ہفتہ 31 اکتوبر 2026 - 16:45
بچوں کی تعلیم و تربیت کے فن پر چھ روزہ آن لائن ورکشاپ: برصغیر اور ایران سے طالبات کی بھرپور شرکت

حوزہ/مجلسِ علماء مکتبِ اہلبیت پاکستان کے زیرِ اہتمام خواہران کے لیے چھ روزہ آن لائن ’’شہیدِ اُمت (رح) تربیتی ورکشاپ‘‘ کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان، ہندوستان اور ایران سے بڑی تعداد میں خواہران نے شرکت کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یہ تربیتی ورکشاپ ’’ننھے ذہن، روشن مستقبل؛ بچوں کو پڑھانے اور تربیت کرنے کا فن‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوا، جس میں حجت الاسلام ڈاکٹر محمد علی ممتاز نے خصوصی گفتگو کی۔

ڈاکٹر محمد علی ممتاز نے بچوں کی تعلیم و تربیت کے مختلف پہلوؤں کو علمی، نفسیاتی اور عملی انداز میں بیان کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کو محض تعلیم دینا کافی نہیں، بلکہ تعلیم کے ساتھ ان کی مؤثر تربیت بھی ضروری ہے۔

ورکشاپ کے دوران بچوں کے سیکھنے کے طریقوں، ان کی نفسیات کو سمجھنے، ان کے دلوں تک رسائی حاصل کرنے، ایک اچھے استاد کی صفات و خصوصیات، مؤثر تدریسی طریقوں اور تعلیم کے ساتھ تربیت کے مراحل جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

اس موقع پر استاد کے بچوں کے لیے ایک مؤثر مربی کا کردار ادا کرنے کے طریقوں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔

بچوں کی تعلیم و تربیت کے فن پر چھ روزہ آن لائن ورکشاپ: برصغیر اور ایران سے طالبات کی بھرپور شرکت

حجت الاسلام ڈاکٹر محمد علی ممتاز نے وضاحت کی کہ ایک کامیاب معلم صرف معلومات منتقل کرنے والا نہیں ہوتا، بلکہ وہ بچوں کی شخصیت سازی، اخلاقی تربیت اور فکری نشوونما میں بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے بچوں کے ساتھ محبت و حسنِ سلوک، مثبت اندازِ گفتگو، ان کی نفسیاتی ضروریات کو سمجھنے اور ان کی صلاحیتوں کے مطابق تدریسی طریقے اختیار کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

چھ روزہ یہ تربیتی ورکشاپ علمی اور تربیتی اعتبار سے نہایت مفید اور کامیاب رہا۔

شرکاء نے ورکشاپ کے موضوعات، اندازِ پیشکش اور عملی رہنمائی کو سراہتے ہوئے اسے موجودہ دور کی اہم ضرورت قرار دیا۔

شرکاء نے مجلسِ علماء مکتبِ اہلبیت پاکستان کی اس علمی و تربیتی کاوش کو قابلِ تحسین قرار دیا اور آئندہ بھی اس نوعیت کے ورکشاپس اور تربیتی پروگراموں کے انعقاد کی خواہش ظاہر کی، تاکہ خواہران، مبلغین اور اساتذہ جدید تقاضوں کے مطابق بچوں کی بہتر تعلیم و تربیت کے لیے اپنی صلاحیتوں کو مزید مؤثر بنا سکیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha