جمعہ 30 اکتوبر 2026 - 08:46
آیت الله العظمیٰ علامہ شیخ محمد حسین نجفی ڈھکوؒ: علمی عظمت، فکری جرأت اور اصلاحِ ملت کی ایک عہد ساز شخصیت

حوزہ/برصغیر کی دینی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی عظمت کا اندازہ صرف ان کی تصانیف کی تعداد، علمی اسناد یا تدریسی خدمات سے نہیں کیا جا سکتا؛ ان کی اصل پہچان یہ ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنے عہد کے فکری مسائل کو کس حد تک سمجھا، دینی معاشرے کی اصلاح کے لیے کتنی جرأت دکھائی اور حقائق کو واضح کرنے کے لیے کس قدر علمی محنت کی۔ آیت اللہ العظمیٰ علامہ شیخ محمد حسین نجفی ڈھکو ایسی ہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی| برصغیر کی دینی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی عظمت کا اندازہ صرف ان کی تصانیف کی تعداد، علمی اسناد یا تدریسی خدمات سے نہیں کیا جا سکتا؛ ان کی اصل پہچان یہ ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنے عہد کے فکری مسائل کو کس حد تک سمجھا، دینی معاشرے کی اصلاح کے لیے کتنی جرأت دکھائی اور حقائق کو واضح کرنے کے لیے کس قدر علمی محنت کی۔ آیت اللہ العظمیٰ علامہ شیخ محمد حسین نجفی ڈھکو ایسی ہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ مفسرِ قرآن، فقیہ، متکلم، محقق اور مصنف تھے، لیکن ان کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی تھا کہ انہوں نے مذہبی زندگی میں پائی جانے والی بعض غیر مستند روایات، غیر محتاط طرزِ بیان، غلو اور رسوم کی اصلاح کو اپنی علمی ذمہ داری سمجھا۔

ان کی شخصیت کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کے نزدیک علم محض معلومات جمع کرنے یا کتابیں لکھنے کا نام نہیں تھا؛ علم کا حقیقی مقصد صحیح عقائد کی وضاحت، دینی تعلیم کی ترویج، مذہبی اعمال کی درست رہنمائی اور معاشرے کو فکری بے راہ روی سے بچانا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تصانیف میں عقائد، فقہ، تفسیر، حدیث اور تاریخِ کربلا کے ساتھ ساتھ مجالس و محافل کی اصلاح کا موضوع بھی نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔ ان کی زندگی اور علمی خدمات کے متعلق ان کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود سوانح اور فہرستِ کتب، نیز برصغیر کے علمی ذخیرے کو محفوظ کرنے والے اداروں کے ریکارڈ، اس پہلو کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔

ولادت، ابتدائی حالات اور حصولِ علم

علامہ محمد حسین نجفی اپریل 1932ء میں ضلع سرگودھا کے علاقے جہانیاں شاہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق ڈھکو خاندان سے تھا، اسی نسبت سے آپ عوام میں محمد حسین ڈھکو کے نام سے بھی معروف ہوئے۔ آپ کے والد رانا تاج الدین کی خواہش تھی کہ ان کا فرزند دینی علوم حاصل کرکے عالمِ دین بنے۔ والد کی وفات کے بعد خاندان کے لیے یہ راستہ آسان نہ تھا، لیکن آپ کی والدہ نے اس خواہش کو زندہ رکھا اور آپ کی دینی تعلیم کا انتظام کیا۔ یوں ابتدائی مشکلات کے باوجود حصولِ علم کا سفر جاری رہا۔

آپ نے مدرسہ محمدیہ، جلال پور نانکیانہ میں دینی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں ایسے اساتذہ سے استفادہ کیا جن کا شمار اس زمانے کے اہلِ علم میں ہوتا تھا۔ علامہ حسین بخش نجفی جاڑا، علامہ محمد باقر نقوی چکڑالوی اور علامہ سید محمد یار شاہ نجفی جیسے اساتذہ نے آپ کی علمی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ 1953ء میں پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا اور 1954ء میں اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے نجف اشرف روانہ ہوئے۔

نجف اشرف میں آپ نے فقہ، اصولِ فقہ، علمِ کلام، حدیث، رجال اور دوسرے اسلامی علوم کے مختلف پہلوؤں کا مطالعہ کیا۔ آپ کے اساتذہ میں آیت اللہ سید محسن الحکیم، آیت اللہ سید جواد تبریزی، آیت اللہ میرزا محمد باقر زنجانی، آیت اللہ سید محمود شاہرودی اور آقا بزرگ تہرانی سمیت متعدد ممتاز اہلِ علم شامل تھے۔ اس علمی ماحول نے آپ کی فکر کو وسعت دی اور استدلال، تحقیق اور علمی نقد کی وہ بنیاد فراہم کی جس پر بعد میں آپ کی تصنیفی اور اصلاحی خدمات استوار ہوئیں۔

