حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انسان کا مال اور اس کے اخلاق و کردار اپنی ظاہری شکل کے پیچھے برزخی صورتیں رکھتے ہیں، جو کبھی خوفناک اور کبھی خوش گوار ہوتی ہیں۔ موت کے بعد یہ حقیقتیں ظاہر ہو جاتی ہیں۔ جن لوگوں کی باطنی آنکھیں اور کان کھل جاتے ہیں، وہ ظالموں کی چیخ و پکار سنتے ہیں، جبکہ ان کے اہل خانہ اور دیگر افراد اس سے بے خبر رہتے ہیں۔
اس سلسلے میں شیخ عباس قمیؒ نقل کرتے ہیں:
ایک روز میں نجف اشرف کے وادی السلام میں اہل قبور کی زیارت کے لیے گیا۔ اچانک مجھے اونٹ کی ایسی چیخ و پکار سنائی دی جیسے اسے داغا جا رہا ہو۔ اس کی آواز اتنی بلند اور دردناک تھی کہ محسوس ہوتا تھا پورا وادی السلام اس کی چیخوں سے لرز رہا ہے۔
میں تیزی سے آواز کی سمت بڑھا۔ جب قریب پہنچا تو دیکھا کہ وہاں کوئی اونٹ نہیں، بلکہ ایک جنازہ لایا گیا ہے اور یہ چیخیں اسی جنازے سے بلند ہو رہی ہیں۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ میت کو دفن کرنے والے افراد اس آواز سے بالکل بے خبر تھے اور نہایت اطمینان سے اپنے کام میں مصروف تھے۔
بظاہر یہ کسی گناہ گار اور ظالم شخص کی میت تھی، جو موت کے ابتدائی مرحلے ہی میں عذاب سے دوچار ہو چکی تھی۔ تدفین اور قبر کے عذاب سے پہلے ہی اپنی برزخی صورت دیکھ کر خوف زدہ ہوئی اور چیخنے لگی۔
ماخذ: ہزار و یک حکایت عرفانی، صفحہ 177۔










آپ کا تبصرہ