حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آج شیعہ عیدگاہ حسین آباد جھارکھنڈ میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امام جمعہ حسین آباد مولانا سید علی سجیر رضوی نے حیاء کو اسلامی معاشرت اور اخلاقیات کی بنیادی اور سب سے طاقتور قدر قرار دیا
انہوں نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ حیاء محض جھجھک، شرم، یا صرف خوفِ خدا کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک اعلیٰ اختیاری صفت ہے جو ناظرِ حقیقی کی عظمت کے احساس سے جنم لیتی ہے
خطبے کے دوران مولانا نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ حیاء کا دائرہ کار حرامِ شرعی اور ظاہری پردے سے کہیں زیادہ وسیع ہے بسا اوقات شریعت کسی عمل کی اجازت دیتی ہے مگر حیاء کا تقاضا اس کے منافی ہوتا ہے۔
امام جعفر صادق (علیه السلام) کی ایک حکیمانہ روایت کی روشنی میں حیاء کی پانچ اقسام کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بیان کیا کہ گناہ سے بچنے کی حیاء (حیاء ذنب)، عبادات میں کوتاہی کا احساس (حیاء تقصیر)، نفسانی بزرگی و اخلاق (حیاء کرامت)، عشق و محبت کی کیفیت (حیاء حب)، اور الٰہی ہیبت و عظمت کا تصور (حیاء ہیبت) انسان کے روحانی سفر اور اعلیٰ اخلاقی درجے کی معراج ہیں۔
انہوں نے معاشرے میں کم ہوتی ہوئی حیاء پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ موجودہ دور میں صرف ظاہری احکامات یا حجاب کے نفاذ پر اکتفا کرنے کے بجائے دل اور روح میں حیاء کی صفت کو بیدار کرنے کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ حدیث کے مطابق حیاء کے بغیر ایمان کا تصور ناممکن ہے۔ خطبہ کا اختتام اس دعا پر ہوا کہ اللہ تعالیٰ معاشرے کو اس عظمتِ رفتہ اور حیاء جیسی پاکیزہ صفت سے دوبارہ آراستہ فرمائے










آپ کا تبصرہ