پاکستان واپسی اور علمی ذمہ داری

نجف اشرف میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد علامہ محمد حسین نجفی 1960ء میں پاکستان واپس آئے۔ یہاں ان کے سامنے ایک طرف دینی مدارس میں تدریس اور علمی تربیت کی ذمہ داری تھی، دوسری طرف مذہبی معاشرے میں عقائد اور دینی اعمال کے بارے میں پائے جانے والے بعض مسائل کی وضاحت کا تقاضا تھا۔ انہوں نے تدریس، تصنیف اور عوامی رہنمائی کو اپنی زندگی کا اہم حصہ بنایا۔

آپ کی خدمات صرف ذاتی مطالعے یا انفرادی تصنیف تک محدود نہ رہیں۔ مدرسہ سلطان المدارس الاسلامیہ اور جامعہ علمیہ عقیلہ بنی ہاشم جیسے تعلیمی اداروں کے قیام اور دینی تعلیم کے فروغ سے آپ کی وابستگی کا ذکر متعدد سوانحی اور تعارفی مآخذ میں ملتا ہے۔ ان اداروں کی اہمیت اس اعتبار سے بھی ہے کہ کسی عالم کی علمی میراث اس کی کتابوں کے ساتھ ان طلبہ اور اداروں میں بھی زندہ رہتی ہے جن کے ذریعے علم اگلی نسلوں تک پہنچتا ہے۔

اصلاحِ مجالس و محافل: ایک جرأت مندانہ علمی تحریک

علامہ محمد حسین نجفی کی علمی و عملی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو مذہبی مجالس اور محافل کی اصلاح کے لیے ان کی جدوجہد ہے۔ ان کے نزدیک منبرِ حسینی محض خطابت، جذبات انگیزی یا سامعین کو متاثر کرنے کا ذریعہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک دینی امانت تھی جس کے ذریعے لوگوں کے عقائد درست کیے جائیں، اخلاقی تربیت کی جائے اور انہیں سیرتِ رسول اللہؐ اور تعلیماتِ اہلِ بیتؑ سے روشناس کرایا جائے۔

آپ نے محسوس کیا کہ جب مذہبی جذبات علمی رہنمائی سے جدا ہو جائیں تو بعض اوقات ایسی روایات اور رسوم کو بھی دین کا حصہ سمجھ لیا جاتا ہے جن کی صحت ثابت نہیں ہوتی۔ اسی طرح اگر خطابت کا مقصد صرف مجمع کو متاثر کرنا رہ جائے تو تحقیق، احتیاط اور دینی ذمہ داری پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ آپ کے نزدیک اس صورتِ حال کا علاج خاموشی نہیں، بلکہ دلیل، تحقیق اور خیرخواہی کے ساتھ اصلاح تھا۔

اسی مقصد کے تحت آپ نے 1962ء اور 1963ء میں سرگودھا سے شائع ہونے والے رسالے المبلّغ میں اصلاح المجالس و المحافل کے عنوان سے مضامین تحریر کیے۔ بعد میں یہ مضامین کتابی صورت میں مرتب ہوئے۔ کتاب کے مطبوعہ ریکارڈ میں اس کے ناشر مکتبۃ السبطین، سرگودھا، اور 2010ء کی اشاعت درج ہے۔ اس طرح اس کتاب کی تصنیف اور اس کے بعد کی اشاعت کے زمانے میں فرق واضح رہتا ہے۔

اس کتاب میں علامہ نجفی نے بنیادی طور پر چار امور پر زور دیا: مجالسِ عزا کو عبادت اور دینی تربیت کا ذریعہ سمجھا جائے؛ مرثیہ خوانی اور مذہبی کلام میں ایسے انداز سے اجتناب کیا جائے جسے وہ شرعی حدود کے خلاف سمجھتے تھے؛ منبر پر آنے والے افراد کے کردار اور دینی اہلیت کو اہمیت دی جائے؛ اور فضائلِ اہلِ بیتؑ یا مصائبِ کربلا بیان کرتے ہوئے جھوٹی، بے اصل یا غیر ثابت شدہ باتوں کو مذہب کی طرف منسوب نہ کیا جائے۔ ان نکات کا ذکر ان کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود سوانحی تحریر میں بھی ملتا ہے۔

یہاں ان کے اصلاحی نقطۂ نظر کو سمجھنا ضروری ہے۔ وہ مجالسِ عزا کے مخالف نہیں تھے؛ ان کی تنقید کا بنیادی رخ مجالس کے نام پر اختیار کیے جانے والے ان طریقوں کی طرف تھا جنہیں وہ عبادت کے مقصد، دینی وقار اور علمی دیانت کے منافی سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک امام حسینؑ کی یاد کا حق یہ ہے کہ ان کی قربانی کے ساتھ ان کے پیغام، کردار، مقصد اور تعلیمات کو بھی بیان کیا جائے۔

ان کی فکر کا مرکزی سوال یہ تھا کہ اگر مجلسِ عزا کا مقصد انسان کو حق شناسی، اخلاق، ایثار، عدل اور ظلم کے مقابلے میں استقامت کا سبق دینا ہے تو اس مقصد کو غیر مستند واقعات، مبالغہ آمیز بیانات یا محض جذباتی خطابت کے حوالے کیوں کر دیا جائے؟

اس سوال کے ذریعے انہوں نے مذہبی معاشرے کو اپنی ذمہ داریوں پر غور کرنے کی دعوت دی۔

منبر کی حرمت اور علمی دیانت

علامہ نجفی کے اصلاحی تصور میں منبر کی حرمت بنیادی اہمیت رکھتی تھی۔ ان کے نزدیک کسی واقعے کا جذبات انگیز ہونا اس کے درست ہونے کی دلیل نہیں، اور کسی روایت کا مدتوں سے بیان ہوتے رہنا اس کی صحت کا قطعی ثبوت نہیں بن جاتا۔ مذہبی بیان میں تحقیق، ماخذ کی جانچ اور الفاظ کے انتخاب میں احتیاط ضروری ہے۔

یہ اصول صرف مجالسِ عزا کے لیے نہیں، ہر دینی گفتگو کے لیے اہم ہے۔ قرآن مجید انسان کو خبر کی تحقیق کا حکم دیتا ہے:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا

ترجمہ: اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لیا کرو۔ حوالہ: قرآن مجید، سورۂ حجرات، آیت 6۔

اس آیت سے عمومی اصول یہ نکلتا ہے کہ خبر کو قبول کرنے یا آگے بیان کرنے سے پہلے اس کی تحقیق ضروری ہے۔ دینی واقعات، تاریخی روایات اور مذہبی شخصیات سے متعلق بیانات میں یہ ذمہ داری مزید اہم ہو جاتی ہے، کیونکہ ان کے ذریعے لوگوں کے عقائد اور مذہبی تصورات تشکیل پاتے ہیں۔

علامہ نجفیؒ کی اصلاحی جدوجہد کو اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کا اصرار تھا کہ مذہب کی خدمت کے نام پر مذہب ہی کی طرف ایسی بات منسوب نہ کر دی جائے جس کی بنیاد کمزور ہو۔ اگر کسی روایت کی صحت معلوم نہ ہو تو اسے یقینی واقعے کے طور پر پیش کرنے کے بجائے اس کی حیثیت واضح کرنا علمی دیانت کا تقاضا ہے۔

ان کا یہ طرزِ فکر اس لیے بھی قابلِ توجہ ہے کہ اصلاح ہمیشہ آسان راستہ نہیں ہوتی۔ جو بات کسی معاشرے میں مقبول ہو جائے، اس پر سوال اٹھانے والے کو مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لیکن علمی اختلاف کا جواب گالی، الزام یا شخصیت کشی نہیں، بلکہ تحقیق اور دلیل ہونی چاہیے۔ کسی عالم کے موقف سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر اس کے علمی استدلال کا جائزہ بھی علمی معیار ہی پر لیا جانا چاہیے۔

غلو کے خلاف جدوجہد اور عقائد کی حفاظت

علامہ محمد حسین نجفی کی اصلاحی فکر کا دوسرا اہم پہلو غلو کے خلاف ان کی جدوجہد تھا۔ غلو سے مراد کسی شخصیت یا مقام کے بارے میں حد سے بڑھ جانا اور ایسی صفات یا اختیارات منسوب کرنا ہے جن کی دینی بنیاد ثابت نہ ہو۔ اہلِ بیتؑ سے محبت، ان کی معرفت اور ان کی تعلیمات سے وابستگی شیعہ مذہبی روایت کے بنیادی موضوعات میں شامل ہیں؛ لیکن علامہ نجفی کے نزدیک اس محبت کا اظہار صحیح عقیدے اور معتبر دینی اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

ان کی علمی فکر میں توحید اور اہلِ بیتؑ کی عظمت ایک دوسرے کی ضد نہیں، بلکہ صحیح عقیدے کے دو مربوط پہلو ہیں۔ اہلِ بیتؑ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، اس کی حاکمیت اور بندگی کے بنیادی اصولوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ محبت جب علم اور بصیرت کے ساتھ ہو تو انسان کو اعتدال، معرفت اور اطاعت کی طرف لے جاتی ہے؛ لیکن جب وہ تحقیق سے بے نیاز ہو جائے تو غیر محتاط دعووں اور غیر ثابت شدہ باتوں کے لیے راستہ کھل سکتا ہے۔

اس موضوع پر ان کی تصانیف میں احسن الفوائد فی شرح العقائد، اصول الشریعہ فی عقائد الشیعہ اور اعتقاداتِ امامیہ خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ ان کتابوں کے نام اور دستیابی ان کی سرکاری ویب سائٹ کی فہرستِ تصانیف سے بھی تصدیق ہوتے ہیں۔

احسن الفوائد فی شرح العقائد

یہ کتاب شیخ صدوقؒ کی کتابِ اعتقادات کی شرح کے طور پر سامنے آئی۔ علامہ نجفی نے اس کے ذریعے شیعہ عقائد کو منظم انداز میں واضح کرنے کی کوشش کی۔ عقائد کے موضوع پر ان کی دلچسپی محض مخالف آرا کا جواب دینے تک محدود نہیں تھی؛ وہ چاہتے تھے کہ عام قارئین اور دینی طلبہ اپنے مذہب کے بنیادی تصورات کو دلیل اور فہم کے ساتھ سمجھیں۔

دینی عقائد کی تعلیم کا ایک اہم تقاضا یہ ہے کہ بنیادی اصولوں کو جذباتی نعروں کے بجائے علمی زبان میں سمجھایا جائے۔ کسی عقیدے کا دفاع اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب اس کے دلائل واضح ہوں، اس کے حدود و معانی متعین ہوں اور اس کے بارے میں پیدا ہونے والے سوالات کا جواب سنجیدگی سے دیا جائے۔

اصول الشریعہ فی عقائد الشیعہ

احسن الفوائد کے بعد اصول الشریعہ فی عقائد الشیعہ ان کی عقائدی تصانیف میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ ان کی سرکاری سوانح کے مطابق احسن الفوائد کی اشاعت 1965ء اور اصول الشریعہ کی تصنیف و اشاعت 1966ء کے زمانے سے وابستہ ہے۔ سوانحی ماخذ ان کتابوں کو ان کی عقائدی اور اصلاحی جدوجہد کے اہم مراحل کے طور پر پیش کرتا ہے۔

ان تصانیف کی اہمیت اس بات میں ہے کہ علامہ نجفیؒ نے عقائد کو ایک سنجیدہ علمی موضوع سمجھا۔ وہ مذہبی وابستگی کو فکری وضاحت سے جدا نہیں کرتے تھے۔ ان کے نزدیک عقیدے کی حفاظت کے لیے صرف جذباتی وابستگی کافی نہیں؛ اس کے ساتھ مطالعہ، دلیل، تاریخی شعور اور صحیح دینی مصادر سے واقفیت بھی ضروری ہے۔

اصلاح الرسوم: دین اور رسم کے درمیان فرق

علامہ نجفیؒ کی ایک اور اہم تصنیف اصلاح الرسوم ہے، جو ان کی سرکاری فہرست میں اصلی اسلام اور رسمی اسلام کے عنوانی تعارف کے ساتھ درج ہے۔

اس موضوع کی بنیادی اہمیت اس فرق کو سمجھنے میں ہے جو دینی تعلیمات اور معاشرتی رسوم کے درمیان پایا جاتا ہے۔ ہر وہ عمل جو کسی مذہبی معاشرے میں رائج ہو جائے، ضروری نہیں کہ وہ دین کی بنیادی تعلیمات سے ثابت بھی ہو۔ اسی طرح ہر قدیم رسم کو محض قدیم ہونے کی وجہ سے رد کرنا بھی درست علمی طریقہ نہیں۔ صحیح راستہ یہ ہے کہ کسی عمل کو قرآن، معتبر حدیث، فقہی اصول اور تاریخی شواہد کی روشنی میں پرکھا جائے۔

علامہ نجفیؒ کی اصلاحی فکر کا حاصل یہ تھا کہ دین کو رسوم کے تابع نہ کیا جائے، بلکہ رسوم کو دینی تعلیمات کے معیار پر جانچا جائے۔ اس اصول کا اطلاق صرف مذہبی مجالس پر نہیں بلکہ روزمرہ مذہبی زندگی کے متعدد پہلوؤں پر ہوتا ہے۔ عبادت کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا اور انسان کی اخلاقی و روحانی تربیت ہے؛ اس لیے کوئی بھی رسم اگر اس مقصد سے دور لے جائے تو اس پر علمی غور و فکر ضروری ہو جاتا ہے۔

واقعۂ کربلا کی تحقیق اور سعادۃ الدارین

علامہ نجفیؒ کی اصلاحی جدوجہد کا ایک اہم نتیجہ واقعۂ کربلا کے بارے میں ان کی تصنیفی کاوش بھی تھی۔ جب انہوں نے مجالس میں غیر مستند روایات اور واقعات کے بیان پر تنقید کی تو تاریخی مواد کی تحقیق اور مستند واقعات کی فراہمی کی ضرورت بھی نمایاں ہوئی۔ اس پس منظر میں ان کی کتاب سعادۃ الدارین فی مقتل الحسینؑ کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ان کی سرکاری فہرستِ کتب میں یہ عنوان موجود ہے۔

واقعۂ کربلا اسلامی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جس کی اہمیت صرف اس کے دردناک واقعات تک محدود نہیں۔ یہ حق و باطل کے تصادم، اقتدار کی اخلاقی ذمہ داری، ظلم کے مقابلے میں استقامت اور اصولوں کی خاطر قربانی کی ایک عظیم مثال ہے۔ امام حسینؑ کی تحریک کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ تاریخی واقعات کو احتیاط سے دیکھا جائے اور ثابت شدہ حقائق کو غیر مستند اضافوں سے الگ رکھا جائے۔

یہاں دو باتوں میں فرق ملحوظ رہنا چاہیے: پہلی یہ کہ کسی واقعے کا تاریخی ثبوت کیا ہے؛ دوسری یہ کہ اس واقعے سے اخلاقی اور دینی طور پر کیا سبق حاصل ہوتا ہے۔ تاریخی تحقیق کا تقاضا ہے کہ روایات کے ماخذ، سند اور متن کا جائزہ لیا جائے، جبکہ اخلاقی مطالعہ ہمیں واقعۂ کربلا کے پیغام کو اپنی زندگی سے جوڑنے میں مدد دیتا ہے۔ ایک مضبوط دینی بیان میں یہ دونوں پہلو ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔

علامہ نجفی کی اس تصنیف کو ان کے اصلاحی کام کے تسلسل میں سمجھا جا سکتا ہے: اگر منبر پر تاریخی واقعات بیان کیے جائیں تو ان کے لیے معتبر علمی مواد میسر ہونا چاہیے۔ اس کا مقصد صرف غلط بیانی کی نشاندہی نہیں، بلکہ درست علم کی فراہمی بھی ہے۔ اصلاح کا کام اسی وقت مکمل ہوتا ہے جب تنقید کے ساتھ بہتر علمی متبادل بھی پیش کیا جائے۔

تفسیر، فقہ اور حدیث میں علمی خدمات

علامہ محمد حسین نجفی کی علمی شخصیت کو صرف مجالس کی اصلاح تک محدود کر دینا ان کے کام کے دوسرے اہم پہلوؤں کو نظر انداز کرنا ہوگا۔ ان کی تصانیف عقائد کے علاوہ تفسیر، فقہ، حدیث اور اسلامی احکام جیسے موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں۔

فیضان الرحمن فی تفسیر القرآن

قرآن مجید کی تفسیر ان کے علمی کام کا ایک اہم حصہ تھی۔ فیضان الرحمن فی تفسیر القرآن ان کی معروف تصانیف میں شمار ہوتی ہے، اور ان کے انتقال کے بارے میں شائع ہونے والی خبروں میں بھی اس تفسیر کا ذکر ملتا ہے۔

تفسیر کا کام صرف آیات کے ترجمے تک محدود نہیں ہوتا؛ اس میں الفاظ کے معانی، آیات کے سیاق و سباق، قرآنی موضوعات کے باہمی تعلق اور دینی تعلیمات کی وضاحت جیسے کئی پہلو شامل ہوتے ہیں۔ کسی عالم کی تفسیری کاوش کا درست اندازہ لگانے کے لیے اس کے متن، منہج اور دلائل کا مطالعہ ضروری ہے۔ اس لیے فیضان الرحمن کی علمی قدر کے تفصیلی تعین کے لیے اس کے مختلف حصوں اور تفسیری طریقۂ کار کا براہِ راست جائزہ لینا اہم ہوگا۔

فقہ اور عملی زندگی

فقہی موضوعات پر ان کی تصانیف میں قوانین الشریعہ فی فقہ الجعفریہ اور خلاصۃ الاحکام نمایاں ہیں۔ ان کتابوں کے عنوانات ان کی سرکاری فہرستِ کتب میں درج ہیں۔

فقہ کا بنیادی مقصد انسان کو عملی زندگی میں دینی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنا ہے۔ عبادات، معاملات اور روزمرہ زندگی کے مسائل میں واضح رہنمائی فراہم کرنا معاشرے کی ایک اہم علمی ضرورت ہے۔ علامہ نجفیؒ کی فقہی تصانیف اس جانب اشارہ کرتی ہیں کہ ان کی دلچسپی صرف نظریاتی مباحث تک محدود نہ تھی، بلکہ وہ دینی احکام کو قابلِ فہم انداز میں پیش کرنے کی کوشش بھی کرتے تھے۔

وسائل الشیعہ اور حدیثی ذخیرے سے استفادہ

علامہ نجفی کی علمی خدمات کے ضمن میں وسائل الشیعہ کے اردو ترجمے اور اس پر کام کا ذکر بھی کیا جاتا ہے۔ اس کتاب کا تعلق فقہی احادیث کے ایک بڑے مجموعے سے ہے۔ اردو زبان میں حدیثی مواد کی دستیابی اہلِ علم اور عام قارئین دونوں کے لیے مفید ہو سکتی ہے، کیونکہ زبان کی دشواری بعض اوقات علمی ذخیرے تک رسائی میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ ان کی تصانیف اور علمی خدمات کے تعارف میں اس کام کا ذکر موجود ہے۔

ترجمہ اور شرح کا کام محض لفظوں کو ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل کرنے کا نام نہیں۔ اس میں اصطلاحات کے درست مفہوم، سیاق و سباق اور علمی امانت کی حفاظت ضروری ہوتی ہے۔ اس لیے حدیثی ذخیرے پر کام کرنے والے عالم کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اصل متن کے مفہوم کو برقرار رکھتے ہوئے اسے قارئین کے لیے قابلِ فہم بنائے۔

تصانیف کا تنوع اور علمی شخصیت کی وسعت

علامہ محمد حسین نجفی کی تصانیف کی فہرست سے ان کی علمی دلچسپیوں کی وسعت سامنے آتی ہے۔ ان کے معروف کاموں میں درج ذیل عنوانات شامل ہیں:

اصلاح المجالس و المحافل — مجالس و محافل کی اصلاح۔

اصلاح الرسوم — مذہبی رسوم کا تنقیدی جائزہ۔

احسن الفوائد فی شرح العقائد — عقائد کی شرح۔

اصول الشریعہ فی عقائد الشیعہ — شیعہ عقائد کی توضیح۔

اعتقاداتِ امامیہ — اعتقادی مباحث۔

سعادۃ الدارین فی مقتل الحسینؑ — واقعۂ کربلا سے متعلق تصنیف۔

اثبات الامامۃ — امامت کے موضوع پر بحث۔

تحقیقات الفریقین فی حدیث الثقلین — حدیثِ ثقلین کے حوالے سے تحقیق۔

فیضان الرحمن فی تفسیر القرآن — قرآنی تفسیر۔

قوانین الشریعہ فی فقہ الجعفریہ — فقہی موضوعات۔

خلاصۃ الاحکام — عملی شرعی احکام۔

نمازِ جمعہ اور اسلام — نمازِ جمعہ سے متعلق بحث۔

حرمتِ ریش تراشی — ایک فقہی مسئلے پر تصنیف۔

ان میں سے متعدد عنوانات ان کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب فہرست میں درج ہیں۔

یہ فہرست ان کی علمی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو واضح کرتی ہے۔ عقائدی کتابیں فکری بنیادوں سے بحث کرتی ہیں، فقہی تصانیف عملی رہنمائی فراہم کرتی ہیں، تفسیر قرآن کے مطالعے سے متعلق ہیں، جبکہ اصلاحی کتابیں مذہبی معاشرے کے طرزِ عمل پر سوال اٹھاتی ہیں۔ اس تنوع سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک دینی خدمت کے کئی میدان تھے اور ہر میدان کے لیے مخصوص علمی محنت درکار تھی۔

البتہ کسی تصنیف کی علمی قدر کا حتمی تعین صرف اس کے عنوان یا شہرت سے نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے اصل کتاب کا مطالعہ، دلائل کی جانچ، مصادر کی تحقیق اور متعلقہ موضوع پر دوسرے اہلِ علم کی آرا کا تقابل ضروری ہے۔ اس مقالے میں کتابوں کے نام اور ان کے عمومی موضوعات دستیاب فہرستوں کی بنیاد پر بیان کیے گئے ہیں؛ ان کے تمام مباحث کا تفصیلی تنقیدی مطالعہ ایک مستقل تحقیقی کام کا تقاضا کرتا ہے۔

علمی اختلاف، مخالفت اور استقامت

اصلاحی کام کرنے والے اہلِ علم کو اکثر ایسے سوالات اور اختلافات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو صرف علمی حلقوں تک محدود نہیں رہتے، بلکہ عوامی جذبات اور مذہبی روایات سے بھی جڑ جاتے ہیں۔ علامہ نجفی کی اصلاحی تحریروں پر بھی ردِعمل سامنے آیا۔ ان کی سرکاری سوانح میں اصلاح المجالس و المحافل کے بعد پیدا ہونے والے اختلافات اور جوابی تحریروں کا ذکر موجود ہے۔

ان اختلافات کو بیان کرتے ہوئے علمی احتیاط ضروری ہے۔ کسی ایک فریق کی سوانح میں درج مخالفین کے بارے میں سخت زبان کو غیر جانب دار تاریخی حقیقت سمجھ لینا درست نہیں۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ کتابوں، جوابی تحریروں اور متعلقہ شواہد کا باہمی مطالعہ کیا جائے، تاکہ اختلاف کی نوعیت اور دلائل کو واضح طور پر سمجھا جا سکے۔

اس کے باوجود علامہ نجفی کی زندگی سے ایک اہم اصول سامنے آتا ہے: دینی اصلاح کے لیے صرف مسئلے کی نشاندہی کافی نہیں، بلکہ اس کے حق میں دلیل پیش کرنا، سوالات کا جواب دینا اور اپنے موقف کو علمی بحث کے لیے کھلا رکھنا بھی ضروری ہے۔ اختلاف کا ہونا بذاتِ خود کسی موقف کے درست یا غلط ہونے کی دلیل نہیں۔ اصل معیار دلیل، تحقیق اور استدلال ہے۔

ان کی علمی زندگی کا مطالعہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ مذہبی معاشرے میں اصلاح کے لیے دو صلاحیتیں ضروری ہیں: ایک، موجودہ طرزِ عمل کا تنقیدی جائزہ لینے کی جرأت؛ دوسری، اپنی تنقید کو علمی معیار پر ثابت کرنے کی صلاحیت۔ ان دونوں میں توازن پیدا ہو تو اصلاح محض احتجاج نہیں رہتی بلکہ فکری اور تعلیمی تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

آج کے مذہبی معاشرے کے لیے ان کی فکر کی معنویت

علامہ محمد حسین نجفی کی اصلاحی فکر کا مطالعہ آج بھی کئی سوالات پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ مذہبی اجتماعات کی مقبولیت، خطابت کے نئے ذرائع اور سوشل میڈیا پر دینی مواد کی تیز رفتار اشاعت نے بیان کی ذمہ داری کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ اب ایک غیر مصدقہ بات چند لمحوں میں ہزاروں افراد تک پہنچ سکتی ہے؛ اس لیے تحقیق، حوالہ اور علمی احتیاط کی ضرورت پہلے سے کم نہیں ہوئی بلکہ بڑھ گئی ہے۔

آج ان کی فکر سے درج ذیل اصول اخذ کیے جا سکتے ہیں:

اول: مذہبی بیان میں تحقیق کو بنیادی اہمیت دی جائے۔

قرآن، حدیث اور تاریخ سے متعلق بات بیان کرتے وقت اس کا ماخذ معلوم ہونا چاہیے۔ کسی بات کا مشہور ہونا اس کے مستند ہونے کے لیے کافی نہیں۔

دوم: عقائد کی تعلیم کو سنجیدہ علمی موضوع سمجھا جائے۔

نوجوانوں اور عام قارئین کو بنیادی عقائد اس انداز میں سمجھائے جائیں کہ وہ سوال کر سکیں، دلائل کو سمجھ سکیں اور اپنے مذہبی تصورات کو علم کی بنیاد پر مضبوط بنا سکیں۔

سوم: مجالس و محافل کے تعلیمی مقصد کو زندہ رکھا جائے۔

مذہبی اجتماع کا مقصد صرف وقتی جذبات پیدا کرنا نہیں، بلکہ انسان کی فکر، کردار اور عمل میں بہتری لانا بھی ہے۔

چہارم: محبت کے ساتھ علمی توازن برقرار رکھا جائے۔

رسول اللہؐ اور اہلِ بیتؑ سے محبت کا اظہار علم، معرفت اور دینی اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ غیر ثابت شدہ باتوں کو محبت کے نام پر مذہب کی طرف منسوب کرنا درست نہیں۔

پنجم: اختلاف میں دلیل اور اخلاق کو مقدم رکھا جائے۔

اصلاحی موقف سے اتفاق یا اختلاف دونوں ممکن ہیں، لیکن علمی بحث کا معیار دلیل، حوالہ اور احترام ہونا چاہیے۔ شخصیت پر حملہ علمی جواب کا متبادل نہیں بن سکتا۔

یہ اصول کسی ایک عالم کی میراث تک محدود نہیں، بلکہ ہر اس شخص کے لیے اہم ہیں جو مذہبی تعلیم، خطابت، تصنیف یا عوامی رہنمائی سے وابستہ ہے۔

وفات اور علمی میراث

آیت اللہ العظمیٰ علامہ شیخ محمد حسین نجفی 21 اگست 2023ء کو طویل علالت کے بعد اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کی خبر پاکستان کے متعدد ذرائع ابلاغ نے شائع کی، جن میں ان کی علمی خدمات، تصانیف اور تعلیمی اداروں کے قیام سے وابستگی کا ذکر کیا گیا۔

کسی عالم کی وفات اس کی جسمانی زندگی کا اختتام ہوتی ہے، لیکن اس کی علمی میراث کا فیصلہ اس کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔ کتابیں محفوظ رہتی ہیں، شاگرد علم کو آگے منتقل کرتے ہیں، اور اس کے افکار پر نئی نسلیں سوالات اٹھاتی اور تحقیق کرتی ہیں۔ علامہ نجفیؒ کی تصانیف بھی اسی علمی عمل کا حصہ ہیں۔ ان کے کام سے استفادہ کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کی کتابوں کا مطالعہ کیا جائے، ان کے دلائل کو سمجھا جائے، ان کے اصلاحی مقاصد کا جائزہ لیا جائے اور جہاں اختلاف ہو وہاں دلیل کے ساتھ گفتگو کی جائے۔

ان کی زندگی کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ انہوں نے مذہبی معاشرے میں رائج بعض تصورات اور طریقوں کو محض روایت کے احترام میں غیر قابلِ سوال نہیں سمجھا۔ انہوں نے عقائد، مجالس، رسوم اور تاریخی روایات کے بارے میں تحقیق اور اصلاح کی ضرورت محسوس کی۔ یہ کام آسان نہیں تھا، لیکن علمی تاریخ میں ایسے سوالات کی اہمیت رہتی ہے، کیونکہ معاشرے اسی وقت فکری طور پر ترقی کرتے ہیں جب وہ اپنی روایات کا احترام کرتے ہوئے ان کا علمی جائزہ لینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔

آیت اللہ علامہ محمد حسین نجفی کی شخصیت علم، تصنیف، تدریس اور اصلاح کے متعدد پہلوؤں کا مجموعہ تھی۔ انہوں نے عقائد کی وضاحت، فقہی رہنمائی، تفسیرِ قرآن، حدیثی ذخیرے سے استفادے اور مذہبی رسوم کے جائزے جیسے مختلف میدانوں میں کام کیا۔ ان کی اصلاحی جدوجہد کا نمایاں ترین پہلو یہ تھا کہ انہوں نے مجالسِ عزا اور مذہبی خطابت کو علمی دیانت، تحقیق اور دینی ذمہ داری کے معیار پر پرکھنے کی کوشش کی۔
ان کے کام کا منصفانہ مطالعہ نہ تو انہیں اختلاف سے بالاتر قرار دینے کا تقاضا کرتا ہے اور نہ ان کے مخالفین کے بارے میں غیر ثابت شدہ فیصلے سنانے کا۔ درست طریقہ یہ ہے کہ ان کی تصانیف پڑھی جائیں، ان کے دلائل کا جائزہ لیا جائے اور ان کے اصلاحی موقف کو اس کے تاریخی و علمی پس منظر میں سمجھا جائے۔
ان کی زندگی سے حاصل ہونے والا بنیادی سبق یہ ہے کہ دین کی خدمت صرف عقیدت کے اظہار سے نہیں، بلکہ علم، تحقیق، اخلاقی ذمہ داری اور سچائی کی پابندی سے ہوتی ہے۔ مذہبی معاشرے کی حقیقی اصلاح اسی وقت ممکن ہے جب محبت کے ساتھ معرفت، روایت کے ساتھ تحقیق، خطابت کے ساتھ دیانت اور اختلاف کے ساتھ دلیل کو بھی اہمیت دی جائے۔

بنیادی مآخذ و مراجع

علامہ محمد حسین نجفی کی سرکاری ویب سائٹ، سوانحِ حیات: تعلیم، اساتذہ، پاکستان واپسی اور اصلاحی سرگرمیوں کے بیان کے لیے
علامہ محمد حسین نجفی کی سرکاری ویب سائٹ، فہرستِ کتب: ان کی تصانیف کے ناموں اور دستیابی کی تصدیق کے لیے
مرکزِ احیاءِ آثارِ برصغیر، اصلاح المجالس و المحافل: کتاب کے ناشر، موضوع اور اشاعتی معلومات کے لیے
روزنامہ دنیا، 21 اگست 2023ء: انتقال کی خبر اور مختصر تعارف کے لیے
آج نیوز، 21 اگست 2023ء: انتقال اور علمی خدمات کے عمومی تعارف کے لیے

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha