حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،مظفرآباد کے فاطمیہ ایجوکیشنل کمپلیکس، لوئر چھتر میں رہبر شہید کے افکار کی روشنی میں "طلبہ کی جامع تربیت کے بنیادی اصول" کے عنوان سے ایک علمی و تربیتی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں نمائندگی المصطفیٰ اسلام آباد سے تشریف لائے مہمان خصوصی حجۃ الاسلام و المسلمین آغا حبیب الحسن نے شہید رہبر کے افکار کی روشنی میں طلبہ کی علمی، اخلاقی اور فکری تربیت کے بنیادی اصولوں پر روشنی ڈالی۔

منعقدہ اس نشست میں طالبات اور اساتذہ نے بھرپور شرکت کی۔ حجۃ الاسلام و المسلمین آغا حبیب الحسن نے طلبہ کی جامع تربیت کے لیے دس بنیادی اصول بیان کرتے ہوئے تعلیم و تزکیۂ نفس، اخلاص و تجدیدِ نیت، علم محوری، تدبر و تحقیق، مختلف علوم میں وسعتِ نظر، حالاتِ زمانہ کی شناخت اور بصیرت کو اہم قرار دیا۔
انہوں نے مخاطب شناسی اور جدید ذرائع ابلاغ کے مؤثر استعمال، شبہات کا علمی و استدلالی انداز میں سامنا کرنے، آزادیِ فکر کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے، خدمتِ خلق، معاشرتی ذمہ داریوں کی ادائیگی، قناعت و سادہ زیستی اور مجاہدت و احساسِ ذمہ داری کو بھی طلبہ کی تربیت کے اہم تقاضوں میں شمار کیا۔

آغا حبیب الحسن نے علماء اور طلاب کے لیے رہبر معظم کی نصیحتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ علم کے حصول میں بھرپور محنت، تقویٰ و پرہیزگاری اور حالاتِ حاضرہ سے آگاہی دینی تعلیم و تربیت کے بنیادی تقاضے ہیں۔ انہوں نے بالخصوص اس بات پر زور دیا کہ علم حاصل کرنے کے ساتھ واجبات کی ادائیگی اور محرمات سے اجتناب کو بھی اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنایا جائے۔
نشست کے دوران آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی کے ایک تربیتی نکتے کی جانب بھی توجہ دلائی گئی کہ قرآن کریم کو محض اپنے پاس رکھنے کے بجائے اس کی خدمت اور تعلیمات کی سربلندی کو اپنا مقصد بنانا چاہیے؛ کیونکہ جو قرآن کو بلند مقام دیتا ہے، قرآن اسے بھی سربلندی عطا کرتا ہے۔

نشست کے اختتام پر موجود طالبات نے پیش کردہ علمی و تربیتی نکات سے استفادہ کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ان اصولوں کو عملی زندگی میں اپنانے سے طلبہ کی علمی، اخلاقی اور فکری تربیت کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔










آپ کا تبصرہ