۱۸ آذر ۱۴۰۱ |۱۵ جمادی‌الاول ۱۴۴۴ | Dec 9, 2022
علامہ محمد امین شہیدی

علامہ محمد امین شہیدینے خطاب کرتے ہوئے کہا وہ انجمن طلباء اسلام کو محفلِ میلاد کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ محفل میں ہر مکتب فکر کے لوگ موجود ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق انجمن طلباء اسلام کے زیر اہتمام انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں محفلِ میلاد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے  سربراہ امت واحدہ پاکستان حجت الاسلام و المسلمین علامہ محمد امین شہیدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا وہ انجمن طلباء اسلام کو محفلِ میلاد کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ محفل میں ہر مکتب فکر کے لوگ موجود ہے۔

انہوں نے بانیان و حاضرینِ محفل کو مستقبل میں ایسی ہی محفلوں کا انعقاد کرانے اور آپس میں جڑے رہنے پر تاکید کی۔

انہوں نے کہا کہ اسلام مسلمانوں کو آپس میں محبت سے رہنے کے ساتھ ساتھ غیر مذہب کے پیروکاروں سے بھی اچھا سلوک روا رکھنے کا درس دیتا ہے تاہم مسلمانوں نے آج اسلام کی تعلیمات کو بھلا دیا ہے۔ وہ قرآن اور رسول ؐ سے محبت کی بات تو کرتے ہیں لیکن قرآن اور رسول ؐ کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے ۔ آج مسلمانوں کی مشکل یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے شدید ہو گئے ہیں جس کی وجہ فہمِ دین کا نہ ہونا ہے۔ آج دنیا میں جتنے بھی اسلامی ممالک ہیں وہ مختلف مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے ملک اور معاشرے کےلیے اسلام کو رول ماڈل نہیں بنایا بلکہ ترقی یافتہ ممالک کے انتظام و انصرام کو اپنے لیے رول ماڈل سمجھا ہے نتیجتًا مسلمان ممالک غیروں کے آگے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں۔

سربراہ امت واحدہ پاکستان کا کہنا تھا کہ  آج اگر کہیں جنگ ہو رہی ہے تو وہ مسلم ممالک میں ہو رہی ہے اس کی وجہ اسلام کے دشمن کا اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہونا ہے۔ یہ دشمنانِ اسلام کا ہی منصوبہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر مصروف رکھیں، اپنا اسلحہ بیچتے رہیں اور مسلمانوں کو ترقی، علم و دانش کے راستوں سے ہٹا کر تاریکیوں میں دھکیل دیں۔ آج مسلمان آپس میں لڑ نہ رہے ہوتے تو کشمیر اور فلسطین کی یہ حالت نہ ہوتی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ہم تقریبًا ہر روز مسلمانوں پر ظلم و ستم ہوتے دیکھ رہے ہیں لیکن کچھ نہیں کر سکتے لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم دینِ اسلام کی غایت و مقصد کو سمجھیں، اس پر عمل کریں، اور آپس میں متحد رہیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 1 =