۳۰ اردیبهشت ۱۴۰۱ |۱۸ شوال ۱۴۴۳ | May 20, 2022
مولانا کلب جواد نقوی

حوزہ/ مولانا نے کہا کہ امامباڑہ غلام حیدر پر غیر قانونی تعمیر معاملے میں وسیم رضوی کو مجرم تسلیم کرلیا گیا مگر اب تک گرفتاری نہیں ہوئی،عدم گرفتاری کی صورت میں احتجاج کا حق محفوظ۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لکھنؤ: شیعہ وقف بورڈ میں کی گئی بدعنوانیوں اور وقف املاک میں ہوئی بے ایمانیوں کے ثابت ہونے کے بعد شیعہ وقف بورڈ کے سابق چئیرمین وسیم رضوی کو گرفتار نہ کئے جانے پر مولانا کلب جواد نقوی نےآج امام باڑہ غفران مآب میں پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے ناراضگی جتائی اور حکومت اترپردیش اور پریاگ راج انتظامیہ سے اس کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔امام باڑہ غلام حیدر پریاگ راج کی زمین پر وسیم رضوی کے ذریعہ تعمیر کرائی گئی غیر قانونی مارکیٹ اور امام باڑہ کے تحفظ کے لئے لڑنے والے شوکت بھارتی نے بھی وسیم رضوی کی گرفتاری کی مانگ کی اور کہاکہ اب جبکہ وسیم رضوی کا جرم ثابت ہوگیاہے لہذااس کی گرفتاری میں تاخیر کیوں کی جارہی ہے ؟۔

پریس کانفرنس میں اثر فائونڈیشن کے صدر شوکت بھارتی نے بتایاکہ الہ ٰ آباد میں امام باڑہ غلام حیدر پرکی املاک پر کئے گئے غیر قانونی قبضے اور تعمیرات کو ہٹاکرمجرموں کے خلاف سخت کاروائی نہ کرنے پر اقلیتی کمیشن نےالہٰ  آباد کے ڈی ۔ایم۔اور ایس۔ایس۔پی۔کو ۲۹ ستمبر ۲۰۲۰ کو طلب کیا تھا ۔عرضی گذار شوکت بھارتی نے اقلیتی کمیشن کے سامنے اپنا موقف رکھتے ہوئے کہا کہ آپ کے حکم پر کی گئی جانچ کے بعد پریاگ راج انتظامیہ نے یہ مان لیاکہ شیعہ وقف بورڈ کے چئیر مین وسیم رضوی نے ہی امام باڑہ غلام حیدر کو منہدم کرکے اس پر چار منزلہ کمرشیل مارکیٹ بنانے کی اجازت دی تھی ۔اس سلسلے میں پریاگ راج انتظامیہ کو وزیر اعلیٰ اور گورنر اترپردیش نے بھی کاروائی کرنے کی اجازت دیدی مگر مہینوں بیت جانے کے بعد بھی وسیم رضوی اور وقار رضوی کو امام باڑہ اور عبادت گاہ کو منہدم کرنے کے جرم میں ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا۔اقلیتی کمیشن نے پریاگ راج انتظامیہ کی طرف سے آئے ہوئے ڈپٹی ایس ۔پی۔اور قانون افسر پر اظہار ناراضگی جتاتے ہوئے شیعہ وقف بورڈ کے سابق چئیر مین وسیم رضوی اور امام باڑے کے متولی کو گرفتار کرنے کا حکم صادر کیا تھا ۔واضح رہے کہ ’اسپیشیل پرووزن پلیس آف ورشپ ایکٹ ۱۹۹۱ ‘ میں یہ صاف طور سے کہا گیاہے کہ سبھی مسجدیں،مندر ،گردوارے،چرچ ،امام باڑے ،کربلا ،عید گاہ،درگاہ یا قبرستان جو ۱۵ اگست ۱۹۴۷ میں موجود تھے،ان کی ہئیت اور صورت کو کسی بھی حال میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔جبکہ وسیم رضوی نے امام باڑہ کی پوری عمارت کو گراکر اس پر کمرشیل مارکیٹ تعمیرکرائی ہے ۔

مولانا کلب جواد نقوی نے صحافیوں کو بتایا کہ سابق وزیر وقف اعظم خان کے زمانے میں وقف ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوتوالی پریاگ راج سے فقط ۲۰۰ ورگ میٹر کی دوری پر بنے دو سو سالہ قدیم امام باڑہ غلام حیدر کو منہدم کرواکے اس پر غیر قانونی ڈھنگ سے مارکیٹ بنانے کی اجازت شیعہ وقف بورڈ نے دیدی تھی اور پھر ۲۰۰ سالہ قدیم امام باڑے کو گراکر اس پر وسیم رضوی کے ذریعہ پاس کئے گئے نقشے کے مطابق چار منزلہ کمرشیل مارکیٹ بنادی گئی تھی ،جس کے خلاف اثر فائونڈیشن کے صدر شوکت بھارتی نے ڈی ۔ایم ۔سے لیکر وزیر اعظم تک اور قومی اقلیتی کمیشن سے بھی شکایت کی تھی۔

اس سے پہلے اقلیتی کمیشن کے سامنے ضلع مجسٹریٹ پریاگ راج اور ایس۔ایس۔پی ۔کی طرف سے افسران پیش ہوئے تھے جنہوں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ مجرموں کے خلاف کاروائی کریں گے ۔پہلے تو وہ یہ بہانے بناتے رہے کہ کہ انتظامیہ جب تک  153 A  کی اجازت نہیں دیتاتب تک وہ کوئی کاروائی نہیں کرسکتے مگر انتظامیہ سے بھی مہینوں پہلے اس کی اجازت مل چکی ہے مگر پھر اب تک مجرموں کے خلاف کاروائی نہیں کی گئی اور نا ہی غیر قانونی تعمیرات کو ہٹایا گیا۔یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ خود پریاگ راج انتظامیہ ۶ افراد کی کمیٹی بناکر جانچ کرچکی ہے،وزیر اعظم سینٹرل وقف کونسل سے جانچ کرواچکے اور ان جانچوں میں سارے الزامات صحیح پائے گئے ،اقلیتی کمیشن کے صدر غیور الحسن رضوی صاحب جانچ کرواچکے ہیں،اس جانچ میں بھی سارے الزامات صحیح پائے گئے ۔وزیر اعلیٰ اور گورنر صاحب نے وسیم رضوی کے خلاف کاروائی کرنے کی اجازت دیدی لیکن ابھی تک نہ گرفتاری ہوئی ہے اور نہ امام باڑہ کی زمین سے غیر قانونی تعمیرات ہٹائی گئی ہیں۔ عرضی گذار شوکت بھارتی نے بتایاکہ جبکہ شہر پریاگ راج میں روز آنہ پریاگ راج ڈویلپمنٹ اتھارٹی غیر قانونی تعمیرات پر بلڈوزر چلواتی رہتی ہے اور مسلسل میڈیا انتظامیہ کی اس کاروائی کو دکھاتا اور چھاپتا رہتاہے مگر نہ جانے کیوں پریاگ راج ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا بلڈوزر امام باڑہ غلام حیدر کی زمین پر کی گئی غیر قانونی تعمیرات کو منہدم نہیں کرتا؟۔جبکہ امام باڑہ کا متولی اسی مافیا کا قریبی ہے جسکی پراپرٹی ڈھونڈ ڈھونڈ کر گرائی جارہی ہے اور امام باڑہ کی زمین پر تعمیر کی گئی غیر قانونی مارکیٹ میںبھی اسی مافیا کا ہاتھ تھا۔

وسیم رضوی کو الہٰ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بینچ میں بھی اپنے چئیرمین شپ کو بڑھانے کی جو اجازت مانگی گئی تھی اس کے خلاف بھی شوکت بھارتی،اور عزاداری بورڈ کے جنرل سکریٹری میثم رضوی نے’انٹروین اپلیکشن ‘نے ڈالی ہے اور کورٹ سے اپیل کی ہے کہ جب خود گورنر اور وزیر اعلیٰ وسیم رضوی کے خلاف  153 A  کے تحت کاروائی کرنے کا حکم دے چکے ہیں اور وزیر اعلیٰ وقف بورڈ کی سی بی آئی جانچ کے لئے بھی مرکزی سرکار کو لکھ چکے ہیں تو ایسے میں گورنر یا وزیر اعلیٰ کا وسیم رضوی کو ایکسٹینشن دینا بالکل مناسب نہیں ہے ،ایسا کرنے کا مطلب سماج وادی پارٹی کی طرح وقف املاک کو برباد کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا مقصد نہیں ہوسکتا۔پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وسیم رضوی کو کسی طرح کا ایکسٹینشن نہ دیا جائے اور اسے امام باڑہ غلام حیدر کو گرانے کے جرم میں گرفتا ر کیا جائے۔اور پریاگ راج میں امام باڑہ غلام حیدر کی زمین پر بنائی گئی غیر قانونی مارکیٹ کو گراکر امام باڑہ کی زمین فوراََ خالی کرائی جائے ۔

پریس کانفرنس میں مولانا سید کلب جواد نقوی کے ساتھ اثر فائونڈیشن کے صدر شوکت بھارتی،شمیل شمسی،مولانا کلب احمد،ضمیر نقوی اوردیگر افراد موجود رہے۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
9 + 3 =