حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لکھنؤ ۹ اکتوبر/ نرہی میں واقع کربلا معتمدالدولہ آغا میر کی زمین پر ناجائز قبضے، غیر قانونی تعمیر کی کوشش اور ہرے درختوں کو کاٹنے کے خلاف آج امام جمعہ مولانا کلب جواد نقوی نے موقع پر پہنچ کر کربلا کا جائزہ لیا اور احتجاج درج کرایا۔ مولانا نے کہا کہ آج تو ہم صرف جائزہ لینے اور پولیس کو میمورنڈم دینے کے لئے آئے ہیں لیکن اگر مجرموں کے خلاف مقدمہ درج نہ ہواتو ہم احتجاجی تحریک شروع کریں گے۔ مولانا نے کہا کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو اس پر بذات خود کارروائی کرنی چاہیے کیونکہ ان کی ناک کے نیچے یہ جرم ہواہے۔ انہوں نے کہاکہ کربلا معتمد الدولہ آغامیر کی زمین پر جن درختوں کو کاٹا گیا اس میں افسران کی ملی بھگت ہے کیونکہ پولیس چوکی کربلا کے دروازے پر واقع ہے اور محکمۂ جنگلات کا دفتر بھی نزدیک ہے، اس کے باوجود کربلا کی زمین سے درخت کاٹے گئے۔

مولانا نے بتایاکہ جب وہاں درخت کاٹے جارہے تھے توکچھ مقامی ہندو بھائیوں نے اس کی مخالفت بھی کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ مخالفت کرنے والوں سے کہا گیا کہ افسران نے انہیں درخت کاٹنے کی اجازت دی ہے۔ لہذا اس کی جانچ ہونی چاہیے تاکہ مجرموں کے خلاف سخت کارروائی ہوسکے۔ مولانا نے کہاکہ ہمیں بتایا جائے کہ کس کی اجازت سے ہرے بھرے درخت کاٹے گئے؟ انہوں نے کہاکہ کربلا کی زمین پر نیم اور پیپل کے درخت تھے جنہیں کاٹا گیا ہے، پیپل کو ہندوؤں میں مقدس تصور کیاجاتاہے جس بناپر مقامی لوگوں نے مخالفت کی تھی مگر ان کی مخالفت کو نظر انداز کرکے پیڑ کاٹے گئے۔ مولانا نے کہا کہ پیڑوں کی کٹائی سے معلوم ہورہاہے کہ مجرم کربلا کی زمین پر ناجائز قبضے اور غیر قانونی تعمیر کی کوشش کررہے ہیں، جس کی جانچ ہونی چاہیے۔

نماز جمعہ کے بعد جب مولانا کلب جواد نقوی نرہی میں واقع کربلا معتمد الدولہ کے جائزے کے لئے پہنچے تو گیٹ پر تالا لگا ہوا تھا۔ مولانا کے ساتھ نائب امام جمعہ مولانا رضا حیدر زیدی اور دیگر افراد بھی موجود تھے۔ موقع پر پولیس بھی موجود تھی کیونکہ نرہی پولیس چوکی کربلا کے گیٹ پر ہی واقع ہے۔ مولانا نے پولیس کو اپنے مطالبات کا میمورنڈم بھی پیش کیا اور جلد از جلد مجرموں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ مولانا نے کہاکہ اگر مجرموں کے خلاف سخت کارروائی نہیں ہوئی تو ہم حضرت گنج سے احتجاج شروع کریں گے۔ کیونکہ کربلا معتمدالدولہ ہماری مقدس مذہبی عمارت ہے جہاں ہمارے ساتویں امام، امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کا روضہ واقع ہے۔

مولانا نے کہاکہ روضے کی زمین پر ’فری میسن‘ کا قبضہ ہے جہاں شیطان کی پرستش ہوتی ہے۔ مولانا نے کہاکہ ہم اس کے خلاف بھی احتجاج کریں گے۔ مولانا نے وقف بورڈ کی غفلت پر بھی سوال اٹھائے اور کہاکہ کربلا عباس باغ کی طرح یہاں بھی وقف بورڈ تماشائی بنارہا اور کوئی مناسب قدم نہیں اٹھایا گیا۔ مولانا نے بتایا کہ کربلا معتمد الدولہ وقف بورڈ میں درج ہے جس کا وقف نمبر 1971 ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری وقف بورڈ پر عائد ہوتی ہے۔












آپ کا تبصرہ