پیر 19 اکتوبر 2026 - 10:26
جنگِ موتہ میں حضرت جعفرِ طیار علیہ السلام کی شہادت

حوزہ/ جنگِ موتہ اسلامی تاریخ کا ایک اہم معرکہ ہے، جس میں حضرت جعفر طیار علیہ السلام نے بے مثال شجاعت و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے بڑے بھائی کی زندگی اسلام سے وفاداری، دعوتِ حق اور راہِ خدا میں ایثار و قربانی کی روشن مثال ہے۔

تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی | جنگِ موتہ عہدِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک اہم معرکہ ہے، جو جمادی الاولیٰ 8 ہجری میں پیش آیا۔ اس جنگ میں حضرت جعفر بن ابی طالب علیہ السلام نے غیر معمولی شجاعت و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ آپ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد بھائی، امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے بڑے بھائی اور جناب ابوطالب علیہ السلام کے فرزند تھے۔ آپ کی زندگی اسلام کی حمایت، دعوتِ حق اور راہِ خدا میں قربانی کی روشن مثال ہے۔

جنگِ موتہ کا پس منظر

تاریخی روایات کے مطابق، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حارث بن عمیر ازدی کو ایک مکتوب دے کر بُصریٰ کے حاکم کی جانب روانہ فرمایا، لیکن راستے میں شرجیل بن عمرو غسانی نے انہیں قتل کردیا۔ اس واقعہ کو جنگِ موتہ کے اہم اسباب میں شمار کیا جاتا ہے۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مہم کے لئے ایک لشکر روانہ فرمایا، جس کی تعداد عام طور پر 3 ہزار بیان کی جاتی ہے۔ دوسری جانب رومی سلطنت اور اس کے حلیف قبائل کی فوج کی تعداد کے بارے میں تاریخی مصادر میں مختلف اعداد ملتے ہیں، اس لئے کسی ایک تعداد کو قطعی حقیقت قرار دینا مناسب نہیں۔

موتہ موجودہ اردن کے علاقے میں واقع ہے۔ یہ معرکہ مسلمانوں کے لئے ایک سخت آزمائش ثابت ہوا، جس میں لشکر کے تین مقررہ سپہ سالار یکے بعد دیگرے شہید ہوئے۔

تین سپہ سالاروں کی شہادت

تاریخی روایات کے مطابق، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لشکر کی قیادت کے لئے پہلے حضرت زید بن حارثہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہ، ان کے بعد حضرت جعفر بن ابی طالب علیہ السلام اور پھر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کو مقرر فرمایا تھا۔

حضرت زید بن حارثہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی شہادت کے بعد حضرت جعفر طیار علیہ السلام نے پرچمِ اسلام سنبھالا اور بہادری سے دشمن کا مقابلہ کیا۔ آپ بھی اسی معرکے میں شہید ہوئے۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ بن رواحہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے قیادت سنبھالی اور وہ بھی شہادت سے سرفراز ہوئے۔

تینوں سپہ سالاروں کی شہادت کے بعد جناب ثابت بن اقرم انصاری نے پرچم سنبھالا۔ بعدازاں خالد بن ولید نے لشکر کی قیادت کی اور اسے مدینہ واپس لے گیا۔ اس طرح جنگِ موتہ اسلامی تاریخ میں شجاعت، ایثار اور ثابت قدمی کے ایک اہم باب کے طور پر محفوظ ہوگئی۔

حضرت جعفر طیار علیہ السلام کی شجاعت و استقامت

حضرت جعفر طیار علیہ السلام کی عظمت کا تعلق صرف آپ کی خاندانی نسبت سے نہیں، بلکہ اسلام کے لئے آپ کی خدمات اور قربانیوں سے بھی ہے۔ ہجرتِ حبشہ کے موقع پر آپ نے مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے نجاشی کے دربار میں اسلام کی تعلیمات بیان کیں۔ آپ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم سلام اللہ علیہا کے بارے میں مسلمانوں کا عقیدہ بھی واضح کیا۔ آپ کی گفتگو سے نجاشی متاثر ہوا اور مسلمانوں کو اس کے یہاں پناہ حاصل ہوئی۔

جنگِ موتہ میں بھی آپ کی شجاعت کے متعدد واقعات تاریخی کتابوں میں نقل ہوئے ہیں۔ مشہور روایت کے مطابق، آپ پرچمِ اسلام بلند رکھ کر دشمن کا مقابلہ کرتے رہے۔ ایک بازو کٹ جانے کے بعد دوسرے ہاتھ سے پرچم تھام لیا اور دوسرا بازو بھی کٹ جانے پر اسے سینے سے لگائے رکھا، یہاں تک کہ شہید ہوگئے۔

روایات میں بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جنت میں دو پر عطا فرمائے، جن کے ذریعہ آپ پرواز کرتے ہیں۔ اسی نسبت سے آپ طیار اور ذوالجناحین کے القاب سے معروف ہوئے۔

ائمہ اہلِ بیت علیہم السلام کی روایات میں حضرت جعفر طیار علیہ السلام کے فضائل

حضرت جعفر طیار علیہ السلام کے فضائل اور جنگِ موتہ میں آپ کی قربانی کا ذکر شیعہ روائی و تاریخی مصادر میں بھی ملتا ہے۔ ان روایات کو نقل کرتے وقت اصل متن، سند اور کتاب کے درست مقام کی تحقیق ضروری ہے، تاکہ فضائل کے بیان میں علمی امانت برقرار رہے۔

بعض روایات میں آپ کے جسم پر پچاس زخموں کا ذکر ملتا ہے۔ اسی طرح روایات میں حضرت جعفر علیہ السلام کی شہادت کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غم، آپ کے اہلِ خانہ سے ملاقات اور بچوں کے ساتھ شفقت و محبت کا ذکر ملتا ہے۔ منقول روایات کے مطابق، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جعفر علیہ السلام کی زوجہ حضرت اسماء بنت عمیس رضوان اللہ تعالیٰ علیہا کو شہادت کی خبر دی اور ان کے اہلِ خانہ کی دل جوئی فرمائی۔

یہ واقعہ خاندانِ شہدا کے ساتھ ہمدردی اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنے کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ طرزِ عمل اسلامی معاشرے میں ایثار، شفقت اور اجتماعی ذمہ داری کی روشن مثال ہے۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قربت اور اہلِ بیت علیہم السلام سے نسبت

حضرت جعفر طیار علیہ السلام رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریبی عزیز اور امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے بڑے بھائی تھے۔ آپ نے ہجرتِ حبشہ کے موقع پر مسلمانوں کی نمائندگی کی اور جنگِ موتہ میں پرچمِ اسلام کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جان قربان کردی۔ آپ کی زندگی اسلام سے وفاداری، حق کی حمایت اور مشکل حالات میں ثابت قدمی کی مثال ہے۔

آپ کی شخصیت یہ پیغام دیتی ہے کہ دین سے وفاداری محض دعوے سے نہیں، بلکہ عملی جدوجہد، حسنِ کردار اور حق کے لیے قربانی سے ظاہر ہوتی ہے۔ آپ کی خدمات کا دائرہ دعوتِ اسلام سے لے کر میدانِ جنگ میں استقامت تک پھیلا ہوا تھا۔

جنگِ موتہ میں حضرت جعفر طیار علیہ السلام کی شہادت مسلمانوں کو شجاعت، ایثار، وفاداری اور استقامت کا درس دیتی ہے۔ آپ نے میدانِ جنگ میں پرچمِ اسلام کی حفاظت کرتے ہوئے جان قربان کی۔ آپ کی زندگی اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ اسلام کی خدمت دعوتِ حق، مظلوموں کی حمایت، ذمہ داریوں کی ادائیگی اور مشکل حالات میں ثابت قدم رہنے سے بھی عبارت ہے۔

حضرت جعفر طیار علیہ السلام کی سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ عظمت کا معیار محض نسب نہیں، بلکہ ایمان، کردار، عمل اور حق کے لئے قربانی ہے۔ آپ کی شہادت اسلامی تاریخ کا ایسا روشن باب ہے جس میں شجاعت کے ساتھ وفاداری اور قربانی کے ساتھ ذمہ داری کا پیغام بھی پوشیدہ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha