حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرحوم آیت اللہ مصباح یزدی نے آیت اللہ العظمیٰ وحید خراسانی کے ساتھ اپنے جوانی کے زمانے کی ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ مجھے آیت اللہ وحید خراسانی کا ایک جملہ آج بھی یاد ہے۔ وہ تہران کے بازار میں خطاب کیا کرتے تھے۔ رات کے وقت مرحوم آیت اللہ خونساری کی نماز کے بعد مسجد میں ان کا خطاب ہوتا تھا۔ ہمیں ان سے بہت عقیدت تھی، اس لیے وہ جہاں بھی خطاب کے لیے جاتے، ہم بھی ان کے ساتھ وہاں پہنچ جاتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت میری عمر تقریباً 20 سال تھی، بلکہ شاید ابھی 20 سال بھی نہیں ہوئی تھی۔ ایک مرتبہ آیت اللہ وحید خراسانی نے فرمایا کہ اس دنیا میں ایک قانون ہے کہ ایک مخلوق دوسری مخلوق کی نشوونما کے لیے قربان ہوتی ہے۔
انہوں نے اس بات کو سمجھانے کے لیے باغیچے میں لگے ایک درخت کی مثال دی کہ درخت کی نشوونما کے لیے پانی، غذا اور مختلف غذائی اجزا استعمال ہوتے ہیں۔ یہ تمام چیزیں درخت کی پرورش اور اس کی ترقی کے لیے صرف ہو جاتی ہیں، گویا وہ اس درخت کی نشوونما کے لیے قربان ہوتی ہیں۔
آیت اللہ مصباح یزدی کے مطابق، آیت اللہ وحید خراسانی نے یہ مثال اس حقیقت کو سمجھانے کے لیے بیان کی کہ جو شخص خدا، دینِ خدا اور اس مقصد کی راہ میں شہید ہوتا ہے جس کے لیے اس نے اپنی جان قربان کی، وہ اسی مقصد کی قدر و منزلت حاصل کر لیتا ہے۔
انسان کی حقیقی قدر کس چیز میں ہے؟
مرحوم آیت اللہ مصباح یزدی نے اس سلسلے میں آیت اللہ وحید خراسانی کا سوال نقل کیا کہ انسان کی کتنی قدر و قیمت ہے؟ عام حالات میں انسان کی مالی قدر کا اندازہ اس دیت سے لگایا جاتا ہے جو اس کی موت کی صورت میں ادا کی جاتی ہے، لیکن انسان اس وقت حقیقی عظمت حاصل کرتا ہے جب وہ دین، خدا یا اولیائے الٰہی کی راہ میں اپنی جان قربان کرتا ہے اور ان کی قدر و منزلت حاصل کر لیتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انسان جس چیز کی راہ میں خود کو فنا کرتا ہے، اسی کی قدر و قیمت حاصل کر لیتا ہے۔ لہٰذا ہمیں غور کرنا چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کس مقصد کے لیے صرف کر رہے ہیں۔
بعض لوگ اپنی پوری زندگی پیٹ کی خاطر گزار دیتے ہیں اور ان کی تمام کوششیں کھانے پینے اور دنیاوی لذتوں کے حصول تک محدود رہتی ہیں۔ اگر انسان اپنی عمر اور زندگی کسی معمولی لذت کے حصول میں صرف کر دے تو اس کی قدر بھی اسی مقصد کے مطابق رہ جاتی ہے جس کے لیے اس نے اپنی زندگی لگا دی ہے۔
اس کے برعکس، اگر انسان دین کی راہ میں اپنی زندگی وقف کر دے اور اپنی پوری ہستی کو دین کی خدمت کے لیے صرف کرے تو وہ دین کی عظمت اور قدر و منزلت حاصل کر لیتا ہے۔
آیت اللہ مصباح یزدی نے آخر میں کہا کہ آیت اللہ وحید خراسانی کی یہ بات سنے ہوئے 60 سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، لیکن یہ جملہ آج بھی میرے ذہن میں محفوظ ہے۔ یہاں تک کہ مجھے وہ مقام بھی یاد ہے جہاں انہوں نے یہ بات بیان کی تھی۔










آپ کا تبصرہ