۲ آبان ۱۳۹۹ | Oct 23, 2020
مولانا سید صفی حیدر زیدی

حوزہ/ رمضان المبارک میں انسان کی گمراہی سے پتہ چلتا ہے کہ انسان کا نفس بھی بہکانے میں شیطان سے پیچھے نہیں ۔ یہ نفس شیطان سے کم خطرناک نہیں ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لکھنو/ حضرت امام حسن مجتبیؑ اور حضرت امام علی رضاؑکی شہادت کی مناسبت سے بانی تنظیم المکاتب ہال میں مسجد علی نیوجرسی امریکہ کے مومنین کی جانب سے کی جانے والی دو روزہ مجالس عزا کی ریکارڈنگ ہوئی۔ دوسری مجلس جسکا آغاز مولانا محمد عباس معروفی نے تلاوت قرآن کریم سے کیا۔ سربراہ تنظیم المکاتب حجۃالاسلام والمسلمین مولانا سید صفی حیدر زیدی نے حدیث ثقلین کو سرنامہ کلام قرار دیتے ہوئے بیان کیا کہ فاصلہ کے ساتھ جو پیروی ہو وہ اطاعت و اتباع ہے اور جو پیروی بلا فاصلہ ہو وہ تمسک ہے انسان کو سب سے زیادہ  بہکانے والا شیطان ہے جیسا کہ قرآن کریم  میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ’’أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ ۖ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ‘‘  (اے اولاد آدم کیا تم سے یہ عہد نہیں لیا گیا کہ تم شیطان کی اطاعت نہیں کروگے، کیوں کہ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔ سورہ یس آیت ۶۰) شیطان انسان کو بہکاتا ہے اور اسکا ایک طریقہ یہ ہے کہ انسان کے دل میں حبّ اللہ کے مقابلہ میں جسکی محبت زیادہ ہوتی ہے اسی کے ذریعہ بہکاتا ہے، نہ فقط زندگی میں بلکہ موت کے وقت بھی  اسکی یہی کوشش ہوتی ہے اور یہی اسکا آخری حملہ ہوتا ہے کہ انسان پوری زندگی نیک اعمال میں گذارتا ہے اور آخری وقت راستہ سے ہٹ جاتا ہے۔ 

سربراہ تنظیم المکاتب نے فرمایا: یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب رمضان المبارک میں شیطان قید ہوتا ہے تو انسان کیوں گناہ انجام دیتا ہے؟ جب کے روایت میں ہے کی وہ قید رہتا ہے ایک بزرگ عالم نے اس سلسلہ میں فرمایا کہ رمضان المبارک میں انسان کی گمراہی سے پتہ چلتا ہے کہ انسان کا نفس بھی بہکانے میں شیطان سے پیچھے نہیں ۔ یہ نفس شیطان سے کم خطرناک نہیں ہے، تو آخر اسکا علاج کیا ہے؟ یہی حدیث ثقلین اسکا علاج ہے۔ اور ہمیں قرآن و اہلبیتؑ سے تمسّک کرنا ہے کیوں کہ اسلام و اہلبیتؑ ہم قدم ہیں۔ 

مولانا سید صفی حیدر زیدی نے کہا کہ یہ بات میں متعدد بار کہ چکا ہوں اور کہو ں گا کہ اس وقت تعلیم کا واحد ذریعہ مجلس عزا ہے، کتاب پڑھتے نہیں، بزرگ بول نہیں سکتے اور مولوی صاحب کو اجازت نہیں کہ وہ کچھ بتا سکیں تو واحد ذریعہ یہی منبر اور مجلس ہے۔ اب اس منبر کو تقسیم کرنا کہ مسجد کے منبر سے احکام بیان ہوں اور امام باڑہ کے منبر سے فضائل کیوں کہ جہالت کا شکار ہیں۔  منبر غدیر کی یادگار ہے تو کیا رسول اللہ ﷺ نے غدیر میں نماز و روزہ کا ذکر نہیں کیا اور کیا مسجد کے منبر سے فضائل اہلبیتؑ نہیں بیان کئے، لہذا جہاں دین کی بات ہو وہی منبر ہے اور جہاں اس سے ہٹ کر ہو تو وہ منبر نہیں جیسا کہ امام زین العابدینؑ نے دربار یزید میں رکھے منبر کو لکڑیاں کہا۔ 

سکریٹری تنظیم المکاتب نے کہا بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ امام حسنؑ نے صلح کیوں کی؟اور امام حسین علیہ السلام  نے جنگ کیوں کی؟ تو یہ عدم معرفت اور فقدان اعتماد کی دلیل ہےاور اعتماد کی کمی معرفت کی کمی سے بھی ہے افسوس ہے کہ دشمن کو بعض نام نہاد اور معترض شیعیوں سے زیادہ معرفت حاصل تھی کیوں کہ جب امیر شام کے لشکر نے صفین میں پانی پر قبضہ کر لیا تو خوش تھے یہ لوگ پیاس سے مر جائیں گے لیکن  اس کے بر خلاف جب گھاٹ پر امیرالمومنینؑ کا قبضہ ہوا تو لشکر شام نے اپنے امیر سے کہا کہ اب ہم پیاس سے مر جائیں گے تو اس نے کہا کہ ایسا نہیں ہے  یہ علیؑ ہیں  پانی بند نہیں کریں گے۔ یعنی دشمن کو بھی علیؑ پراعتماد تھا ۔ اگر ہم بھی اتنا اعتماد کر لیتے تو کبھی یہ سوال نہ کرتے کہ کیوں امام حسنؑ نےصلح کی اور کیوں امام حسینؑ نےجنگ ہوئی؟ کیوں روزہ واجب کیوں پردہ واجب کیوں نماز واجب کیوں حج واجب؟

بعد مجلس مولوی سید صفی حیدر رضوی (فاضل جامعہ امامیہ) نے نوحہ خوانی کی اور  نظامت کے فرائض مولانا سید علی مہذب خرد نقوی نے انجام دئیے۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
3 + 1 =