حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اس موضوع پر حوزہ نیوز کی ایک تجزیاتی رپورٹ میں ماہرین نے کہا ہے کہ امام خمینیؒ اور رہبرِ شہید آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے نزدیک استکبار سے مراد صرف کوئی خاص ملک یا حکومت نہیں، بلکہ وہ ظالمانہ نظام ہے جو دوسری قوموں پر اپنی مرضی مسلط کرنا اور ان کے حقوق پامال کرنا چاہتا ہے۔
امام صادق علیہ السلام ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے علمی رکن ڈاکٹر مہدی اسلامی نے کہا کہ رہبرِ شہید انقلاب نے بارہا واضح کیا کہ عالمی طاقتوں کی ایران سے دشمنی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایران نے ظالم اور طاقتور ممالک کے سامنے جھکنے اور ان کے تابع رہنے سے انکار کیا ہے۔ ان کے مطابق، استکبار کے خلاف جدوجہد قرآنی تعلیمات پر مبنی ہے اور اسے کسی بھی صورت میں ختم نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ استکبار کے مقابلے میں کمزوری دکھانے کے بجائے اسلامی نظام کو اس قدر مضبوط اور طاقتور بنانا ضروری ہے کہ دشمن اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام ہو جائے۔ اس مقصد کے لیے نئی نسل کو استکبار کے حقیقی مفہوم اور اس کے طریقۂ کار سے آگاہ کرنا بھی ضروری ہے۔
ڈاکٹر اسلامی نے اس بات پر زور دیا کہ استکبار کے خلاف جدوجہد کو صرف نعروں تک محدود نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ اسے عدل و انصاف پر مبنی سیاسی، معاشی اور سماجی نظام کے ایک مضبوط نظریے کے طور پر پیش کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں فن، فلم اور ذرائع ابلاغ سے بھی مؤثر انداز میں فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی سطح پر ظلم اور استحصال کی حقیقت سامنے لائی جا سکے۔
حوزہ علمیہ کی مدرسہ اور محققہ نرجس شکرزادہ نے بھی کہا کہ رہبرِ شہید کی فکر میں استکبار کی نمایاں خصوصیات میں خود کو دوسروں سے برتر سمجھنا، حق قبول نہ کرنا، انسانی حقوق پامال کرنا، منافقانہ رویہ اختیار کرنا، جنگیں مسلط کرنا اور قوموں کے درمیان اختلافات پیدا کرنا شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ رہبرِ شہید نے برسوں پہلے استکبار کے خلاف جدوجہد کو کمزور پڑنے کے خطرے سے خبردار کیا تھا۔ ان کے مطابق، جب تک دنیا میں ظلم اور طاقت کے ذریعے دوسروں پر غلبہ حاصل کرنے والی قوتیں موجود ہیں، ان کے خلاف جدوجہد بھی جاری رہے گی۔
نرجس شکرزادہ نے مزید کہا کہ ۱۳ آبان (۴ نومبر) عالمی استکبار کے خلاف جدوجہد کے قومی دن کی حیثیت سے ایرانی قوم کے عزم اور ارادے کی علامت ہے۔ امام خمینیؒ کے شروع کردہ اس راستے کو رہبرِ شہید آیت اللہ خامنہ ای نے حکمت اور بصیرت کے ساتھ آگے بڑھایا اور قوم کو عزت و خودمختاری کی راہ دکھائی۔










آپ کا تبصرہ