نورمفیدی

حوزہ/ گلستان میں نمائندۂ ولی فقیہ آیت اللہ سید کاظم نورمفیدی نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو زیادہ صلاحیتیں، وسائل اور سہولتیں عطا کی ہیں، ان کی ذمہ داری بھی زیادہ ہے۔ ان نعمتوں کا حقیقی شکر یہ ہے کہ انہیں اللہ کے بندوں کی خدمت اور لوگوں کی مشکلات دور کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، گرگان میں کینسر کے مریضوں کی صحت یابی اور نئی زندگی کے عنوان سے ایک تقریب منعقد ہوئی، جس میں آیت اللہ سید کاظم نورمفیدی، امداد کمیٹی کے عہدیداران، مخیر حضرات اور صحت یاب ہونے والے مریضوں نے شرکت کی۔

آیت اللہ نورمفیدی نے قرآن کریم کی تعلیمات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں مختلف انداز میں حاصل ہوتی ہیں۔ مؤمن کا رویہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنی تمام نعمتوں کو اللہ کی عطا سمجھے اور ان پر شکر ادا کرے۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ صلاحیت اور وسائل ملنے کا مطلب زیادہ ذمہ داری بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بعض لوگوں کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ سہولتیں دی ہیں، اس لیے ان کا فرض ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں اور وسائل کو دوسروں کی مدد کے لیے استعمال کریں۔

نمائندۂ ولی فقیہ نے انفاق کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کی راہ میں دوسروں کی مدد صرف ضرورت مند کے لیے فائدہ مند نہیں بلکہ خود مدد کرنے والے کی شخصیت اور زندگی پر بھی مثبت اثر ڈالتی ہے۔ جو شخص اللہ کی رضا کے لیے کسی ضرورت مند کا ہاتھ تھامتا ہے، اسے اس نیکی کے آثار اور برکتیں اپنی زندگی میں بھی حاصل ہوتی ہیں۔

آیت اللہ نورمفیدی نے کینسر کے مریضوں کے علاج میں امید اور حوصلے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ سے روحانی تعلق، دعا اور اللہ کی رحمت پر امید انسان کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مریضوں کے لیے مضبوط حوصلہ اور امید بھی صحت یابی کے سفر میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

انہوں نے صحت کے شعبے میں کام کرنے والے مخیر حضرات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اپنے بندوں، خصوصاً بیماروں اور ضرورت مندوں کی خدمت کا موقع دیا۔

انہوں نے گلستان میں کینسر کے خصوصی اسپتال کے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ منصوبہ جلد مکمل ہوگا اور مریضوں کو بہتر طبی سہولتیں فراہم کی جا سکیں گی۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ ہمیں اللہ سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ ہمارے دلوں میں وسعت پیدا کرے تاکہ ہم صرف اپنی ضروریات تک محدود نہ رہیں بلکہ دوسروں کے درد اور مشکلات کو بھی سمجھیں اور انہیں دور کرنے کے لیے عملی قدم اٹھائیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha