تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
ایٹمی طاقت بننا کوئی شرف نہیں، لیکن کسی قوم کو اس کے جائز سائنسی حقوق سے محروم رکھنا، اس کی ترقی کی راہیں مسدود کرنا اور اسے دوسروں کا دست نگر بنانے کی کوشش کرنا بھی کسی مہذب عالمی نظام کی علامت نہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ایران ایٹم بم بنائے یا نہ بنائے؛ اصل سوال یہ ہے کہ دنیا کی بعض طاقتیں ایران کے سائنسی پروگرام کے معاملے میں اس قدر حساس کیوں ہیں کہ اس کے ہر قدم کو عالمی سلامتی کا مسئلہ بنا کر پیش کرتی ہیں، جب کہ خود ان کے پاس ہزاروں تباہ کن جوہری ہتھیار موجود ہیں؟
کیا واقعی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی تشویش کا بنیادی سبب ایٹمی ہتھیاروں کا پھیلاؤ ہے، یا اس کے پس منظر میں ایک ایسی قوم کی خودمختاری، سائنسی ترقی اور سیاسی آزادی کا خوف بھی موجود ہے جو مغربی دباؤ کے باوجود اپنے راستے کا انتخاب کرنے پر اصرار کرتی ہے؟
اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ایران کے معاملے کو محض جوہری ٹیکنالوجی کی بحث تک محدود نہ رکھا جائے۔ اسے عالمی طاقت کے ڈھانچے، استعمار کی تاریخ، اقتصادی مفادات اور ترقی پذیر دنیا کے مستقبل کے تناظر میں دیکھا جائے۔
ایران کا اصل جرم کیا ہے؟
ایران کا بنیادی مؤقف یہ رہا ہے کہ اسے پُرامن جوہری ٹیکنالوجی حاصل کرنے اور سائنسی ترقی کرنے کا حق حاصل ہے۔ یہ حق محض ایران کا دعویٰ نہیں؛ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت اس کے فریق ممالک کو معاہدے کی متعلقہ دفعات اور حفاظتی انتظامات کے تابع پُرامن جوہری توانائی کی تحقیق، پیداوار اور استعمال کا حق حاصل ہے۔
اس حق اور جوہری ہتھیار بنانے کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔ کسی ملک کا یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت رکھنا بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ ایٹم بم بنانے کا فیصلہ کر چکا ہے۔ اسی طرح پُرامن جوہری پروگرام کے بارے میں اٹھنے والے سوالات کو نظر انداز کرنا بھی درست نہیں۔ کسی پروگرام کی نوعیت اور متعلقہ معاہداتی ذمہ داریوں کا تعین شواہد، نگرانی اور قابلِ تصدیق معلومات کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ محض سیاسی الزامات کی بنیاد پر۔
یہاں ایران کے مؤقف کی مضبوطی اس بات میں ہے کہ وہ اپنی سائنسی خودمختاری کو بیرونی طاقتوں کی غیر محدود اجازت سے مشروط کرنے پر آمادہ نہیں۔ وہ اس اصول کا دفاع کرتا ہے کہ ترقی پذیر ممالک بھی جدید سائنس، توانائی، طب اور صنعت کے میدان میں آگے بڑھ سکتے ہیں اور انہیں محض اس وجہ سے پیچھے نہیں رکھا جا سکتا کہ ان کی سیاسی ترجیحات واشنگٹن یا کسی دوسرے دارالحکومت سے مطابقت نہیں رکھتیں۔
یہاں ایک بنیادی اصول واضح ہونا چاہیے: بین الاقوامی معاہدوں کی پابندی ضروری ہے، لیکن ان معاہدوں کو کسی قوم کی سائنسی ترقی روکنے کا آلہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
ایران کے پروگرام کے ہر پہلو کا جائزہ شواہد اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی روشنی میں لیا جا سکتا ہے، لیکن کسی ملک کو جدید ٹیکنالوجی سے محروم رکھنے کی کوشش کو محض عالمی امن کے نام پر جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
استعمار صرف فوجوں سے نہیں آتا
استعمار کی پرانی شکل میں فوجیں آتی تھیں، زمینوں پر قبضہ کیا جاتا تھا، وسائل لوٹے جاتے تھے اور مقامی آبادی کو محکوم بنایا جاتا تھا۔ لیکن جدید دنیا میں بالادستی کے طریقے زیادہ پیچیدہ ہو چکے ہیں۔
اب کسی ملک پر براہِ راست قبضہ کیے بغیر بھی اسے اقتصادی پابندیوں، ٹیکنالوجی کی فراہمی پر قدغنوں، مالیاتی نظام تک محدود رسائی، تجارتی دباؤ اور سیاسی تنہائی کے ذریعے کمزور رکھا جا سکتا ہے۔
یہاں ایک فرق سمجھنا ضروری ہے۔ ہر بین الاقوامی پابندی یا ہر تجارتی ضابطہ لازماً استعماری منصوبہ نہیں ہوتا؛ بعض پابندیاں مخصوص قانونی یا سلامتی کے خدشات کے تحت عائد کی جاتی ہیں۔ لیکن جب اقتصادی دباؤ وسیع پیمانے پر عام شہریوں کی زندگی، صنعتی ترقی اور بنیادی ضروریات کو متاثر کرے، یا جب تکنیکی تعاون سیاسی وفاداری سے مشروط ہونے لگے، تو یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کیا عالمی طاقت کے ذرائع کو دوسروں کی ترقی محدود کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے؟
ترقی پذیر دنیا کے متعدد ممالک نے نوآبادیاتی دور کے بعد بھی ایسی صورت حال کا سامنا کیا ہے جس میں ان کی معیشتیں خام مال برآمد کرنے اور تیار شدہ مصنوعات درآمد کرنے تک محدود رہیں۔ ٹیکنالوجی، سرمایہ، صنعتی مشینری اور اعلیٰ درجے کی تحقیق کے لیے انہیں بیرونی ممالک پر انحصار کرنا پڑا۔
اس انحصار کے نتائج صرف تجارتی خسارے تک محدود نہیں رہتے۔ جب کسی ملک کے پاس اپنی ٹیکنالوجی، صنعتی بنیاد اور تحقیق کے وسائل نہ ہوں تو اس کی سیاسی آزادی بھی بعض اوقات اقتصادی مجبوریوں کے سامنے کمزور پڑ جاتی ہے۔
ایسے ماحول میں ایران کی خودکفالت کی کوششوں کو ایک وسیع تر تاریخی تناظر میں سمجھنا چاہیے۔ ایران کی اہمیت صرف اس کے جوہری پروگرام میں نہیں، بلکہ اس کوشش میں بھی ہے کہ وہ پابندیوں کے باوجود اپنی سائنسی، صنعتی اور دفاعی صلاحیتیں برقرار رکھے اور بیرونی دباؤ کے سامنے اپنے فیصلوں کا اختیار محفوظ رکھے۔
جو قوم اپنے لیے علم پیدا نہیں کرتی، اسے اکثر دوسروں سے علم خریدنا پڑتا ہے؛ اور جو قوم ہر اہم ضرورت کے لیے دوسروں کی محتاج ہو، اس کی سیاسی آزادی بھی مستقل دباؤ میں رہ سکتی ہے۔
یہی وہ حقیقت ہے جسے ترقی پذیر دنیا کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
کیا مغربی طاقتیں نہیں چاہتیں کہ مشرقی اور افریقی ممالک ترقی کریں؟
اس سوال کا جواب جذباتی تعمیم کے بجائے تاریخی اور معاشی تجزیے سے دینا چاہیے۔
یہ کہنا درست نہیں کہ امریکہ یا ہر مغربی ملک کا ہر اقدام صرف اس مقصد کے لیے ہوتا ہے کہ مشرقی اور افریقی ممالک ترقی نہ کریں۔ ان ممالک کے ساتھ تجارت، تعلیم، سرمایہ کاری اور سائنسی تعاون کی بہت سی مثالیں بھی موجود ہیں۔ خود مغربی معاشروں میں ایسے ادارے، محققین اور سیاسی حلقے موجود ہیں جو ترقی پذیر دنیا کی ترقی کے حامی ہیں۔
لیکن یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ نوآبادیاتی نظام نے ایشیا اور افریقہ کے متعدد خطوں کی معیشتوں کو استعماری مفادات کے مطابق ڈھالا۔ قدرتی وسائل کا استحصال، مقامی صنعتوں کی کمزوری اور عالمی تجارت میں غیر مساوی حیثیت نے ان خطوں کی ترقی پر دیرپا اثرات مرتب کیے۔
نوآبادیاتی دور ختم ہونے کے بعد بھی بعض اقتصادی اور سیاسی تعلقات میں طاقت کا عدم توازن برقرار رہا۔ بڑی معیشتوں کو مالیاتی اداروں، عالمی منڈیوں، جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے ذرائع تک نسبتاً زیادہ رسائی حاصل رہی، جب کہ کمزور معیشتوں کو متعدد رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔
اس لیے بنیادی سوال یہ نہیں کہ مغرب کبھی کسی ترقی پذیر ملک کی مدد کرتا ہے یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ کیا عالمی اقتصادی نظام ترقی پذیر ممالک کو اپنی صنعتی بنیاد، تحقیقی صلاحیت اور تکنیکی خودمختاری پیدا کرنے کے یکساں مواقع فراہم کرتا ہے؟
اگر کسی ملک کو جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کے لیے مستقل طور پر سیاسی شرائط قبول کرنا پڑیں، اگر اس کی صنعتی ترقی بیرونی پابندیوں کے رحم و کرم پر ہو اور اگر اس کے اپنے وسائل سے پیدا ہونے والی آمدنی بھی عالمی مالیاتی دباؤ کے باعث محدود ہو جائے تو اس کی خودمختاری کا عملی مفہوم کمزور پڑ سکتا ہے۔
ایران کے معاملے میں یہی سوال خاص اہمیت رکھتا ہے۔
ایران کی قیادت کا بنیادی اصرار یہ رہا ہے کہ ملک کو اپنی سائنسی اور صنعتی ترقی کے لیے دوسروں کی سیاسی منظوری کا محتاج نہیں ہونا چاہیے۔ اس موقف کو محض مغرب دشمنی کہہ کر رد کرنا آسان ہے، لیکن اس کے پیچھے موجود قومی خودمختاری اور تکنیکی خودکفالت کے سوالات کو نظر انداز کرنا آسان نہیں۔
ایران کی اصل طاقت: صبر، ہمت اور ثابت قدمی
ایران کے معاملے میں ایک اہم پہلو اس کی طویل مدتی ثابت قدمی ہے۔
کئی دہائیوں سے ایران کو اقتصادی پابندیوں، سفارتی دباؤ، علاقائی کشیدگی اور فوجی خطرات کا سامنا رہا ہے۔ ان حالات نے ایرانی معیشت اور عام شہریوں کی زندگی پر حقیقی بوجھ ڈالا ہے۔ اس کے باوجود ایران نے اپنے سائنسی، تعلیمی، صنعتی اور دفاعی پروگراموں کو برقرار رکھنے اور متعدد شعبوں میں مقامی صلاحیت پیدا کرنے کی کوشش جاری رکھی ہے۔
کسی قوم کی قوت کا اندازہ صرف اس کے ہتھیاروں یا فوجی بجٹ سے نہیں لگایا جاتا۔ اس کی ایک اہم علامت یہ بھی ہے کہ وہ مسلسل دباؤ کے باوجود اپنے بنیادی اداروں، سائنسی صلاحیتوں اور قومی ترجیحات کو کس حد تک برقرار رکھ سکتی ہے۔
ایران کی اس جدوجہد میں تعریف کے قابل پہلو موجود ہیں۔
اس نے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ اقتصادی پابندیاں کسی قوم کے علم حاصل کرنے، اپنی صنعت کو ترقی دینے اور سائنسی میدان میں آگے بڑھنے کے عزم کو لازماً ختم نہیں کر سکتیں۔ اس نے اپنی قومی سلامتی اور جوہری خودمختاری کے معاملات کو محض بیرونی دباؤ کے سامنے چھوڑنے سے انکار کیا ہے۔
یہ ثابت قدمی اپنی جگہ قابلِ توجہ ہے، اگرچہ اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ضروری ہے کہ پابندیوں کی قیمت ایرانی عوام نے بھی ادا کی ہے۔ اقتصادی مشکلات، مہنگائی اور تجارتی رکاوٹوں نے عام شہریوں کو متاثر کیا ہے۔ کسی بھی قومی پالیسی کی کامیابی کا جائزہ لیتے وقت عوامی فلاح کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ایران کی اصل کامیابی اس وقت مزید نمایاں ہوگی جب وہ اپنی سائنسی اور صنعتی خودمختاری کو عام شہریوں کی خوش حالی، معاشی استحکام اور بہتر معیارِ زندگی میں بھی تبدیل کر سکے۔
صبر کا مطلب صرف مصیبت برداشت کرنا نہیں؛ صبر کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ قوم مشکلات کے باوجود اپنے مقصد، اپنی عقل اور اپنے مستقبل کے شعور کو زندہ رکھے۔
ایران کی جدوجہد کو اسی پیمانے پر دیکھا جانا چاہیے۔
امریکہ کے لیے مسئلہ صرف ایٹم بم نہیں، طاقت کا بدلتا ہوا توازن بھی ہے
یہ کہنا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ایران کے ایٹمی ہتھیار سے کوئی خطرہ نہیں، ایک غیر ثابت شدہ دعویٰ ہوگا۔ اگر کسی ملک کے پاس جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت پیدا ہونے کا خدشہ ہو تو اس سے متعلق حقیقی سلامتی کے سوالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ کسی بھی ملک کی حکومت اپنے شہریوں اور اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے بارے میں تشویش ظاہر کر سکتی ہے۔
لیکن مسئلے کا دوسرا پہلو بھی ہے، جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
ایران کی اہمیت صرف اس کے جوہری پروگرام تک محدود نہیں۔ وہ توانائی کے وسائل، جغرافیائی محلِ وقوع، علاقائی اثر و رسوخ، سائنسی صلاحیت اور صنعتی خودکفالت کی کوششوں کے باعث بھی اہم ہے۔ اس کی ترقی مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے اور اسے بعض بین الاقوامی معاملات میں زیادہ آزادانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت دے سکتی ہے۔
یہاں یہ امکان موجود ہے کہ ایران کے بارے میں بعض مغربی پالیسی سازوں کی تشویش صرف جوہری عدم پھیلاؤ تک محدود نہ ہو، بلکہ اس میں علاقائی طاقت کے توازن، امریکی اثر و رسوخ اور ایران کی بڑھتی ہوئی خودمختاری سے متعلق خدشات بھی شامل ہوں۔
یہ ایک معقول تجزیاتی مفروضہ ہے، جسے مخصوص پالیسیوں، سرکاری بیانات اور تاریخی شواہد کی بنیاد پر پرکھا جانا چاہیے؛ اسے ہر مغربی اقدام کے پیچھے واحد اور ثابت شدہ مقصد قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
تاہم ایک سوال ضرور اٹھتا ہے: اگر ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن اور قابلِ تصدیق حدود میں ہو، تب بھی کیا امریکہ اور ایران کے درمیان تمام بنیادی اختلافات ختم ہو جائیں گے؟
غالباً نہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات میں علاقائی سلامتی، پابندیاں، سیاسی اثر و رسوخ، اسرائیل، توانائی اور مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل جیسے متعدد معاملات شامل ہیں۔
یہ حقیقت اس بحث کو وسیع کرتی ہے۔ ایران اور امریکہ کے تنازعے کو صرف ایٹمی بم کے سوال میں سمیٹ دینا اس کے سیاسی اور تاریخی اسباب کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہوگا۔
ٹیکنالوجی کی آزادی: ایران کا سب سے اہم امتحان
کسی بھی قوم کے لیے جدید ٹیکنالوجی میں ترقی محض معاشی کامیابی نہیں، بلکہ قومی خودمختاری کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔
جو ملک اپنی ادویات تیار کر سکتا ہو، اپنی صنعتی مشینری بنا سکتا ہو، اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ خود پورا کر سکتا ہو اور جدید سائنسی تحقیق میں حصہ لے سکتا ہو، وہ عالمی منڈی میں نسبتاً مضبوط حیثیت رکھتا ہے۔
اس کے برعکس جو ملک بنیادی صنعتی ضروریات کے لیے بھی بیرونی سپلائرز پر منحصر ہو، اسے قیمتوں، برآمدی پابندیوں، سیاسی دباؤ اور عالمی بحرانوں کا زیادہ سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایران نے پابندیوں کے ماحول میں بعض شعبوں میں مقامی صلاحیت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس تجربے سے ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک اہم سبق نکلتا ہے: قومی ترقی کا پائیدار راستہ صرف بیرونی سرمایہ کاری یا تیار شدہ مصنوعات کی درآمد سے نہیں بنتا؛ اس کے لیے تعلیم، تحقیق، مقامی صنعت، ہنرمندی، ادارہ جاتی شفافیت اور طویل مدتی سرمایہ کاری ضروری ہیں۔
تاہم خودکفالت کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر چیز ملک کے اندر ہی تیار کی جائے یا بین الاقوامی تعاون سے اجتناب کیا جائے۔ جدید سائنس کی ترقی اکثر بین الاقوامی تحقیق، علم کے تبادلے اور مشترکہ منصوبوں سے تیز ہوتی ہے۔
اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ بیرونی تعاون ترقی کا ذریعہ بنے، دائمی انحصار کا نہیں۔
ایران کی خودمختاری کی جدوجہد کا سب سے قابلِ دفاع پہلو یہی ہے کہ وہ اپنے ملک کی سائنسی اور صنعتی بنیاد مضبوط بنانے کی کوشش کرتا ہے۔
اگر کسی قوم کو اپنی صلاحیت بڑھانے کی سزا اقتصادی پابندیوں، سیاسی تنہائی یا فوجی دھمکیوں کی صورت میں ملے تو عالمی برادری کو اس پالیسی کے جواز اور نتائج پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
عراق اور لیبیا کا سبق: وعدوں سے زیادہ ضمانتیں ضروری ہیں
ایران کے خدشات کو سمجھنے کے لیے عراق اور لیبیا کی تاریخ اہم ہے، اگرچہ دونوں کی صورت حال ایران سے مختلف تھی۔
سنہ ۲۰۰۳ء میں عراق پر امریکی قیادت میں حملہ کیا گیا، جس کا ایک اہم جواز وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے خطرے کو بنایا گیا تھا۔ بعد میں وہ فعال ذخائر نہیں ملے جن کی بنیاد پر جنگ کے جواز کو پیش کیا گیا تھا۔
لیبیا نے سنہ ۲۰۰۳ء میں اپنے خفیہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو ترک کرنے کا اعلان کیا، لیکن سنہ ۲۰۱۱ء میں داخلی بغاوت اور خانہ جنگی کے دوران نیٹو کی فوجی مداخلت نے قذافی حکومت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔
ان واقعات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جوہری ہتھیار رکھنے سے ہر ملک محفوظ رہتا ہے یا ان سے دست برداری ہی کسی حکومت کے خاتمے کی وجہ بنتی ہے۔ لیکن ان سے یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کیا بین الاقوامی وعدے اور سفارتی معاہدے کسی ملک کی سلامتی کے لیے کافی ہیں، اگر ان کے ساتھ قابلِ اعتماد ضمانتیں موجود نہ ہوں؟
ایران کے نقطۂ نظر سے یہ سوال محض نظری نہیں۔ اگر کسی ریاست کو یہ محسوس ہو کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کے بارے میں رعایتیں دے سکتی ہے، لیکن اس کے باوجود اس کی خودمختاری کو فوجی خطرات لاحق رہیں گے، تو اس کے لیے اپنے دفاعی فیصلوں پر نظرثانی کرنا ایک قابلِ فہم سیاسی ردِعمل ہے۔
یہاں عالمی طاقتوں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ اگر وہ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنا چاہتی ہیں تو انہیں ایسی سفارت کاری اختیار کرنی چاہیے جو محض یک طرفہ مطالبات پر نہیں، بلکہ باہمی ذمہ داریوں، معاہدوں کی پابندی اور قابلِ اعتماد سلامتی کی ضمانتوں پر قائم ہو۔
ایران کی بردباری کا اصل مفہوم
ایران کے رویے کی تعریف کرتے وقت ایک اہم فرق ملحوظ رہنا چاہیے: بردباری کا مطلب ہر اقدام پر خاموش رہنا نہیں، اور نہ ہی صبر کا مطلب اپنی خودمختاری سے دست بردار ہو جانا ہے۔
ایک ذمہ دار ریاست کو اپنی سلامتی کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن ذمہ داری کا تقاضا یہ بھی ہے کہ وہ بحران کو ایسے راستے پر نہ لے جائے جہاں غلط فہمی، اشتعال یا جلد بازی کے نتیجے میں پورا خطہ تباہ کن تصادم کی طرف بڑھ جائے۔
ایران کی پالیسی کا قابلِ تحسین پہلو وہاں سامنے آتا ہے جہاں وہ اپنے قومی حقوق پر اصرار کرتے ہوئے سفارتی امکانات کو مکمل طور پر ختم کرنے سے گریز کرے، اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھے اور بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے قابلِ عمل راستوں کو کھلا رکھے۔
یہی حقیقی بردباری ہے: اپنے مؤقف پر قائم رہنا، مگر ہر اختلاف کو جنگ میں تبدیل نہ ہونے دینا؛ اپنے حقوق کا دفاع کرنا، مگر اپنی قوت کو ذمہ داری کے تابع رکھنا؛ اور دباؤ کا مقابلہ کرنا، مگر اپنے عوام کے مستقبل کو محض انتقامی فیصلوں کے حوالے نہ کر دینا۔
ایران کی تعریف اسی بنیاد پر ہونی چاہیے کہ وہ اپنی خودمختاری، سائنسی ترقی اور قومی سلامتی کے سوالات کو مستقل اہمیت دیتا ہے۔ اس کی ہر پالیسی سے اتفاق ضروری نہیں، لیکن اس کے جائز حقوق اور اس کے عوام کی سلامتی کو نظر انداز کرنا بھی انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں۔
ایٹم بم نہیں، منصفانہ عالمی نظام اصل ضرورت ہے
ایٹمی ہتھیاروں کا سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ ان کے حامی انہیں جنگ روکنے کا ذریعہ قرار دیتے ہیں، لیکن ان کی موجودگی خود انسانیت کو غیر معمولی تباہی کے خطرے میں رکھتی ہے۔
اسی لیے ایران کے معاملے کا پائیدار حل یہ نہیں کہ دنیا ایک اور جوہری طاقت کے اضافے کو معمول کی بات سمجھ لے۔ اصل حل یہ ہے کہ ایران کو اپنی سلامتی کے بارے میں قابلِ اعتماد یقین دہانیاں حاصل ہوں، اسے پُرامن جوہری ترقی کے جائز حقوق استعمال کرنے کا موقع ملے اور اس کے خلاف فوجی دھمکیوں اور یک طرفہ دباؤ کی سیاست کی جگہ قانون اور سفارت کاری کو دی جائے۔
ساتھ ہی ایران پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کی نوعیت کے بارے میں قابلِ تصدیق وضاحت فراہم کرے، اپنے بین الاقوامی معاہداتی فرائض کی پابندی کرے اور اپنے دفاعی اقدامات کو خطے کے امن اور اپنے شہریوں کی فلاح کے ساتھ ہم آہنگ رکھے۔
ایک منصفانہ عالمی نظام وہ نہیں جس میں صرف طاقت ور ممالک کو اپنی سلامتی، سائنسی ترقی اور دفاعی ترجیحات کا تعین کرنے کا اختیار حاصل ہو۔ منصفانہ نظام وہ ہے جس میں ہر ریاست کو یکساں اصولوں کے تحت اپنے جائز حقوق استعمال کرنے اور اپنی خودمختاری محفوظ رکھنے کا موقع ملے۔
ایران کا معاملہ اس اصول کی آزمائش ہے۔
اگر امریکہ اور اس کے اتحادی واقعی امن کے خواہاں ہیں تو انہیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کی مخالفت ایران کی ترقی، اس کی سائنسی خودمختاری یا اس کے آزادانہ سیاسی فیصلوں سے نہیں، بلکہ مخصوص اور قابلِ تصدیق سلامتی کے خدشات سے متعلق ہے۔ یہ وضاحت محض بیانات سے نہیں، بلکہ معاہدوں کی پابندی، دوہرے معیار کے خاتمے اور قابلِ اعتماد سفارت کاری سے ممکن ہوگی۔
ایران ایک مضبوط، خودمختار اور ترقی یافتہ ریاست ہے، جس نے اپنی سائنسی صلاحیتوں، اقتصادی خودکفالت، صنعتی ترقی اور دفاعی قوت کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ مسلسل پابندیاں، سیاسی دباؤ اور فوجی دھمکیاں کسی باعزم قوم کے عزم کو شکست نہیں دے سکتیں۔ اس کی کامیابی کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ اس نے اپنی ترقی کو بیرونی طاقتوں کی مرضی کا پابند بنانے سے انکار کیا اور اپنی قومی صلاحیتوں پر بھروسا کرتے ہوئے آگے بڑھنے کا راستہ اختیار کیا۔ ایران کی ثابت قدمی، صبر، حوصلہ اور خودمختاری کا یہی شعور اسے ان ممالک سے ممتاز کرتا ہے جو اپنی بنیادی ضروریات اور ترقی کے اہم وسائل کے لیے بڑی طاقتوں کے دست نگر ہیں۔ اس کی اصل قوت محض عسکری صلاحیت میں نہیں، بلکہ اس قومی ارادے میں بھی ہے جو پابندیوں کے باوجود علم، تحقیق، صنعت اور دفاع کے میدانوں میں اپنی راہ خود متعین کرتا ہے۔
ایران کی عظمت کسی ایٹمی دھماکے میں نہیں؛ اس کی اصل عظمت اس صلاحیت میں ہے کہ وہ دباؤ کے باوجود اپنے علم، اپنے اداروں، اپنے عوام اور اپنے مستقبل کو محفوظ رکھ سکے۔
جو قوم اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت پیدا کر لے، اسے کمزور کرنے کے لیے صرف پابندیاں کافی نہیں ہوتیں۔ لیکن جو قوم اپنی آزادی کو عوامی خوش حالی، علمی ترقی اور ذمہ دارانہ حکمرانی میں تبدیل نہ کر سکے، اس کی خودمختاری بھی ادھوری رہ جاتی ہے۔
ایران کی جدوجہد کا حقیقی امتحان یہی ہے: کیا وہ عالمی دباؤ کا مقابلہ کرتے ہوئے ایک ایسی ترقی یافتہ ریاست بن سکتا ہے جو اپنے حقوق کا دفاع بھی کرے، اپنے عوام کو خوش حال بھی بنائے اور اپنی طاقت کو جنگ کے بجائے علم، صنعت، وقار اور امن کے لیے استعمال کرے؟
یہی وہ کامیابی ہوگی جو کسی بھی ایٹمی ہتھیار سے کہیں زیادہ دیرپا، بامعنی اور قابلِ احترام ہوگی۔










آپ کا تبصرہ