حوزہ نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی سروس کے مطابق، سعودی عرب کی تاریخ صرف بادشاہوں کی تبدیلی اور اقتدار کی منتقلی کی داستان نہیں، بلکہ یہ سیاسی اتحادوں، طاقت کے استعمال، اندرونی کشمکش اور علاقائی اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششوں کی تاریخ بھی ہے۔ آج محمد بن سلمان کے دور میں سعودی عرب ایک طرف ترقی اور جدیدیت کے بڑے دعوے کر رہا ہے تو دوسری طرف یمن کی جنگ، مخالف آوازوں کو دبانے، شاہی خاندان کے اندر اختلافات اور اربوں ڈالر کے منصوبوں پر مسلسل سوالات اٹھ رہے ہیں۔
عبدالعزیز بن حبتور نے اپنے ایک مضمون میں آل سعود کے اقتدار کی تاریخ اور محمد بن سلمان کی حکمرانی کا جائزہ لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت کے قیام سے لے کر آج تک اقتدار کو مضبوط بنانے کے لیے سیاسی اتحادوں اور مذہبی قوتوں کا سہارا لیا جاتا رہا ہے۔
سعودی عرب میں شاہ عبدالعزیز کے بعد اقتدار ان کے بیٹوں کے درمیان منتقل ہوتا رہا۔ اس خاندان میں عموماً بڑے بھائی کے بعد چھوٹے بھائی کو بادشاہ بنایا جاتا تھا، لیکن شاہ سلمان نے اس روایت کو بدلتے ہوئے اپنے بیٹے محمد بن سلمان کو ولی عہد مقرر کردیا۔ اس فیصلے کے بعد اقتدار کی منتقلی کا پرانا طریقہ ختم ہوگیا اور شاہی خاندان میں طاقت کا مرکز ایک نئی صورت اختیار کرگیا۔
یمن کی جنگ؛ فوری کامیابی کا وعدہ اور طویل بحران
محمد بن سلمان نے اقتدار سنبھالنے کے ابتدائی دور میں یمن کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی۔ اس وقت دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ جنگ چند ہفتوں یا مہینوں میں ختم ہوجائے گی، لیکن یہ جنگ طویل ہوتی چلی گئی۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود یمن اس جنگ کے اثرات سے باہر نہیں آسکا۔ ہزاروں انسانوں کی جانیں گئیں، شہر اور بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوا اور ملک شدید معاشی بحران سے دوچار ہوگیا۔
اس جنگ پر سعودی عرب نے بھاری رقم خرچ کی، لیکن اس کے نتائج اور کامیابی کے حوالے سے آج بھی سوالات موجود ہیں۔ دوسری طرف اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدوں کے باوجود سعودی عرب اپنی سلامتی کے لیے امریکہ کی مدد کا محتاج ہے۔
شاہی خاندان میں گرفتاریوں کا سلسلہ
2017ء میں محمد بن سلمان کے دور میں شاہی خاندان کے متعدد شہزادوں اور بڑی کاروباری شخصیات کو ریاض کے رٹز کارلٹن ہوٹل میں نظر بند کردیا گیا۔ حکومت نے اس کارروائی کو بدعنوانی کے خلاف مہم قرار دیا، لیکن ناقدین کا کہنا تھا کہ اس کے ذریعے اقتدار کے ممکنہ حریفوں کو راستے سے ہٹایا گیا اور گرفتار افراد پر اپنے اثاثوں کا ایک حصہ حکومت کے حوالے کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔
اسی دور میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کا استنبول میں سعودی قونصل خانے کے اندر قتل ایک بڑا عالمی معاملہ بن گیا۔ اس واقعے نے سعودی حکومت کو بین الاقوامی سطح پر سخت تنقید کا سامنا کرنے پر مجبور کردیا۔
ترقی کے دعوے اور زمینی حقیقت
محمد بن سلمان نے سعودی عرب کو جدید ملک بنانے کے لیے وژن 2030ء اور نیوم جیسے بڑے منصوبے پیش کیے۔ ان منصوبوں کے ذریعے معیشت کو تیل پر انحصار سے نکالنے، سیاحت کو فروغ دینے اور ملک کو عالمی سرمایہ کاری کا مرکز بنانے کا وعدہ کیا گیا۔ تاہم ان منصوبوں پر ہونے والے بھاری اخراجات اور ان کے عملی نتائج کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب ملک میں موسیقی، تفریحی پروگراموں اور ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے، لیکن حکومت پر تنقید کرنے والے علمائے دین اور دیگر شخصیات کے خلاف کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ اس صورت حال نے حکومتی پالیسیوں میں آزادی اور پابندی کے درمیان تضاد کو نمایاں کیا ہے۔
امریکہ کے ساتھ سعودی عرب کے قریبی تعلقات، ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ سعودی عرب پر ہونے والے بھاری اخراجات اور خطے کے معاملات میں واشنگٹن پر انحصار بھی اس پالیسی کا اہم حصہ ہیں۔
مجموعی طور پر محمد بن سلمان کا دور بڑے منصوبوں، معاشی تبدیلی کے دعووں اور سیاسی و سماجی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ کئی ایسے سوالات بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے جن کا تعلق یمن کی جنگ، انسانی حقوق، شاہی خاندان کی اندرونی سیاست اور سعودی عرب کی حقیقی خودمختاری سے ہے۔










آپ کا تبصرہ