جمعہ 30 اکتوبر 2026 - 14:40
علم انسان کو اچھے اور برے کی تمیز سکھاتا اور خالق کی معرفت تک پہنچاتا ہے: مولانا امجد نقوی

حوزہ/ مرکزی جامع مسجد غازی امام بادشاہ جنڈ، ضلع اٹک میں خطبۂ جمعہ دیتے ہوئے مولانا امجد نقوی نے علم کی فضیلت و اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ علم انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام نے علم کو بنیادی مقام عطا کیا ہے اور حقیقی علم وہ ہے جو انسان کے کردار، اخلاق اور عملی زندگی میں مثبت تبدیلی پیدا کرے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جنڈ-اٹک/ مرکزی جامع مسجد غازی امام بادشاہ جنڈ، ضلع اٹک میں خطبۂ جمعہ دیتے ہوئے مولانا امجد نقوی نے علم کی فضیلت اور اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ علم انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ علم ہی انسان کو اچھے اور برے کی تمیز سکھاتا، اس کے کردار و عمل کو سنوارتا اور اسے اپنے خالق کی معرفت تک پہنچاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام میں علم و تعلیم کو بنیادی مقام حاصل ہے۔ قرآن مجید کی پہلی وحی کا آغاز لفظِ ’’اقرأ‘‘ یعنی پڑھنے کے حکم سے ہونا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اسلام کی نظر میں علم حاصل کرنا کتنی اہمیت رکھتا ہے۔ قرآن کریم میں بھی علم رکھنے والوں اور علم نہ رکھنے والوں کو برابر قرار نہیں دیا گیا، کیونکہ علم انسان کی فکر، کردار اور طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلی پیدا کرتا ہے۔

مولانا امجد نقوی نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے حکیمانہ ارشادات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ علم مال و دولت سے افضل ہے، کیونکہ مال خرچ کرنے سے کم ہوتا ہے، جبکہ علم دوسروں کو سکھانے سے بڑھتا ہے۔ مال کی حفاظت انسان کو کرنا پڑتی ہے، لیکن علم انسان کی حفاظت کرتا ہے۔ مال چوری ہو سکتا ہے، مگر علم ایسی دولت ہے جسے کوئی چھین نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی سرمایہ سونا، چاندی اور جائیداد نہیں بلکہ علم و معرفت ہے، کیونکہ انسان کا مادی سرمایہ اس کی وفات کے بعد دوسروں کی ملکیت بن جاتا ہے، جبکہ اس کا علم نسلوں تک باقی رہتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علم حاصل کرنے کو ہر مسلمان کی ذمہ داری قرار دیا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو اپنی دینی اور دنیاوی ضروریات کے مطابق علم حاصل کرنا چاہیے۔ نماز، روزہ اور دیگر عبادات انجام دینے کے ساتھ ان کے احکام و مسائل سے آگاہی بھی ضروری ہے، تاکہ عبادات اور روزمرہ معاملات شرعی اصولوں کے مطابق انجام دیے جا سکیں۔

مولانا امجد نقوی نے علم کے ساتھ عمل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علم کا حقیقی مقصد محض کتابیں پڑھنا یا تقریریں کرنا نہیں، بلکہ اپنی عملی زندگی، اخلاق اور معاملات کو بہتر بنانا ہے۔ اگر علم انسان کے کردار میں بہتری، گفتگو میں شائستگی اور رویے میں عاجزی پیدا نہ کرے تو اسے اپنے علم کے مقصد پر غور کرنا چاہیے۔ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے فرمان ’’ثمرۃ العلم العمل بہ‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علم کا حقیقی ثمر اس پر عمل کرنا ہے۔

انہوں نے اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیثِ ثقلین میں قرآن مجید اور اپنی عترت و اہل بیت کو امت کے لیے دو گراں قدر امانتوں کے طور پر پیش کیا ہے۔ ان دونوں سے وابستگی انسان کو صحیح دینی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے بھی علم و معرفت کی ایسی گراں قدر تعلیمات عطا فرمائیں جن سے بے شمار اہل علم نے استفادہ کیا۔ لہٰذا والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ قرآن مجید، سیرت رسول اکرم، تعلیمات اہل بیت، عقائد، احکام اور اخلاق کی تعلیم بھی دیں۔

انہوں نے کہا کہ علم کی حقیقی پہچان عاجزی اور انکساری ہے، نہ کہ تکبر اور دوسروں کو حقیر سمجھنا۔ حقیقی عالم وہ ہے جس کے علم سے دوسرے فائدہ اٹھائیں، جس کا کردار لوگوں کے لیے نمونہ ہو اور جس کی گفتگو معاشرے میں محبت، شعور اور اصلاح کا ذریعہ بنے۔ آج معاشرے کو ایسے اہل علم کی ضرورت ہے جو لوگوں میں اختلاف اور نفرت کے بجائے اتحاد، محبت اور شعور کو فروغ دیں۔

مولانا امجد نقوی نے معاشرے کے ہر فرد پر زور دیا کہ وہ روزانہ قرآن مجید کی تلاوت کے ساتھ اس کے ترجمے اور تفسیر کے مطالعے کے لیے وقت مختص کرے، بچوں کو دینی و دنیاوی علوم سے آراستہ کرے، علمائے کرام اور اساتذہ کا احترام کرے اور اپنی استطاعت کے مطابق علم حاصل کرکے دوسروں تک بھی پہنچائے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر بغیر تحقیق معلومات پھیلانے سے گریز کرنے اور علم کو اپنے کردار و عمل میں ظاہر کرنے کی ضرورت پر بھی تاکید کی۔

خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ دنیا کی دولت، طاقت اور عہدے ختم ہو سکتے ہیں، لیکن علم ایک ایسا قیمتی سرمایہ ہے جس کے نیک اثرات انسان کی وفات کے بعد بھی باقی رہتے ہیں۔ اس لیے ہر مسلمان کو علم حاصل کرنے، اس پر عمل کرنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کا عہد کرنا چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha