حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام سید حسین آقامیری نے مسجد مقدس جمکران میں خطاب کرتے ہوئے جمہوریہ اسلامی ایران کے ساتھ دشمنوں کی محاذ آرائی کی اعتقادی بنیادوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا: قرآنی آیات اور روایات کے مطالعے سے ان بہت سے مسائل اور رکاوٹوں کو بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے جو آج توحیدی تحریک اور حضرت ولی عصر امام مہدی (عجل) کی عالمی حکومت کی راہ ہموار کرنے کے راستے میں حائل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: گزشتہ برسوں میں انقلاب اسلامی سے دشمنی ہمیشہ موجود رہی ہے لیکن بتدریج اس محاذ آرائی کی پوشیدہ تہیں سامنے آتی گئی ہیں اور اس کی حقیقت زیادہ واضح ہوتی گئی ہے۔ اس صورت حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس معاملے کا تجزیہ محض سیاسی اختلافات کے تناظر میں نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس محاذ آرائی کی اعتقادی جڑوں اور گہرے مقاصد کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
مسجد جمکران کے مقرر نے آخرالزمان سے متعلق روایات میں ایران کے مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ایک اہم موضوع جس پر غور کرنا چاہیے، وہ ظہورِ حضرت ولی عصر امام مہدی (عجل) کی راہ ہموار کرنے سے متعلق روایات میں ایرانی عوام کا مقام ہے۔ دشمن بھی اس موضوع کی اہمیت سے واقف ہیں اور اپنے تئیں جمہوریہ اسلامی ایران کو یہ کردار ادا کرنے سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔
حجت الاسلام آقامیری نے دینِ خدا کی نصرت میں ایرانی عوام کے کردار سے متعلق روایات کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا: سورۂ مائدہ کی آیت 54 کی تفسیر میں ایسی قوم کے بارے میں روایات نقل ہوئی ہیں جسے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی جگہ لے آئے گا جو دین کے راستے سے منحرف ہو گئے ہیں۔ بعض روایات میں ایرانی عوام اور دین کی نصرت میں ان کے کردار کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے اس روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہ ’’قم سے ایک شخص لوگوں کو حق کی دعوت دے گا اور ایک ثابت قدم گروہ اس کے گرد جمع ہو جائے گا‘‘، ثقافتِ مہدویت میں قم اور مسجد مقدس جمکران کے مقام پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے جغرافیہ میں موجود مقدس مراکز اور مقامات کو اس سرزمین کے تاریخی و دینی پس منظر اور مؤمن نسلوں کی تربیت میں اس کے کردار کے تناظر میں سمجھنا چاہیے۔










آپ کا تبصرہ