جمعہ 30 اکتوبر 2026 - 17:37
مانگنے والے کی عزت نہیں رہتی، پاکستان میانہ روی نہ ہونے کی وجہ سے سر سے پاؤں تک قرضوں میں جکڑا ہوا ہے: آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی

حوزہ/ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے کہا ہے کہ میانہ روی اختیار کرنے والا کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچ جاتا ہے، کیونکہ سوال کرنے والے کی عزت باقی نہیں رہتی۔ پاکستان میں میانہ روی کے فقدان نے ملک کو سر سے پاؤں تک قرضوں میں جکڑ رکھا ہے، جبکہ نمود و نمائش اور شوبازی ختم کر دی جائے تو زندگی آسان ہو سکتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لاہور( ) وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے جامع مسجد علی حوزہ علمیہ جامعتہ المنتظر ماڈل ٹاون میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے معاملات زندگی میں میانہ روی اختیار کرنے کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے کہا ہے کہ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی عزت کا محافظ رہے، اپنی قدر کرے اور ہر انسان کا احترام کرے بلکہ ایسے لوگوں کو زیادہ احترام دے جویہ سمجھتے ہوں کہ ان کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ انسان اگر اپنی زندگی میں میانہ روی رکھے گا تو اس کو کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلانا پڑے گا۔

انہوں نے کہا مانگنے والے کی عزت نہیں رہتی لیکن دینے والے کو حکم ہے کہ وہ کسی سوالی کو خالی نہ موڑے ۔ان کا کہنا تھا کہ اگر انسان شوبازی کو ختم کر دے تو زندگی آسان ہو جائے گی، نبی اکرم اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کی حیات طیبہ سے ہمیں میانہ روی کا سبق ملتا ہے۔ پاکستان میںبہت سی معدنیات موجود ہیں لیکن ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم میانہ روی اختیار نہیں کرتے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان آج سر سے پاو ¿ں تک قرضوں میں جکڑا ہوا ہے۔

جامع علی مسجد حوزہ علمیہ جامعة المنتظرماڈل ٹاون میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے حافظ ریاض نجفی نے کہا اللہ جسے چاہتا ہے زیادہ دیتا ہے۔ تجربے کی بات ہے کتنے ایسے لوگ تھے جن کے پاس بہت مال تھا، اب وہ نہیں رہا ۔کتنے ایسے تھے جو فقر و فاقہ میں تھے اور آج وہ کروڑوں کے مالک ہیں۔

آیت اللہ حافظ ریاض نجفی نے کہا جس کو اللہ تعالیٰ نے پیسہ دیا ہے، اس میں وسعت صدر ہونی چاہیے ۔جبکہ جس کے پاس پیسہ نہیں، اس کو میانہ روی اختیار کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا اپنے بجٹ میں ایک حصہ غرباءو فقراءکی رکھا جائے تاکہ عیال اللہ کی مدد کر کے ذخیرہ بنا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس وقت انسان مرتا ہے تو دو قسم کی آوازیں ہوتی ہیں، ایک فرشتوں کی کہ کیا لے کر آرہا ہے، دوسرے انسانوں کی کہ کیا چھوڑ کر جا رہا ہے۔ انسان کو آئندہ کی تیاری ضرور کرنی چاہیے، تاکہ جب آگے جائے تو اس سے پہلے اعمال کی صورت میں کچھ موجود ہو۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha