۸ تیر ۱۴۰۱ |۲۹ ذیقعدهٔ ۱۴۴۳ | Jun 29, 2022
ایم ڈبلیو ایم شعبہ خواتین لاہور

حوزہ/ مرکزی سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم وومن ونگ و ایم پی اے سیدہ زہرا نقوی صاحبہ نے کہا کہ معاشرے کو سنوارنے میں خواتین کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے، صراط مستقیم پر چلنے کے لیے اہل بیت علیہم السلام کے نقش پا پر چلنا لازمی ہے جنہوں نے دین اور دنیا کو ساتھ ساتھ لے کر چلنے کے اصول ہمیں سمجھا دیے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین لاہور کی جانب سے تربیتی دروس کے سلسلے کی دوسری نشست آج وحدت ہاوس لاہور میں منعقد ہوی جس میں ضلعی کابینہ سمیت تمام یونٹس کی کابینہ نے شرکت کی پروگرام کی پہلی نشست میں مجلس وحدت مسلمین کے رکن شوری عالی علامہ سید مبارک علی موسوی نے مکافات عمل کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی۔

انہوں نے کہا کہ زندگی میں ہمیں جن مشکلات کا سامنا ہوتا ہے وہ دراصل ہم سے سرزرد شدہ گناہوں کی بدولت ہوتی ہیں یعنی انسان گناہ کر کے اپنے ہاتھوں سے مصیبت کماتا ہے خدا کا کام رحمت بانٹنا ، خیر بانٹنا ھے جبکہ شر اور مصیبت انسان کے اپنے گناہوں کی بدولت ھے انہوں نے قرآنی آیات اور احادیث و روایات کی روشنی میں گناہ کے انسانی زندگی پر عجیب اور پیچیدہ اثرات بیان کیے اور کہا زمین میں خشکی و خشک سالی ، دریاوں میں تلاطم ، بارش کا نہ برسنا ،ناگہانی اموات ، رزق میں کمی ، نا اتفاقی ، ناچاقی ، بلا ، اور عمر میں کمی جیسے تمام مسائل کی جڑ  اور وجہ گناہ ہے۔ 

نشست کے دوسرے حصے میں مرکزی سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم وومن ونگ و ایم پی اے سیدہ زہرا نقوی صاحبہ نے شرکاء سے اخلاقی تربیت کے عنوان سے خطاب کیا انہوں نے کہا کہ معاشرے کو سنوارنے میں خواتین کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے ان کا کہنا تھا صراط مستقیم پر چلنے کے لیے اہل بیت علیھم السلام کے نقش پا پر چلنا لازمی ہے جنہوں نے دین اور دنیا کو ساتھ ساتھ لے کر چلنے کے اصول ہمیں سمجھا دیے ہیں انھوں نے بیان کیا کہ جناب سیدہ فاطمة الزہرا سلام اللہ علیھا جو کہ تمام عالمین کی عورتوں کی سردار ہیں نے ایک با مشقت زندگی گزاری ایک بیٹی ، بیوی اور ماں کی حیثیت سے انھوں نے جو کردار نبھایا اس میں ہماری عائلی زندگی کی زمہ داری نبھانے کے قیمتی اصول پوشیدہ ہیں انہوں نے کہا کہ جناب زہرا سلام اللہ علیھا نے نہ صرف اپنے گھر میں مثالئ زندگی گزاری بلکہ جب دین پر آنچ آئ تو صف اول میں نظر آئیں اور یہی کردار ہمارا ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خدا کی عطا کردہ توفیق سے ہم ایک الہئ جماعت کی کارکن ہیں ہم نے گھروں میں رہ کر اپنی زمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھانا ھے لیکن جب ضرورت پڑے تو اپنے گھروں سے نکل کر زینبی کردار ادا کرنا ھے نا صرف یہ کہ ہم اپنے گھروں میں ایک مثالی ماحول قائم کریں بلکہ معاشرے کی اصلاح اور تربیت کے لیے بھی اپنا مثبت کردار پیش کریں کیونکہ کوئ بھی تحریک یا معاشرہ خواتین کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتا۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
1 + 15 =